متلاشی مر گئی ۔ ۔ ۔۔

متلاشی کل مر گئی ، وہ کون تھی کیسی تھی ، کیسے بولتی تھی کیسے چلتی تھی مجھے نہیں معلوم ، نہ میں نے اسکی کوئی تصویر دیکھی نہ کبھی اسکی آواز سنی ، نہ ہی کبھی اس سے چیٹنگ کی ، مگر میں اسے جانتا ہوں ، کیسے ، اس جدید دنیا کی جدت کی وجہ سے  ۔ ۔ وہ اس سائبر سپیس کی ایک ممبر تھی  ۔ ۔ ۔ جس کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہی ہوئے جا رہا ہے  ۔ ۔۔ مگر اس خلا کو پُر کرنا تو کبھی ممکن نہیں ، اور جب کبھی ایسی بات سننے کو ملتی ہے کہ کوئی اس سائبر سپیس میں نہیں رہا تو  ۔ ۔۔بہت عجیب لگتا ہے  ۔ ۔
وہ میری زندگی کی دوسری شخصیت تھی جسے میں اس خلا میں جانتا تھا ، جو اس دنیا سے چلی گئی  ۔۔  اس سے پہلے بھی ایک دوست نے ایسے ہی زندگی سے منہ موڑ لیا تھا  ۔ ۔ ۔ یقین نہیں آتا کہ ایسا بھی ہوتا ہے  ۔ ۔۔  اس سائبر سپیس نے دنیا کو کیا کر دیا ہے  ۔ ۔  لوگ پہلے بھی مرتے تھے اور ہمیشہ مرتے رہیں گے  ۔ ۔ ۔ آج مجھے میٹریکس مووی بہت یاد آئی  ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں کیوں
متلاشی کی وجانے کس کی تلاش تھی ، مگر موت نے اسے تلاش کر لیا تھا ، زندگی جانے کی وجہ کینسر ہی سہی ، مگر کچھ لوگ دلوں میں زندہ رہتے ہیں ، میں سوچتا تھا کہ یہ لڑکی اتنی دکھی کیوں ہے ، ہمیشہ دکھ کی باتیں کیوں کرتی ہے ، اسکی شاعری میں غم کیوں کوٹ کوٹ کہ بھرا ہے  ۔ ۔ ۔ جب وہ چلی گئی تو پتہ چلا کہ زندگی کو اسنے کیسے جھیلا تھا  ۔ ۔ ۔
اسکی شاعری کی کچھ جھلکیاں  ۔ ۔ ۔
مجھے تم سے محبت ہے
———————————–
کسی کمزور لمحے میں
اگر میں تم سے یہ کہ دوں
مجھے تم سے محبت ہے
تم یہ مت سمجھ لینا
کہ ۔ ۔ ۔
میں نے سچ کہا ہو گا
ایسی دل نشیں باتوں کو
ایسی دلبر اداؤں مین کہینا
مجھے بچپن سے آتا ہے
میری آنکھیں ، میرا چہرا
میرا یہ بے ساختہ لہجہ
یہ سب کچھ جھوٹ کہتا ہے
مگر  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس جھوٹ میں ،ایک سچ بھی ہوتا ہے
کہ
مجھے تم سے محبت ہے
مجھے تم سے محبت ہے
——————————————-
اور اسکے یہ الفاظ تو شاید سب کو یاد رہیں  ۔ ۔ ۔
————————————-
تم سے بچھڑ کہ میں کیا ہوں
ایک ادھوری نظم کا حصہ
یا کوئی بیمار پرندہ
کاپی میں ایک زندہ تتلی
یا ایک مُردہ پیلا پتہ
آنکھ ہو کوئی خواب زدہ سی
یا آنکھوں میں ٹوٹا سپنا
پلکوں کی دیوار کے پیچھے
پاگل قیدی یا ایک آنسو
دھوپ میں لپٹا لمبا صحرا
یا پھر کوئی خوف زدہ سا بچہ
ٹوٹی ہوئی چوڑی کا ٹکڑا
یا کوئی بھول بِسرا وعدہ
تم ہی بتاؤ
تم سے بچھڑ کہ میں کیا ہوں
ایک پرانی قبر کا کتبہ  ۔ ۔ ۔ ۔۔
———————————–
لوگ اس سائبر سپیس میں بھی مرتے ہیں  ۔ ۔  مگر پتہ نہیں  ۔ ۔ ۔ اس سائبر سپیس پر کوئی قبرستان کیوں نہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ؟؟؟
Advertisements

2 responses to this post.

  1. افسوس ہوا اللہ اس کی مغفرت کرے۔ اس کی شاعری میں واقعی ایک تڑپ موجود ہے۔ میں حیران ہوں اسے تو اپنی کتابیں چھپوانی چاہیے تھیں۔

    جواب دیں

  2. بعض لوگ چھوٹے وقت میں بڑے کاموں کیلیے دنیا میں آتے ہیں اور وہ کرکے چپ چاپ چلے جاتے ہیں۔ؔایسے چپ چاپ کے رستے بھی رہینگے لاعلمچھوڑ جائینگے کسی روز نگر شام کے بعداللہ انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے۔ اٰمین

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: