پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور اسکا مستقبل

میرا خاندان کہوٹہ میں مقیم ہے ، کلر سیداں سے لیکر پلندری (آزاد کشمیر) تک ہماری برادری کے لوگ پھیلے ہیں ، بہت سارے لوگ فوج میں ہیں ، زیادہ تر کی زندگی کا دار و مدار کھیتی باڑی پر ہے ، میرے دادا جنکا نام “سید عالم“ تھا پنڈی کچہری میں ایک اعلٰی عہدے دار تھے ، نانا سروے آپ پاکستان سے رئٹائیر ہوئے جبکہ وہ قیام پاکستان سے پہلے کی فوج میں رہے ، جاپان کی قید میں بھی تھے ، اور پھر میرے اپنے سسر ١٩٧١ کی جنگ کے قیدی تھے ، والد اور تایا پاکستان ورک ڈیپارٹمنٹ میں اچھے عہدوں پر رہے  ۔ ۔ یہ سب لوگ کہوٹہ کے رہنے والے تھے ، کہوٹہ جب دنیا میں مہشور نہیں ہوا تھا  ۔ ۔  یعنی ابھی یہ جگہ ایٹمی حوالے سے مشہور نہیں تھی تو اس وقت بھی اسکا ایک حوالہ موجود تھا ، تحریک پاکستان کے زمانے میں پنڈی میں چھاونی تھی اور ایک اہم ائیرپورٹ بھی تھا جسے انگریزوں نے دوسری جنگ عظیم کے وقت استعمال کیا   ۔ ۔ اب ہم اسے دھمیال کیمپ کے نام سے جانتے ہیں  ۔ ۔ ۔
راولپنڈی کا یہ علاقے اپنی زرخیز مٹی کی وجہ سے سونے جیسا ہے ، ہزاروں سال پرانی تہذیب ، نے یہاں جنم لیا ، دریائے سواں کے کنارے سے قدیم ترین پتھر کے زمانے کے اوزار ملے ہیں ، اسکے علاوہ ، قلعہ روات اور شیر شاہ سوری روڈ جیسے آئی کون نے راولپنڈی کو ہمیشہ سے ایک اہم مقام دیا ہے  ۔ ۔۔ اور اسی لئے جب دارلحکومت بدلا گیا تو نیا شہر اسی شہر کی زمین پر بنایا گیا  ۔ ۔ ۔ مرگلہ کی پہاڑیوں کی یہ وادی نہ صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہے بلکہ ایک قدرتی حفاظتی حصار بھی ہے  ۔  ۔ جسکے ایک طرف وادی کشمیر ہے اور دوسری طرف پنجاب کا وسیع ترین میدان   ۔۔ ۔ کہوٹہ اسی وادی کے مرکز میں واقعی ہے  ۔ ۔ ۔
بچپن میں ہم لوگ جب اپنے گاؤں جاتے تھے تو بس ہمیں ہمارے گاؤں سے تقریباً دس میل دور اتارتی تھی  ۔ ۔ ۔ پنڈی سے تقریباً تیس میل دور راستے بھر میں ہرے بھرے کھیت ، اور انکی خوشبو آج بھی جب یاد آتی ہے  ۔ ۔ تو دل میں عجیب بے چینی ہوتی ہے کہ یا رب میرے شہر کو کیا ہو گیا ہے  ۔ ۔ ۔۔ کتنا بدل گیا ہے  ۔ ۔ ۔ آج سے تقریباً نو (٩) سال پہلے جب میں جب میں تقریباً اٹھارہ سال بعد پنڈی گیا تھا تو واقعٰی ہی وہ شہر وہ نہیں رہا تھا جو تھا  ۔ ۔ ۔ اور آخری باریعنی تقریباً سوا سال پہلے کا پنڈی تو مجھے بہت بڑا لگا تھا  ۔ ۔  جسکے فاصلے ختم ہی نہیں ہو رہے تھے  ۔ ۔ ۔
مجھے کہوٹہ سے متعلق پہلی یاد جو ہے وہ شاید ١٩٧٤ کی ہے جب ہمارے گاؤں میں سڑک بنانے والی مشینری آئی اور اسکی وجہ یہ بتائی گئی کہ کہوٹہ میں کہیں سے تیل نکلا ہے  ۔  ۔ ۔ ہمارے لوگ سمجھے کہ اب تو کہوٹہ  ۔ ۔  بہت بڑی جگہ بن جائے گا  ۔ ۔  مگر ایک سال بعد ہی وہ سڑک ادھوری رہ گئی  ۔ ۔ ۔ تیل نکالنے والی تمام مشینیں چلی گئیں  ۔ ۔ ۔ اور سڑک ایک دوسرے راستے پر بننے لگی ، جہاں سے ایک راستہ کہوٹہ شہر کو جاتا تھا اور دوسرا  ۔ ۔۔ ۔ ایک پہاڑی علاقے کی طرف  ۔ ۔ ۔ جہاں پاکستان فوج نے اپنی چوکیاں بنا لیں تھیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر ایک دن کسی مغربی اخبار نے ایک گنبد نما عمارت کی خبر چھاپی جس میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر تھا  ۔ ۔  دنیا میں اسے اتنا سیریس نہیں لیا مگر کسی کو کیا معلوم تھا کہ پاکستان دشمن طاقتیں اسے کچلنے کے لئے کیا کیا پروگرام بنا بیٹھیں تھیں  ۔۔ ۔ وہ تو بھلا ہو روس کا جسنے ١٩٧٧ میں گرم پانی تک پہنچنے کے لئے  ۔ ۔ ۔ پاکستان براستہ افغانستان کا خواب دیکھا اور  ۔ ۔ ۔ پے در پے  ۔ ۔ افغان حکومتوں میں ادل بدل ہونے لگا  ۔ ۔ ۔ غدار بکنے لگے اور وفادار ملت مرنے لگے  ۔ ۔ ۔ ۔
پاکستان کے لئے سوویت یونین کا افغانستان پر حملہ سود مند ثابت ہوا اور ١٩٨٠ میں یعنی صرف پانچ سال کی مختصر مدت میں ہم نے وہ ہدف حاصل کر لیا جسکے لئے خواب دیکھا گیا تھا یعنی یورینیم کی افزردگی  ۔ ۔ ۔ مگر اسکا اعلان پاکستان نے نہیں کیا  ۔۔ ۔ سلام ہے ان پاکستان کے سپوتوں پر جنہوں نے اپنے دن رات ایک کر دئیے صرف اس وطن کی حفاظت کے لئے اور بنا کسی لالچ اور طمع کے  ۔ ۔ ۔ بنا کسی نام کے  ۔ ۔ وہ پاکستان کے وہ گمنام سپاہی ہیں جنہیں شاید کوئی بھی یاد نہیں کرتا  ۔ ۔  ۔  میں صرف اتنا عرض کرتا چلوں کہ ان لوگوں نے اپنے خاندانوں کو چھوڑا ، اپنی زندگی کی خوشیاں چھوڑیں غم چھوڑے ، صرف اس وطن کے لئے  ۔ ۔ ۔میرے کچھ عزیز جو اس نیک کام میں شامل تھے  ۔۔  ان کو جب کوئی بہت ہی اندوہناک خبر ملتی جس میں انکا باہر آنا ضروری ہوتا تو وہ ایسے آتے کہ انکی حفاظت کے لئے فوج کے کمانڈو کا دستہ ہوتا  ۔ ۔ ۔ حتہ کہ انکے پاس کچھ بڑا کام نہ تھا مگر  ۔ ۔ ۔ ہمارے دشمن ایسے ہی ہنٹ کی تلاش میں تھے  ۔ ۔ ۔
یہ شاید ١٩٧٩ کا واقعہ ہے ، واقعہ بیان کرنے سے پہلے یہ بتا دوں کہ کہ ١٩٧٤ کے بعد سے کہوٹہ کو فوج کی ایک خاص کمان کے حوالے کیا گیا ، جس میں سپاہی سے لیکر افسر تک اس علاقے کے جاننے والے تھے  ۔ ۔ اسلئے ایک وقت ایسا بھی تھا  ۔  ۔ (اور شاید اب بھی ہے ) کہ کہوٹہ بازار میں آنے جانے والے لوگوں میں آدھے سے زیادہ لوگ فوج کے اس کمان کے تھے  ۔ ۔ یعنی دکاندار سے لیکر گاہک تک  ۔ ۔ ۔ اسکے علاوہ گاؤں کے لوگ بھی فوج کا ساتھ دیے رہے تھے انہیں یہ معلوم تھا کہ یہ جگہ کسی خاص مقصد کے لئے چنی گئی ہے  ۔ ۔ جو پاکستان کی حفاظت کے لئے ضروری ہے  ۔ ۔ ۔
تو ہوا کچھ یوں کہ ہماری دشمن طاقتوں نے اپنے جاسوس پھیلا دئیے تھے اس علاقے میں  ۔ ۔ ۔اسکے علاوہ بہت سارے دوسرے ذرائع بھی استعمال کیے گے تھے  ۔ ۔  کچھ دنوں سے ایک فقیر بابا کہوٹہ شہر میں شام ہوتے ہی نظر آتا  ۔۔  وہ کسی سے کچھ نہیں لیتا تھا نہ بولتا تھا اگر کوئی کچھ دیتا تو لے لیتا  ۔  ۔ کسی ہوٹل کے سامنے کھڑا ہوتا تو اسے کھانا بنا مانگے مل جاتا  ۔  ۔ سردیوں کے دن تھے  ۔ ۔ وہ ایک بڑے سے کپڑے کو تن پر لپیٹے رہتا  ۔  ۔ اور ایک دن اسنے ایک فروٹ بیچنے والے سے پوچھا  ۔ ۔ ۔ کہ پلندری کیسے جا سکتا ہے   ۔ ۔ ۔ پلندری آزاد کشمیر  میں واقعٰی ہے  ۔ ۔ ۔ دکاندار نے پوچھا  ۔  ۔ چاچا جی پلندری کیوں جا رہے ہو  ۔ ۔ ۔ ؟  بس ضروری جانا ہے  ۔ ۔ ابھی ہی جانا ہے  ۔ ۔  وہ بار بار اپنے پاؤں کو دیکھ رہا تھا  ۔ ۔ ۔ دکاندار جو فوج کا اعلٰی افسر تھا اور اس بھیس میں نگرانی کرتا تھا فوراً کچھ بھانپ گیا کہ اسکے ایک جوتے کا تلا (نیچے کا حصہ)  صاف ہے  ۔ ۔  اسنے اپنے مخصوص اشارے سے جوانوں کو بلا لیا اور وہ ایک جاسوس گرفتار ہوا  ۔ ۔ اس کے پاؤں میں ایک ٹرانسمیٹر تھا جو اسکی پوزیشن کو بتا رہا تھا  ۔ ۔  وہ سٹیلائیٹ سے لنک تھا  ۔ ۔اسنے بتایا کہ پچھلے دو سال کے اندر اسنے کتنے ہی نقشے بھجھوا چکا ہے  ۔ ۔ ۔ اور اسی ٹرانسمیٹر کی مدد سے ایسے آلات کا پتہ چلایا گیا جو کہ پتھروں کی شکل میں کہوٹہ کی مختلف حساس پوزیشن پر موجود تھے اور وہاں سے گذرنے والی ٹریفک کی پل پل کی تفصیل ارسال کر رہے تھے  ۔ ۔  ایسے ہی ایک واقعے کا ذکر جنرل اختر عبدالراحمٰن پر لکھی گئی کتاب میں بھی ہے اور مزید واقعیات بھی ہیں  ۔ ۔ ۔
١٩٨٠ میں ہم نے یورینیم کو افزردہ کرنا شروع کیا (تجرباتی پیمانے کے بعد) ، ١٩٨٤ میں ہم نے کولڈ ایکپلوسیو کا تجربہ کیا  ۔ ۔ ۔اور اسی وقت ہمیں اندازہ ہوا کہ اب ہمیں مزید افرادی قوت تیار کرنی پڑے گی  ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر اے کیو خان لیبارٹری اور کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کے قیام نے ان کمیوں کو پورا کیا  ۔ ۔۔  نئے لوگ اس قافلے میں شامل ہوئے تو بہت ساری نئی جہتیں سامنے آئیں  ۔ ۔۔ سولڈ فیول کو تیار کر کے راکٹ میں استعمال کیا گیا  ۔ ۔  اور ہمارا مزائل پروگرام شروع ہوا  ۔ ۔ ۔
یہ سب کچھ اسلام کی اس ہدایت کے مطابق ہوا جس میں اپنے گھوڑے تیار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے  ۔۔  اور پھر جب ایٹمی دھماکے پر پاکستان کو مجبور کیا گیا  ۔ ۔ اس وقت تک ہم اپنی ٹیکنالوجی کو انہانس کر چکے تھے  ۔ ۔۔  دشمنوں کی صفوں میں کھلبلی مچ چکی تھی  ۔ ۔ ۔ انہیں اسلام کی نشاہ ثانیہ کا آغاز لگ رہا تھا یہ سب کچھ  ۔ ۔ ۔ پاکستان کی اس قوت کو اسلامی بم کا نام دیا گیا ، اور اسلام سے ڈرنے والے اس ملک کے پیچھے لگ گئے  ۔ ۔ ۔ ۔ سازشوں کے جال بنے گئے  ۔ ۔ غدار خریدے گئے  ۔ ۔ ۔قوم کو نشے کے عذاب میں ڈال دیا گیا  ۔ ۔  اور ہم اپنے مقصد سے دور ہوتے چلے گئے  ۔ ۔  پاکستان کا ایٹمی پروگرام جسکی مدد سے ہم اپنے بجلی کے بحران کو ختم کر سکتے تھے  ۔ ۔  ہم اپنے زرعی ملک میں انقلاب لا سکتے تھے  ۔ ۔ ۔اسے ختم کرنے کا پروگرام بنایا گیا  ۔ ۔ ۔ اور اس کام کے لئے اپنوں کو ہی استعمال کرنے کا پروگرام تشکیل دیا گیا  ۔ ۔ ۔
شاید بہت کم لوگ جانتے ہو گے ، کہ سرحد کے صوبے کو افغانیہ صوبہ بھی کہا جاتا رہا ہے  ۔ ۔ پختونستان اور پشتون خواہ کی باتیں بہت بعد کی ہیں  ۔ ۔ ۔ اس علاقے کے لوگ بہت جری بے باک اور نڈر ہیں  ۔ ۔  آج بھی لوگ خوشحال خان خٹک کی رجز پڑھ کر خون کو گرماتے ہیں اور رحمان بابا کی شاعری سے دل کو موم بھی کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ اسلام سے انکا رشتہ ایسا ہی ہے جیسا جسم کا جاں سے  ۔ ۔  ہمارے دشمنوں نے ایک پنتھ دو کاج کا کام کیا  ۔ ۔ ۔ سورش ابھاری گئی  ۔ ۔ ۔ وہ افغانی جنہیں طالبان نے ایک لڑی میں پرو دیا تھا اور جنگ زدہ ملک میں امن بحال کیا تھا  ۔ ۔ ۔ انہیں میں ایسا لوگوں کو شامل کرا دیا گیا جو اسلام دشمن کاروائیوں پر مجبور کرتے تھے  ۔ ۔ طالبان کی تحریک جو دعوت کی تحریک کی طرح تھی  ۔ ۔ ایک سخت گیر تحریک میں بدل گئی  ۔ ۔ ۔۔ کابل میں اگر ایک مسجد سے ایک شخص نماز پڑھ کہ نکلا تو دوسری مسجد پر کھڑے ملا نے اس سے زبردستی دوبارہ سے نماز ادا کروائی  ۔ ۔ ۔ اور پھر انہیں طالبان کو یقین دلا دیا گیا کہ تم بہت طاقت ور ہو  ۔ ۔  تم نے سرخ ریچھ کو شکست دی ہے تو یہ سفید ہاتھی بھی مار لو گے  ۔ ۔ ۔ انہیں ایک پکے پکائے حلوے یعنی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر قبضے کا کہا گیا  ۔ ۔ اور یہ بھی سمجھایا گیا کہ اسلام کو طاقت چاہیے اور یہ طاقت پاکستان سے مل سکتی ہے  ۔ ۔ ۔ اور پاکستان تک پہنچنے کا بہترین راستہ ہے امریکہ  ۔ ۔ ۔ ۔ اور طالبان اور انکے اشارے پر ناچنے لگے اور پاکستان دشمن بن گئے  ۔ ۔ ۔ اس سازش کا انکشاف سعودیہ میں ہوا مگر اس دوران تک نائین الیون ہو چکا تھا  ۔ ۔ ۔ سعودیہ کے اور امارات کے شیوخ کو پتہ چلا کہ اسلام کے نام پر کیا کیا ہوا ہے  ۔ ۔ ۔ تو وہ امریکہ سے معافیاں مانگنے لگے  ۔ ۔ ۔ مگر امریکہ کو راستہ مل چکا تھا  ۔ ۔ ۔ طالبان کٹھ پتلیاں چلانے والے ہاتھوں نے اپنے ہی ہاتھوں ان کھٹپتلیوں کا کاٹ دیا  ۔ ۔ ۔اسکی وجہ جو میری سمجھ میں آئی ہے افغانستان سے کہوٹہ بہت دور ہے  ۔ ۔ ۔ جبکہ گلگت اور سوات سے بہت قریب  ۔ ۔ ۔
آج پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے  ۔ ۔ ۔ وہ اسی ایٹمی پروگرام کا کمال ہے  ۔ ۔ ۔  اس کے آغاز نے ملک توڑا  ۔  ۔۔ اسکے پہلے فیز میں ملک میں فساد پھیلا اسکے اعلان نے ہمیں معاشی نقصان پہنچایا اور جب یہ بن چکا ہے تو ہم اتنے کمزور ہیں کہ کسی سے بھی آنکھ اٹھا کر بات نہیں کر سکتے ہیں   ۔ ۔ بلکے یہ سوچنے میں لگے ہیں کہ ہماری عمر کتنی باقی ہے  ۔ ۔ ۔
تو کیا ہم یہ طاقت چھوڑ دیں ، کچھ لوگ شاید یہ سب دیکھ کر سوچیں ہاں یہ ہی بہتر ہے مگر ہماری حالت اب تک جو بچی جا رہی ہے وہ شاید اسی طاقت کی وجہ سے ہے ، ورنہ ہم نے اور ہمارے دشمنوں نے پوری کوشش کر لی کہ پاکستان کو تباہ کر دیا جائے  ۔ ۔  اور ابھی تک ہم اور ہمارے دشمن دونوں لگے ہیں یہ نیک کام کرنے کے لئے  ۔ ۔ ۔۔
کہوٹہ کے لوگ اب بھی ویسے ہی ہیں جیسے ایٹمی پلانٹ سے پہلے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں کچھ گھروں کو پکا کر لیا گیا ہے  ۔ ۔  انکی زندگی میں بڑے بڑے غبارے اور مصنوعی درخت اور پودے اب حصہ بن چکے ہیں  ۔ ۔ ۔ انکی سڑکوں پر اب کچھ کوٹھیاں تو بنی ہیں مگر مارگلہ کی پہاڑیوں کے اندر مزید سرنگیں بن چکیں ہیں  ۔ ۔ ۔  ہمارے دشمن آج بھی حیران و پریشان ہیں کہ جس زلزلے نے ایک عالم تباہ کیا اس نے اس پروگرام پر خراش تک نہیں ڈالی  ۔۔ ۔ ۔ مگر شاید یہ پروگرام کی نیت بہت ہی نیک ہے  ۔۔ ۔  ۔ کیونکہ یہ دیس اللہ کے نام کی بلندی کے لئے حاصل کیا گیا تھا  ۔ ۔ وہ نیت تھی اللہ نے ہمیں بہت کچھ دیا  ۔ ۔  ہم بے قدرے ہیں ، اللہ کی اس نعمت کی قدر نہ کر سکے اور نہ ہی یہ سمجھ سکے کہ یہ طاقت ہمیں کیوں دی گئی ہے  ۔ ۔ ۔ اتنے سارے دوسرے اسلامی ممالک ہیں انہیں کیوں نہیں دی ؟ اور ویسے بھی اسکی حفاظت جیسے اللہ نے آج تک کی ہے ویسے ہی آئندہ بھی کرے گا  ۔ ۔ اگر ہم میں سے ایک شخص کی نیت بھی ٹھیک رہی  ۔ ۔ ۔تو  ۔ ۔ رہی بات پاکستان کی تو  ۔۔ ۔ اللہ نے جب یہ بنوایا ہے  ۔ ۔  اپنے دین کے نام پر تووہ ہی رکھوالا ہے  ۔ ۔ ۔ ہم تو عبدالمطلب کی طرح صرف صحرا سے اپنے اونٹ واپس لینے کے لئے ہر دور کے ابراہہ کے پاس جاتے رہیں گے  ۔ ۔ ۔
Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by Ishfaq Ahmed Raja on مئی 28, 2016 at 5:52 شام

    nice,,,,much informative.

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: