دعا

اس دنیا کے خداؤں کو بہت زعم ہے خود پر
اے خدا تیرے ماننے والے کدھر جائیں  ۔ ۔
نہ تو آتا ہے زمیں پر
نہ یہ لوگ اترتے ہیں آسماں سے
انکی ہی حکومت ہے
جدھر سوچیں جدھر جائیں  ۔ ۔
اس قحط کے موسم میں بارش کی امید
سچ تو یہ ہے کہ اب امید بھی نہ رہی
حلق خشک ہیں ، اور بدن لاغر
شب کو کیسے گزاریں
کیسے ہم سحر لائیں  ۔ ۔ ۔
قانون زمیں پہ آسمانوں کا چلتا ہے
انسان پہ زور تو انسانوں کا چلتا ہے
ظلم تو اک چھوٹا سا لفظ ہے
جو خود رو سا بڑھتا ہے
ماتم کدے ہیں ، گھر اب سارے
جس راہ سے ہم گذر جائیں ۔ ۔ ۔
اے رب ۔ ۔
رحمت کا اپنی نزول کر
آج اس شب کو سحر کا حصول کر
جو مرجھانے لگی ہے کلی اسے پھول کر
ظلم کا یہ دور اب بھول کر
تو ہی سہارا ہے دکھتے دلوں کا
تو ہی مداوا ہے ٹوٹے حوصلوں کا
آ  ۔ ۔ ۔ اب گرتوں کو سنبھال
زمیں پہ اتر کر ۔ ۔ ۔
سرخ آندھیوں سے کہیں
دعائیں نہ ہی بکھر جائیں  ۔ ۔ ۔
دنیا کے خداؤں کے ہاتھوں  ۔ ۔ ۔
اے خدا تیرے ماننے والے  ۔ ۔
کہیں مر نہ جائیں  ۔ ۔ ۔
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: