کبھی بجلی یہ گرتی ہے ، کبھی پانی برستا ہے

کبھی بجلی یہ گرتی ہے ، کبھی پانی برستا ہے
میرے شہر کا ہر باسی ، جلتا ہے تڑپتا ہے
 
کوئی مارا جاتا ہے ، کوئی آفت سے مرتا ہے
ہر دن کا سورج نئے دکھ دے کہ ڈھلتا ہے
 
آنسو آنکھوں سے نہیں عرش سے برستے ہیں
زمیں خوں سے رنگتی ہے ، جو لمحہ بدلتا ہے
 
پکے گھروں والے ، گھی کے دیپ جلاتے ہیں
کچی اینٹوں کا مکیں ،  اینٹوں میں ہی دبتا ہے
 
آباد اب ہیں قبریں ، برباد ہوا ہے شہر مرا
زندہ رہ جانے والا زندگی سے اب ڈرتا ہے
 
میں مجرم ، تم مجرم ، مجرم ہیں سارے ہم
گناہ اپنے بڑھتے ہیں جو معصوم کوئی مرتا ہے
 
اظہر کاش کوئی سمجھے ، کوئی جانے ، کوئی مانے
مٹ جاتا ہے ظلم سارا ، جب حد سے گذرتا ہے
 
Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by Mera Pakistan on جون 26, 2007 at 10:11 صبح

    بہت خوب

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: