لال آنسو!!

باخبر ہونا بھی ایک عذاب سے کم نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ شخص کیا کرے جو سب جانے اور بے بس بھی ہو  ۔۔ ۔ جذباتی بھی ہو اور حساس بھی ۔ ۔ ۔ شاعر بھی ہو اور لکھاری بھی  ۔ ۔ ۔
کبھی کبھی مستقبل آپکے سامنے کھڑا ہوتا ہے ، کبھی کسی حسین دوشیزہ کی شکل میں اور کبھی ایک بھیانک حقیقت کی شکل میں  ۔ ۔ ۔ ۔ مستقبل جو ایک فرد کا نہیں ہوتا سب کا ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔ مگر یہ کیا ہوا کہ ہم سب کے سامنے ہمارا مستقبل اپنی بھیانک شکل لے کر کھڑا ہو گیا  ۔ ۔ ۔۔
میں کبھی اچھا مسلمان نہیں رہا  ۔۔ ۔۔ اللہ کے احکام کو مانتا ضرور ہوں مگر بے عمل بہت ہوں  ۔ ۔ ۔ ۔ ایک چیز جو مجھ میں بہت ہی غلط ہے وہ جھوٹ سے بچنے کی عادت  ۔ ۔ ۔مگر اب  ۔ ۔ ۔ کیا سچ ہے کیا جھوٹ ۔ ۔ ۔  اسکا کوئی مطلب نہیں ۔ ۔۔ ۔
آج جو کچھ ہوا ، وہ اسلام کے نام پر ہوا  ۔ ۔ ۔  ۔ مسلمان مارے گئے  ۔۔  ۔ اسلام کے نام پر  ۔ ۔۔  مسلمانوں نے مارا  ۔ ۔ ۔ اسلام کے نام پر  ۔ ۔ ۔  ۔۔ اس ملک میں مارا جو اسلام کے نام پر بنا  ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس شہر میں جسکا نام ہی اسلام کے نام پر رکھا گیا  ۔ ۔ ۔ اور اس جگہ پر مارا گیا جہاں اسلام کی تعلیم دی جاتی تھی جہاں اسلام  ۔ ۔ ۔ کی “پریکٹس“ کی جا رہی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔
جو مارے گئے  ۔۔ ۔ تاریک راہوں میں  ۔۔ ۔تاریک گوشوں میں  ۔ ۔ ۔ ۔ اور شاید تاریکی ۔ ۔ ۔۔ ۔ میں ۔ ۔ ۔  وہ کوئی اور نہیں ہم تھے  ۔  ۔ مجھے اسلام کی کوئی فکر نہیں ۔ ۔۔  ۔ ۔ کیونکہ اسکی حفاظت اور تبلیغ کا “ٹھیکہ“ اس کو پسند کرنے والے رب نے لے رکھا ہے  ۔۔  ۔ مجھے فکر ہے  ۔ ۔ ۔ اپنے مسلمانوں کی  ۔۔  ۔ یہ وطن کہیں  ۔۔  ۔ ۔ سربیا یا چیچینیا نہ بن جائے  ۔۔۔  ۔ جہاں لوگوں کے نام تو مسلمانوں جیسے ہوں اور  ۔ ۔۔۔  “کرتوت“  ۔۔ ۔ ۔ ملحدوں جیسے  ۔ ۔  ۔ ۔
آج روشن خیال بہت خوش ہونگے  ۔ ۔ ۔ ۔ اب کُھل کر کھیلیں گے  ۔۔۔ ۔ ۔ نہ کوئی پابندی  ۔ ۔ ۔ ۔ نہ کسی ملا کا ڈر  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب تو عورتیں برقعہ نہیں پہنیں گیں  ۔۔ ۔ ۔کہ وہ اب مسلمان علماء کا “کیمو فلاج“ ہے  ۔ ۔۔  ۔اب کوئی بچہ  ۔ ۔ ۔۔ ۔ بچپن میں مسجد نہیں جائے گا  ۔۔ ۔ ۔۔ کہ کہیں اسے “طالب“  نہ بنا دیا جائے  ۔۔  ۔ ۔
آج رات  ۔ ۔ ۔ ۔ ہم سب سکون سے سوئیں گے  ۔ ۔ ۔ ۔ کہ اب کوئی ملا نہیں  ۔ ۔۔ کچھ دن تک شاید کچھ سرپھرے  ۔ ۔ ۔ ۔ “اوچھی“ حرکتیں کریں  ۔۔ ۔  ۔ اور کچھ مزید مسلمانوں کو “شہید“ کے رتبے پر فائز کریں   ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر  ۔ ۔ ۔  یہ یقین ضرور ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ کہ مستقبل کی جو بھیانک شکل سامنے کھڑی ہے  ۔ ۔ ۔  اسکے پیچھے شاید ایک امن کی دوشیزہ بھی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ مگر  ۔ ۔ ۔ ۔ میں جانتا ہوں کہ امید کا سورج اگر کبھی ڈھل بھی جائے تو  ۔ ۔ ۔ ۔ بھی اسکی کرنیں اگلی صبح تک  ۔ ۔ ۔ ایک ننھے سے چراغ کی شکل میں روشن رہتیں ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ مگر  ۔ ۔  ۔
مگر یہ باخبر ہونا بھی عذاب ہے  ۔۔۔  ۔۔شاید بہت بڑا عذاب  ۔ ۔ ۔ ۔ جو حقیقت کی شکل میں ہم پر نازل ہو رہا ہے  ۔ ۔۔ ۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
یارب  ۔۔ ۔۔
یہ خوں کی بارش میں ۔ ۔ ۔ ۔
ہمارے سفید کپڑے  ۔۔ ۔  ۔
ہمارے سنہرے جسم ۔ ۔ ۔ ۔
داغدار ہو گئے ہیں  ۔ ۔   ۔
اے رب  ۔ ۔ ۔
اب برسا ۔ ۔  ۔ ۔
وہ پانی  ۔ ۔ ۔ ۔ آنکھوں سے  ۔ ۔ ۔
جس سے دھل جائیں  ۔۔  ۔ ۔
جسم ہمارے  ۔  ۔ ۔
تاکہ یہ کفن  ۔ ۔ ۔ ۔ صاف ہوں  ۔ ۔ ۔ ۔
اور ہم  ۔۔ ۔  مٹی میں جا بسیں  ۔ ۔ ۔
———————————————————————————————————
درد کے لمحوں میں ، جو آنکھیں بھیگ جاتیں ہیں
ان آنسوؤں کا رنگ  ۔ ۔  نہ جانے کیوں لال ہوتا ہے
Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by کاشف on جولائی 18, 2007 at 1:24 شام

     میری آنکھیں نم ھو گئی ھیں۔۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: