عجیب دیس ہے میرا

عجیب دیس ہے میرا ، قائد اعظم نے پاکستان کے قیام کے بعد کہا تھا کہ ، ہمارے دشمن چاہتے ہیں کہ ہم بنتے ہی فنا ہو جائیں ، اور ہمارے دشمن آج تک یہ ہی چاہ رہے ہیں ، پاکستان کا لفظ ایک تیر کی طرح دشمنوں کے دلوں میں پیوست ہوتا ہے ، اور وہ اور زیادہ طاقت اور عیاری سے ہمیں فنا کرنے کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں ، مگر ہمارے دشمن ایسا کیوں چاہتے ہیں ؟
میرے بہت سارے دوست اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ پاکستان کے قیام کا تعلق کسی اسلامی تحریک سے تھا ، ہندوستان کے مسلمانوں کو معلوم تھا کہ الگ وطن کا قیام کوئی معنی نہیں رکھتا ، مسلمانوں کے اس وقت اور بھی ملک موجود تھے ، جہاں پر ہندوستانی مسلمان ہجرت کر سکتے تھے اور وہ بھی بنا کسی خون خرابے کے ، مگر پھر بھی زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کیا گیا ، میں کہتا ہوں کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے خون سے اس دھرتی کی قیمت دی ہے ، پاکستان زمیں کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے ، مگر کیا کریں ہم مسلمان قوم ہی ایسی ہیں ، کبھی تو سوچتا ہوں کاش ہمارے نبی (ص) نے اس قوم کے لئے ایک دم سے فنا نہ ہونے کی دعا نہ مانگی ہوتی ، تو مجھے پکا یقین ہے ہم بنی اسرائیل سے بھی بڑھ کر عذابوں کا شکار ہوتے ، آج ہمارے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت بڑا عذاب ہے ، وجہ اسکی صرف ایک ہی نظر آتی ہے ، کہ ہم نے یہ وطن اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا (کوئی مانے یا نہ مانے ) اور ہم نے اسلام کے بنیادی اصولوں سے ہی منہ پھیر لیا ۔ ۔ ۔۔ آج ہم اپنی تمام کوتاہیوں کا ذمہ دار حکمرانوں کو کہتے ہیں مگر اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے ، آئیے ذرا سوچیں کہ ١٩٤٧ کے بعد سے ہم نے لگاتار عذاب کیوں سہے ؟
١٩٤٧ میں جب دیس آزاد ہوا تو بہت جذبہ تھا ، مہاجرین بھارت کے ساتھ انصار پاکستان نے وہ ہی اخوت دکھائی جو مدینے والوں نے دکھائی تھی ، سندھیوں نے لٹی ہوئی ٹرینوں سے بچے ہوئے زندہ مہاجرین کو اپنی زمیں دی ، دل دیا  ۔ ۔ ۔ پنجاب نے جائے پناہ دی ، سرحد نے بھی اپنا حصہ ڈالا ، بلوچستان کی ریاستوں نے پاکستان کو تعمیر کرنے میں مدد دی ، بنگال نے اپنا آپ دیا  ۔ ۔ ۔ بہت جذبہ تھا  ۔۔ ۔ عوام نے بہت محبت دی اور محبت بانٹی اور لی  ۔ ۔ ۔ مگر دوسری طرف ہمارے حکمران تھے  ۔ ۔ ۔ قائد اعظم کی وہ ٹیم جو پاکستان بنانے والی تھی ، صرف تین چار سالوں میں ہی پس پردہ چلی گئی (یا بھیج دی گئی )  عوام کے جذبوں کو خواص نے اپنی خواہشات کا ایندھن بنا دیا  ۔  ۔ ہمارے اوپر شرابی کبانی حاکم بنتے چلے گئے  ۔ ۔ ۔ فوج کو پاکستان کے قیام کے پانچ سال بعد ہی اقتدار کا خون لگ گیا  ۔ ۔ ۔ جو آج تک اسکی پیاس نہیں بجھا سکا  ۔ ۔ ۔
مگر اس میں سارا قصور حکمرانوں کا نہیں ہے ، عوام کا بھی ہے ، وہ جعلی کلیم سے شروع ہوتا ہے اور جعلی پاسپورٹ و شناختی کارڈ سے ہوتا ہوا جعلی ووٹ تک جاتا ہے   ۔ ۔ ۔ جہاں کوئی مخلص انسان سامنے آیا ، ہم میں سے ہی بہت ساروں نے مل کر اسے ذلیل کر دیا  ۔  ۔ ہم جو ایک قوم تھے ، کئی فرقوں میں بٹ گئے  ۔ ۔ ۔  آزادی سے پہلے ہم مسلمان تھے آزادی کے بعد ہم سندھی ، پنجابی ، پٹھان اور بلوچی ، بنگالی اور مہاجر بن گئے  ۔ ۔ ۔ بنگال  ۔ ۔۔ اسکی اس وطن سے محبت کے آنسو بوڑھے “نورالامین“ کی آنکھوں میں منوں مٹی میں دبے قائد نے بھی دیکھے ہونگے اور آسماں بھی کانپا ہو گا مگر ہم  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم تو ٹس سے مس نہیں ہوئے  ۔ ۔ ۔  پھر ہمیں بار بار روندا جانے لگا  ۔ ۔ کیا ہمیں بنگالیوں نے بد دعا تو نہیں دی ؟ کہ جس تکلیف سے ہم نے انہیں کاٹا اور خود کو ان سے افضل سمجھا  ۔ ۔ ۔ آج کہیں انکی بے بسی تو ہمیں نہیں مار رہی ، کہیں اس بوڑھے نورالامین کی روح تو ہم سے کچھ نہیں کہ رہی؟
مگر نہیں ہمیں کچھ نظر نہیں آتا  ۔ ۔  ہم اندھے اور بہرے ہیں  ۔ ۔۔  اللہ نے ہم پر کتنا انعام کیا ؟ ہمیں کیا نہیں دیا ، دین زمین ، صحرا ، سمندر ، کوہستان ، کس چیز کی کمی ہے ہمارے پاس ، عظیم شیر دریا (دریائے سندہ) ، عظیم پہاڑ ، عظیم میدان ، ہمارے پاس دنیا کی ہر چیز موجود ہے ، نہیں موجود تو بس وہ جذبہ ایمانی جس نے ہم سے پاکستان بنوایا تھا  ۔ ۔ ۔
ہم آنے والی نسلوں کے لئے کیا دے کر جائیں گے ، اسلام کا پاکستانی ورژن ؟ یا پھر پاکستان کا اسلام ورژن ؟ مگر شاید وہ نظریہ نہ دے سکیں جو پاکستان کی بنیاد تھا  ۔ ۔ ۔ پاکستان مدینہ ثانی بن سکتا تھا ، بلکے میں تو اب بھی کہتا ہوں کہ بن سکتا ہے ، مگر اسکے لئے اقبال کی فکر ، جناح سی جستجو اور مہاجرین جیسی امید چاہیے  ۔ ۔ ۔ ۔
آج ہمارے ہاتھ ہماری تقدیر ہے ، پاکستان سے محبت کا دعویٰ نہیں کرنا بلکے عمل بھی کر کہ دیکھانا ہے ، پاکستان سے محبت کرنے والے ایک شخص جسکا نام تھا ماؤزے تنگ ، اسکی قوم نے اسکی محبت کا حق ادا کیا ، کیا ہم اپنے قائد سے ویسی محبت کر سکتے ہیں ؟
ماؤزے تنگ نے اپنے بستر مرگ پر اپنی قوم کو کہا تھا ، کہ میرے مرنے کے بعد ، میرا سوگ منانے کا بہترین طریقہ یہ ہو گا کہ تم دو گھنٹے مزید کام کرو  ۔ ۔ ۔ چینی قوم آج جس ترقی کی نہج پر ہے اسکی وجہ ساری قوم کا وہ عمل ہے جو اسنے اپنایا  ۔۔ ۔ چینی آج بھی ماؤزے تنگ کی برسی پر دو گھنٹے مزید کام کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور اسکی کوئی تنخواہ بھی نہیں لیتے  ۔ ۔ ۔ آج بھی چین میں ماؤزے کے دیوانے بنا کسی کے کہے پبلک ورک کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ جسکی کوئی تنخواہ نہین لیتے  ۔ ۔۔ ۔
کیا ہم پاکستان سے محبت کرنے والے اس شخص جیسی سوچ بھی نہیں اپنا سکتے ؟ کہ جو پاکستانی بھی نہیں تھا ۔۔ ۔ 
Advertisements

5 responses to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on جنوری 8, 2008 at 10:18 صبح

    سُبحان اللہ ۔ بہت خوب ۔ آج تو ایسا لگا کہ آپ کی عمر میرے برابر ہو گئی ہے ۔ یعنی آپ ستر سالہ تجربہ رکھتے ہیں ۔

    جواب دیں

  2. Posted by خاور on جنوری 8, 2008 at 10:53 صبح

    بہت اچھی تحریر ہے کسی پیشه ور لکھاری جیسیبابے لگدے او

    جواب دیں

  3. Posted by Mera Pakistan on جنوری 8, 2008 at 3:39 شام

    واقعی آپ نے تقریر نویسی میں کمال کردیا۔ ہوسکتا ہے ایک دن آپ سیاستدانوں کیلیے تقریریں لکھنا شروع کردیں۔ یہ تقریر اگر جلسے میں پڑھی جائے تو لوگوں کی آنکھیں بھیگ جائیں۔

    جواب دیں

  4. ماو کے دو گھنٹے زیادہ کام کرنے والی بات کا کوئی حوالہ؟

    جواب دیں

  5. Posted by Azhar Ul Haq on جنوری 9, 2008 at 6:40 صبح

    آپ سب دوستوں کا بہت شکریہ کہ آپ نے اس تحریر کو پسند کیا ، میں کوشش کرتا ہوں کہ وہ لکھ سکوں جو دل میں ہوتا ہے ،
    اجمل انکل ، آپ تو ہم سب کے لئے ایک مشعل راہ ہیں ، آپ نے وہ سب دیکھا اور گذارا جو ہم اب صرف کتابوں میں پڑھتے ہیں ، میں کبھی کبھی خود پر وہ زمانہ طاری کرنے کی کوشش کرتا ہوں جب یہ سب کچھ ہوا تھا ، تو سوچتا ہوں کہ شاید میں اتنا نہ سہ سکتا جتنا اس وقت کے لوگوں نے سہا ہے  ۔ ۔
    خاور بھائی ، کاش ہم لکھنے کو پیشہ نہ بناتے  ۔ ۔ مگر کیا کریں  ۔ ۔  نزیر ناجی جیسے دوستوں نے اسے پیشہ ہی بنا دیا ہے  ۔ ۔ ۔ اور شاید اسی لئے اب جذبے بکتے ہیں  ۔ ۔  اور خریدے بھی جاتے ہیں  ۔ ۔ ۔
    میرا پاکستان (افضل صاحب) پسند کا شکریہ ، کاش ہمارے آنسو ہمارے پتھر دلوں پر بھی گریں کہ اس میں بھی کچھ اثر ہو  ۔ ۔ ۔
    زیک  ۔ ۔  ریفرنس انٹرنیٹ پر تو ابھی کوئی ذہن میں نہیں ہے مگر ، آپ ماؤ کے معاشرتی انقلاب کے بارے میں پڑھیں گے تو بہت کچھ ملے گا  ۔ ۔ ۔ چائنا کے لوگوں کی محنت پر کوئی دو رائے نہیں ہیں ، وہ محنتی قوم ہے  ۔ ۔ ۔ اور یہ ہی اسکی ترقی کا راز ہے  ۔ ۔۔ ویسے یہ واقعٰی میں نے انشاء جی کی کتاب میں بھی پڑھا تھا اور چئرمین ماؤ – دا چائنا گاڈ کر کہ ایک کتاب تھی اس میں بھی ہے  ۔ ۔ ۔اب کافی عرصہ پہلے کہ بات ہے رائٹر اور پبلیشر ریفرنس یاد نہیں  ۔ ۔  اگر کچھ مل گیا تو ایک تفصیلاً لکھوں گا  چئرمین ماؤ پر  ۔ ۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: