میں ایک خود کش حملہ آور ہوں

میں ایک خود کش حملہ آور ہوں
جی ہاں میں ایک خود کش حملہ کرنے جا رہا ہوں ، مجھے نہیں پتہ کہ میرے ساتھ اور کتنے لوگ میرے جسم پر بندھے بارود کا نشانہ بنیں گے ، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میں شہید ہونگا یا جاں بحق یا ہلاک  ۔۔ ۔  موت  ۔۔ ۔ جو ایک اٹل حقیقت ہے ۔  ۔ آج میں اس حقیقت کا سامنا کروں گا  ۔ ۔ ۔ ۔ میں نہیں جانتا کہ خدا مجھے جنت دے گا یا دوزخ کی آگ ۔ ۔ ۔  مگر شاید میں خدا کو بھی قائل نہ کر سکوں  ۔۔  ۔ جیسا کہ میں خود کو قائل نہیں کر پایا  ۔۔ ۔  ۔
مجھے آج اپنی ساری زندگی یاد آ رہی ہے  ۔ ۔ ۔۔ میری ماں نے چھوٹی عمر میں ہی مجھے مدرسے میں بھیج دیا تھا ۔ ۔ ۔ ہم سات بہن بھائی تھے  ۔۔ ۔ میرے والد ایک چھوٹی سی دوکان چلاتے تھے  ۔ ۔ ۔مگر اس سے گھر کا گذارا بہت مشکل تھا  ۔۔ ۔  سو مجھے اور بھائی کو مدرسے میں بھیج دیا گیا  ۔ ۔ ۔پھر ہم نے یہاں ہم نے تعلیم کا آغاز کیا  ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے بتایا گیا کہ ہمارا مذہب بہت آسان ہے  ۔ ۔ ۔ یہ دنیا کا واحد مذہب ہے جسکی بنیاد انسانیت ہے  ۔  ۔ ۔پھر مجھے پتہ چلا کہ ہمارے مذہب میں بہت سارے فرقے ہیں  ۔ ۔ ۔۔  مگر حق پر صرف ہمارا ہی فرقہ ہے  ۔ ۔ ۔ دوسرے لوگ جو ہمارے ہم مذہب ہیں وہ کافروں سے بھی بدتر ہیں  ۔ ۔ ۔ اور ہمارا مشن انکا حاتمہ ہونا چاہیے  ،۔  ۔  ،
میرے بڑے بھائی کو ایک دن کچھ لوگ لے گئے ۔۔ ۔ ۔ وہ کہتے تھے کہ وہ مخبر ہے  ، ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں وہ کیسا مخبر تھا  ۔  ۔  جسکی خبر آج تک ہمیں نہیں ملی  ۔۔ ۔ ۔ میری دو بہنوں کی شادیاں ہو چکی ہیں  ۔ ۔ ۔ اور وہ بھی زندگی کو کاٹ رہیں ہیں  ۔ ۔ ۔۔  ایک کا شوہر شرابی اور جواری ہے دوسری کا شوہر  ۔ ۔ ۔ ایک مسجد میں پیش امام ہے  ،  ۔ ۔ ۔ جسکی کل کائنات مسجد ہے  ۔، ۔ ۔ ۔ ۔میں نے آج دن تک ان دونوں کو کبھی ہنستے نہیں دیکھا  ۔ ۔ ۔ ۔۔ جانے کیوں  ۔ ۔ ۔
ماں تو بچپن میں ہی چھوڑ گئی تھی    ۔ ۔۔   ابا کی چھوٹی سی دوکان ہے جسمیں  وہ پرچون کی چیزیں رکھتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارا گھرانہ بہت مذہبی مانا جاتا ہے  ۔ ۔۔ ۔ مگر میرے گھر میں ہر طرح کے لوگ ملتے ہیں  ۔۔ ۔۔ دو بھائی ہیں  ۔ ۔ ۔ ایک کا کام ہے سڑکوں کی خاک چھاننا اور دوسرے کا کام ہے  ۔ ۔ ۔ٹھگنا  ۔۔۔ ۔  دو بہنیں ابھی تک کنوری ہیں  ۔ ۔۔  رشتے ملتے ہی نہیں  ۔ ۔ ۔
آج مجھے میرے دوست بہت یاد آ رہے ہیں  ۔   ، ، ،  ، ایک شرف الدین ہے جو  ،،، ،  میرے ساتھ ہی جوان ہوا  ۔   ۔۔ اب خلیجی ریاست میں رہتا ہے کبھی فون کرتا ہے کبھی خط بھی ڈال دیتا ہے جس میں باہر کے ملکوں کی قصیدہ گوئی ہی ہوتی ہے اور جب وہ وطن واپس آتا ہے تو  ۔ ۔ ۔  اسے اپنی مٹی بہت بری لگتئ  ہے  ۔ ۔ ۔
ہاں تو آپ کہیں گے کہ میں خود کش حملہ کیوں کر رہا ہون  ۔ ۔ ۔۔ رٹا ہوا جواب ہے کہ ہمارے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اسلئے کر رہا ہوں  ۔ ۔ ۔اور دل کی آواز ہے کہ بس بھائی سے ایک دفعہ مل لوں  ۔ ۔ ۔ ۔ مگر شاید اب اسکا موقعہ نہ ملے  ۔۔ ۔۔  میں نے اپنے آپ کو مرنے کے لئے تیار تو کر لیا ہے مگر میں خود نہیں جانتا کہ اس سے ہو گا کیا ؟ کیا میرے بعد زندہ رہنے والوں کو انصاف ملے گا ؟ میرے خیال میں تو کبھی نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ جیسے مجھے خود پر اعتبار نہیں کہ میری موت رائگاں جائے گی  ۔ ۔ ۔ اسی طرح مجھے اپنے ساتھیوں پر یقین ہے کہ وہ کسی دن ضرور مارے جائیں گے یا مار دئیے جائیں گے  ۔ ۔ ۔ ۔۔
میری خواہش ہے کہ مجھے اس حملے پر معاف کر دیا جائے   ۔۔ ۔ ۔ میں شاید بہت ہی مجبور تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ میرے ساتھ مرنے والے تو شاید روز جنت میں جائیں مگر  ۔ ۔ ۔ میں  ۔۔ ۔ ۔  مرنے والوں کو لاکھوں روپے ملیں گے  ۔۔۔ ۔ عینی شاہدوں کا مار دیا جائے گا  ۔ ۔ ۔ مگر پتہ نہیں میرے دل میں یہ خیال کیوں آتا ہے کہ اگر یہ ہی پیسہ انہیں لوگوں پر خرچ کیا جاتا تو شیاد اس تصادم کی نوبت ہی نہ آتی  ۔ ۔ ۔
میں اپنا وجود ختم کر رہا ہوں ۔۔ ۔ ۔۔  میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے دنیا کو دینے کے لئے  ۔۔ ۔ سوائے موت کے  ۔ ۔  سو وہ دے رہا ہوں  ۔ ۔ ۔ میں نے رب کو یاد نہیں کیا اس وقت کیونکہ  ۔۔ ۔ میرا رب میرے ساتھ ہی رہتا ہے  ۔ ۔ ۔ اور اب میں اسی کے پاس مستقل جا رہا ہوں  ۔ ۔ ۔ بے بسی مجبوری ہی اس حملے کی وجہ ہیں  ،   ، ، ، شاید کوئی یہ مجبوری سمجھے  ۔۔ ۔۔  مگر  ، ، ،،  اب ایسا نہیں ہو سکتا  ۔۔۔ ۔ ۔، ،،  مرنا تو ہے نا ایک دن  ۔۔۔  تو آج ہی کیوں نہیں ؟؟؟
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: