ڈاکٹر زواگو ۔ ۔ انقلاب کی کہانی

دنیا کی تاریخ انقلابات سے بھری پڑی ہے ، وہ ہزاروں سال پہلے کے یونانی ، ایرانی یا پھر ہندوستانی انقلاب ہوں ، یا مذہبی انقلاب ، یا پھر جدید دور میں ، فرانسیسی، جرمن ، امریکن یا روسی انقلاب ۔ ۔۔ ہر انقلاب ایک نیا نظام لاتا ہے ، اور ہر نئے نظام کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ انسانیت کی بقا اور سلامتی کے لئے بنا ہے ، مگر کچھ ہی عرصے کے بعد اس نظام میں درڑاڑیں پڑ جاتی ہیں ۔ ۔۔  ۔ یا پھر ڈال دی جاتیں ہیں ، اگر انسانی نظام ہو تو اسکا متبادل ڈھونڈ لیا جاتا ہے اور اگر آسمانی نظام ہو تو اسے تبدیل کیا جاتا ہے  ۔ ۔ ۔غرض ہر دور میں نظام انقلاب سے بدلا جاتا ہے ، اور ہر تبدیلی میں مزاحمت ہوتی ہے ، اور ہر مزاحمت میں خون بہتا ہے اور ہر بہتے خون سے ایک کہانی جنم لیتی ہے جسے دنیا یاد رکھتی ہے  ۔
 
ایسی ہی کچھ کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے ڈاکٹر زاواگو کی ، جسے ایک روسی ادب کا شاہکار بھی کہا جاتا ہے ، مجھے روسی ادب میں دستووہسکی کا شاہکار ناول “ایڈیٹ“ بہت پسند ہے وجہ ہے اسکا کردار پرنس میشکن ، جو ایک سیدھا سادا سا جوان ہے اور سینٹ پیٹسبرگ میں جب آتا ہے تو اپنی سادہ لوحی سے نستاسیا فلی پوانا سے لیکر ایدلایا تک کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے ، دستو وسکی کا یہ ناول زار کے دور کے اواخر کا بتاتا ہے مگر اس کی انتہا ہمیں “بورس پاسٹر نیک“ کے ناول ڈاکٹر زاواگو میں نظر آتی ہے  ۔ ۔ ۔ میں دونوں ناولوں کو سامنے رکھوں تو پرنس میشکن ڈاکٹر زواگو سے زیادہ خوش قسمت نظر آتا ہے  ۔ ۔ ۔ بے شک پرنس میشکن سب کچھ بھول جاتا ہے مگر اسکے پاس ادلایا رہتی ہے ، مگر زواگو ، سڑک پر بے بسی سے مر جاتا ہے  ۔ ۔ ۔
 
بورس پاسٹرنیک نے یہ کہانی روسی میں لینن کے انقلاب کے زمانے میں بیان کی ہے ،  اور انقلاب کو پنپتے ہوئے بھی بتایا ہے ، اس ناول پر جو شاہکار فلم بنائی گئی اسے ڈیوڈ لین نے ڈائریکٹ کیا تھا ، عمر شریف نے لازوال کردار کو اپنی اداکاری سے لازوال بنا دیا ۔ ۔ ۔  مجھے آج یہ فلم اپنے ملک کے حالات دیکھ کر یاد آئی اور اسکے کچھ ڈائلاگ بھی  ۔  ۔ ۔ یہ فلم ١٩٩٤ تک روس میں دکھائی نہیں جا سکی تھی ، اور اس ناول پر بھی پابندی تھی ، ١٩٥٨ میں بورس پاسٹرنیک کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا تھا اس ناول پر مگر روسی حکومت کے دباؤ پر اسنے یہ ایوارڈ قبول نہیں کیا تھا ، اور شاید وہ اسٹالن کی شان میں کچھ نظمیں نہ لکھتا تو شاید وہ زندہ بھی نہ رہتا  ۔ ۔ ۔ ۔ مگر اب ڈاکٹر زواگو کی شکل میں وہ رہتی دنیا تک زندہ رہے گا  ۔۔ ۔
 
ایک لکھنے والا جب قلم اٹھاتا ہے تو وہ بہت کرب سے گذرتا ہے ، پہلے وہ یہ کرب کتاب میں بیان کرتا تھا پھر موسیقی اور شاعری میں اور اب فلم کی شکل میں بھی یہ کرب بیان کیا جاتا ہے ، اور خاصکر جب کوئی قوم کسی انقلاب کی طرف پیش قدمی کر رہی ہو یا اسے دھکیلا جا رہا ہو ، تو اس قوم کے ادیب و شاعر اس قوم کی بہتری کا سوچتے ہیں لکھتے ہیں  ۔ ۔  اور گاتے ہیں ، اور تماثیلیں بیان کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ جس سے قوم کی رہنمائی ہوتی ہے  ۔ ۔ ۔ ہم سب اس دور سے گذر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں میں فلم ڈاکٹر زواگو کے کچھ ڈائلاگ لکھ رہا ہوں  ۔ ۔ اب آپ کا کام ہے کہ انہیں آپ کن معنیٰ میں لیتے ہیں  ۔ ۔  مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ الفاظ کسی کے بھی ہوں  ۔ ۔ حالات ہمارے ہی بیان کر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔
—————————————-

– ایک شخص کا ایندھن کے لئیے ترسنا ، دکھ دیتا ہے ، مگر کچھ لاکھ افراد کی ضرورت شہر کو آگ لگا دیتی ہے

 

جب ایندھن ختم ہو گیا تو اسنے وسائل کی تقسیم کرنے والوں سے پوچھا
کیا اب ہم اسی طرح سے سردیوں میں رہا کریں گے ؟
 
-اور جب کوئی امن کا سبق دیتا ہے تو انقلابی کہتا ہے
انہوں نے بچوں اور عورتوں کو جانوروں کی طرح بٹھا دیا جو روٹی مانگ رہے تھے ، اب کوئی بھی پُر امن احتجاج نہیں کرے گا
 
 اور ایک نیک دل دشمن یوں کہتا ہے  ۔ ۔
یہ جو لوگ آج میرے ساتھ میرے ساتھی بن کر آئے ہیں ، کل یہ ہی لوگ فائرنگ اسکواڈ کے ساتھ آئیں گے تمہارے اور تہمارے گھر والوں کے لئے ، بولو کیا میں تمہارا دشمن ہوں جو تم میرے ساتھ نہیں چلتے
 
(یہ مجھے بہت پسند ہے)
– اور جب زواگو کو زبردستی اپنے ساتھ لے جایا جاتا ہے ، تو وہ پوچھتا ہے
مجھے کہاں لے جا رہے ہو
سرحد پر
مگر سرحد تو بہت دور ہے
جہاں سے ہمارا حکم نہیں مانا جاتا ، وہیں سے سرحد شروع ہو جاتی ہے
 
اور جب وہ اپنے قدموں پر کھڑے رہنے کے قابل نہیں رہتے تو وہ وہ ہی کرتے ہیں جسکا خواب کوئی فوج سوچا کرتی ہے
یعنی وہ اپنے گھر واپس جاتے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور وہی انقلاب کی شروعات ہوتی ہے
 
اور ان الفاظ کا مزہ شاید انگلش میں زیادہ ہی ہے
In bourgeois terms, it was a war between the Allies and Germany. In Bolshevik terms, it was a war between the Allied and German upper classes – and which of them won was of total indifference. My task was to organize defeat, so as to hasten the onset of revolution. I enlisted under the name of Petrov. The party looked to the peasant conscript soldiers – many of whom were wearing their first real pair of boots. When the boots had worn out, they’d be ready to listen. When the time came, I was able to take three whole battalions out of the front lines with me – the best day’s work I ever did. But for now, there was nothing to be done. There were too many volunteers. Most of it was mere hysteria.
 
– مجھے تہماری شاعری بہت پسند ہے
شکریہ
کیا تم یہ نہیں سمجھتے کہ یہ جذباتیت وغیرہ فضول ہیں اب ، کیونکہ روس میں نجی زندگی مر چکی ہے ، تاریخ نے اسے مار دیا ہے ،  اور شاید اسی لئے تم ہم سے (اشتراکیت سے) نفرت کرتے ہو
میں اس سب سے نفرت کرتا ہوں جو تم نے کہا مگر اتنی نہیں کہ تمہیں قتل کر دوں
 
– اور جب ایک شخص کہتا ہے ، کہ ایک بری خبر ہے ، 
کیا ہمارے کھیت جلا دئیے
نہیں اس سے بھی بری ہے
کیا اب چائے پر بھی پابندی ہے
انہوں نے زار (روسی بادشاہ ) کو خاندان سمیت قتل کر دیا ہے
یہ تو ہونا تھا  ۔ ۔ ۔ مگر ایسے ؟؟؟؟
 
 
اور شاید یہ پنچ لائین ہے  ۔ ۔۔ 
In the hour of victory, the military will have served its purpose – and all men will be judged POLITICALLY – regardless of their military record! Meanwhile, there are still White units in this area – the Doctor stays
 
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: