دیا جلائے رکھنا ہے

اگر تمہیں پاکستان اتنا ہی برا لگتا ہے تو تم پاکستان چھوڑ کیوں نہیں دیتے ؟ میں نے اسے کوسنے والے انداز میں کہا
کاش چھوڑ سکتا ، تم خود تو شیخوں کے ملک میں بیٹھے عیاشی کر رہے ہو اسلئے ایسا کہ رہے ہو ، میں نے تو انتہائی مشکل حالات میں بھی پاکستان نہیں چھوڑا  ۔ ۔ جو روکھی سوکھی مل رہی ہے کھا رہا ہوں  ۔ ۔۔  تم تو لاکھوں کے چکر میں باہر ہو، کبھی ادھر آؤ تو آٹے دال کا بھاؤ پتہ چلے ۔ ادھر نہ بجلی ہے نہ پانی  ۔ ۔ ۔
روکھی سوکھی  ۔ ۔ ۔ بھائی تم ہر سال اپنی گاڑی کا ماڈل چینج کر رہے ہو ، میکڈونالڈ اور کے ایف سے سے نیچے کی چیزیں تم سے ہضم نہیں ہوتیں  ۔ ۔ ۔ پانی تم منرل پیتے ہو ، سارا دن رات جنریٹر چلاتے ہو  ۔ ۔  چائے و کافی کے لئے الیکٹرک ٹی پاٹ رکھے ہیں تم آٹے دال کا بھاؤ کیا جانو   ۔ ۔ اتنی عیاشی تو ہم ادھر رہ کر نہیں کر پاتے جتنی تم پاکستان میں کرتے ہو  ۔ ۔۔
ارے بدھو میں اپنی بات نہیں کر رہا  ۔ ۔ مجھ پر تو اللہ کی رحمت ہے اپنا بزنس ہے ، اس سال بھی منافع اچھا گیا ہے ، ٹیکس بھی کافی بچا لیا ہےہ ، میں بات کر رہا ہوں ان پاکستانیوں کی جن کے لئے جینا دوبھر ہو چکا ہے  ۔ ۔ ۔تم کبھی ادھر آ کہ تو دیکھو بیچارے سارا سارا دن آٹے کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں ، آفسز میں تو اب چھٹی کا بہانہ بن گیا ہے “آٹا“
اوہ  ۔ ۔ ۔ اچھا تو تمہیں اپنے ہموطنوں کا درد محسوس ہو رہا ہے  ۔ ۔ ۔
کیوں نہ ہو  ۔ ۔ میں ان میں رہتا ہوں  ۔ ۔ تمہاری طرح شیخوں کے درمیان تو نہیں رہتا  ۔  ۔ ۔
ارے میں تو ادھر سب سے کم درجے کا شہری ہوں ، ہر وقت سر پر تلوار لٹکتی رہتی ہے  ۔ ۔۔ کہ کب ادھر سے نکال دیں  ۔ ۔
ہاں پاکستان کا یہ ضرور فائدہ ہے کہ ادھر جو آ جائے پہلی بات ہے وہ جاتا نہیں اور اگر زبردستی بھیجھا جائے تو واپس آنے کے ہزار راستے ہیں  ۔ ۔ ۔ ہاں اگر انکل سام کی طرف بھیجھیں تو پھر واپسی کبھی کھبی شہادت کے بعد ہی ہوتی ہے
مگر پھر بھی لوگ پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں نا
ارے کون کافر رہنا چاہتا ہے ادھر  ۔ ۔ ۔ وہ تو مجبوری ہے کہ ہم پر پاکستانی ہونے کا ٹھپہ لگ گیا ہے  ۔ ۔ ورنہ ہم کب کے ہجرت کر جاتے  ۔ ۔کسی اور دیس میں  ۔ ۔۔
ویسے میں بھی تمہیں کہتا ہوں کہ پاکستان چھوڑ دو ابھی حالات کافی خراب لگتے ہیں  ۔۔ ۔
نہیں میرے لئے خراب نہیں ہیں  ۔ ۔  باہر ابھی تک اتنا منافع نہیں ہے جتنا ادھر ہے اور کام نکلوانے کی آسانی جو ادھر ہے وہ باہر نہیں  ۔ ۔
مطلب تم یہ کہ رہے ہو کہ ہماری معیشت اچھی ہے
اچھی  ۔ ۔ بہت اچھی بھائی صاحب  ۔ ۔  دیکھو  ۔ ۔ میں ایک بزنس مین ہوں  ۔ ۔ اگر کسی طرف سے میرے خام مال کے بھاؤ بڑھتے ہیں تو میں اپنی فنش پراڈکٹ کے بھاؤ بڑھا دیتا ہوں  ۔ ۔ ۔ سو میرا مال تب بھی بکتا ہے تو مجھے تو کوئی مسلہ نہیں  ہوتا نا  ۔ ۔  میں تو اتنی منافعے والی جگہ نہیں چھوڑ سکتا  ۔ ۔
مگر امن و امان کا مسلہ تو ہے نا ادھر ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب کہاں کیا ہو جائے  ۔ ۔۔
اب میں تمہیں بےوقوف نہ کہوں تو کیا کہوں ؟ کیا کسی بھی شہر کے پوش علاقے میں کبھی بھی کوئی ہڑتال کا اثر ہوا ہے کبھی لوڈ شیڈنگ یا گیس کی بندش ہوئی ہے یا پانی بند ہوا ہے اور اگر ہوا بھی ہے تو ٹینکر کمپنیاں موجود ہیں ، گیس سیلنڈر موجود ہیں  ۔ ۔۔ ویسے بھی دھشت گردی میں غریب لوگ ہی ٹارگٹ ہوتے ہیں  ۔ ۔  امیروں کے ساتھ  ۔ ۔تو  ۔ ۔ اللہ کی رحمت ہوتی ہے  ۔ ۔ ۔
مگر ابھی تو ایک ہائی پروفائیل بھی تو اس دھشت گردی کا نشانہ بنی ہے
ہاں مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ اسکی بے وقوفی تھی
وہ کیسے  ۔ ۔
کس نے کہا تھا کہ پبلک میں جا کہ پبلک کی بات کرے  ۔ ۔۔ کس نے کہا تھا کہ غریبوں کے سر پر ہاتھ رکھے  ۔ ۔ چاہے دکھاوے کو ہی سہی مگر  ۔ ۔ جو فاصلہ لیڈر اور عوام کا ہونا چاہیے وہ برقرار رکھنا چاہیے  ۔ ۔ ۔ جو نہیں رکھے گا وہ تو مار کھائے گا ہی نا ۔ ۔
تو پھر تم مسلے کا حل کیا سمجھتے ہو  ۔ ۔
مسلے کا حل آسان ہے  ۔ ۔
کیا؟؟
پاکستان چھوڑ دو  ۔ ۔ ۔
مگر ابھی تو تم ہی کہ رہے تھے کہ تم نے پاکستان نہیں چھوڑنا  ۔ ۔
بھئی میں اپنی بات نہیں کر رہا  ۔ ۔  انکی بات کر رہا ہوں  ۔ ۔ جو سڑکوں پر آٹے کی تلاش میں ہیں  ۔ ۔۔
وہ کہاں جائیں گے اور کیسے جائیں گے  ۔ ۔
اگر نہیں جا سکتے اور کچھ بول نہیں سکتے تو پھر  ۔ ۔
تو پھر  ۔ ۔؟؟
کچھ نہیں  ۔ ۔ ۔
نہیں بولو تو  ۔ ۔
یار تم برا مان جاؤ گے  ۔ ۔ ۔
نہیں مانو گا  ۔ ۔
اچھا تو پھر انہیں  ۔ ۔۔  اپنی شہادت کا انتظار کرنا چاہیے  ۔ ۔ اور ہاں یاد رکھو کہ بڑے لوگ  مرتے نہیں  ۔ ۔ اور چھوٹے لوگ زندہ نہیں ہوتے  ۔ ۔ ۔ ۔ اور ڈیڈ باڈیز کی قسمت میں آگ ہوتی ہے یا پھر مٹی  ۔ ۔۔ ۔
(تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد)
تم نے اداس کر دیا  ۔۔  ۔
ہاں میں بھی اداس ہو جاتا ہوں یہ سب کچھ کہ کہ سن کے  ۔ ۔۔
میں نے ہوٹل کے کمرے کی کھڑکی کا پردہ اٹھا دیا  ۔ ۔ ۔ پورے شہر کی بجلی بند تھی  ۔۔ ۔ ۔ سڑک پر گاڑیوں کی قطار تھی  ۔ ۔ جسنے روشنی کی ایک لکیر بنا دی تھی  ۔  ۔ یہ لکیر ایک کونے سے دوسرے کونے تک جا رہی تھی اور دونوں طرف یہ روشنی کی لکیر اندھیرے میں گم ہو رہی تھی  ۔ ۔ ۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ اندھیرا روشنی کو کھا رہا ہے  ۔۔ ۔ ۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے ہم اپنی چھوٹی چھوٹی مشعلیں لے کر اندھیرے کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں  ۔ ۔۔  اور اندھیرا ہے کہ یہ مشعلیں کھائے جا رہا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔۔ مگر نہ تو مشعلیں کم ہو رہی ہیں اور نہ ہی اندھیرا  ۔ ۔ ۔۔۔
 
میں اپنے اندر ہی گنگنانے لگا  ۔ ۔۔
موج بڑھے یا آندھی آئے ، دیا جلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں ، گھر تو آخر اپنا ہے  ۔
۔
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: