اس موقعے کو ضائع نہ کریں

 
پچھلے ہفتے سے جو کچھ لال مسجد اور حکومت کی طرف سے ہو رہا ہے اس سے تو یہ لگتا ہے کہ یہ سب کچھ صرف توجہ بٹانے کے لئے ہے اور عوام کو اصل مسائل سے گمراہ کیا جا رہا ہے ، ایک حدیث کے مطابق مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا مگر لال مسجد والے روز  لوگوں کو پکڑ کر چھوڑ دیتے ہیں اور دوسری طرف بار بار طلبہ کو پکڑا جا رہا ہے  ۔  ۔   ۔  اب عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ یہ چوہے بلی کا کھیل ہے  ۔ ۔ ۔ جیسا کہ اپوزیشن اور حکومت کھیل رہی ہے ، اور جیسے وکیل اور حکومت مل کر  صرف وقت زیاں کر رہے ہیں  ۔ ۔  اور عوام ہے کہ مہنگائی اور دھشت گردی کی شکار ہو کر مجسم ہو چکی ہے  ۔ ۔ ۔ زبانیں کنگ ہیں اور جسم لاغر  ۔ ۔ ۔ کچھ امید تھی کہ چلو کوئی بولا ہے اسلام لانے کے لئے مگر انکا خود کا عمل اتنا غیر مبہم ہوتا جا رہا ہے کہ بہت جلد لوگ اس سے متنفر ہو جائیں گے  ۔ ۔ 
اب ان سب باتوں کا حل کیا ہے ، حل وہ ہی ہے جو ہماری آقا و مولا نے ریاست مدینہ میں دیا تھا اور جو خلفہ راشدین نے اپنایا تھا  ۔ ۔  کاش جامعہ حفصہ اور لال مسجد والے صرف اتنا ہی سوچ لیں کہ وہ مثال بنیں  ۔ ۔ ۔  مولانا رشید صاحب یہ تو کہتے ہیں کہ ہمیں مظلوم بننا پسند ہے مگر  ۔ ۔ ۔ عملی طور وہ جانے کیوں خود کو ظالم ثابت کرنے پر تُلے ہیں  ۔ ۔ ۔ 
ایک ہماری فوج ہے جو اپنے ہی ملک کو بار بار فتح کر رہی ہے ، دوسری طرف ہمارے سیاست دان ہیں جو اپنی جیبیں بھر رہے ہیں ، تیسری طرف ہمارا مذہبی طبقہ ہے  ۔ ۔  جو زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کرتا  ۔ ۔ ۔ عملی طور پر کوئی بھی ہمیں ایسا نظر نہیں آتا جسکی ہم تقلید کریں  ۔ ۔ ۔ اور چوتھی جانب عوام ہیں جو بے بسی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ جہاں کہیں امید کی کرن نظر آتی ہے عوام اسکا ساتھ دیتی ہے مگر تھوڑے ہی وقت میں وہ امید کی کرن اپنی قیمت وصول کر کہ بجھ جاتی ہے اور پھر وہ ہی گھٹا ٹوپ اندھیرا  ۔ ۔ ۔
لال مسجد والے کہتے ہیں ، ہم زمینی حقائق نہیں بلکہ آسمانی احکام مانتے ہیں  ۔ ۔ ۔ آج آسمانی احکام ہی مان لیں لال مسجد والے  ۔ ۔ ۔اور مظلوم بن جائیں  ۔ ۔ ۔ میری نظر میں اس وقت لال مسجد اور جامعہ حفصہ اگر یہ کام کر لیں  ۔ ۔ تو نہ صرف یہ ملک بلکہ ہم سب کی دنیا بدل جائے اور آخرت بھی  ۔ ۔
١ – پنڈی اور اسلام آباد میں صفائی کریں  ۔ ۔  جی ہاں خاکروب بنیں  ۔ ۔  شہر کا کوڑا اٹھائیں  ۔ ۔ اور اسے ٹھکانے لگا دیں ، کوڑا جو ہر گھر سے نکلتا ہے  ۔ ۔ ۔  یعنی پنڈی اور اسلام آباد کی کوئی نالی بند نہ ہو  ۔۔ ۔ اور بو نہ آئے  ۔ ۔ یقین کریں  ۔ ۔  جب آپ خود کو سب سے کمتر ثابت کریں گے ۔ ۔ ۔ تبھی آپ بڑی صفائی کر سکتے ہیں  ۔ ۔
٢- جامعہ حفصہ کی حواتین  ۔ ۔ صرف پنڈی اور اسلام آباد میں ، عورتوں کے مسائل حل کریں گھر گھر جائیں  ۔ ۔  پہلے انکے مسائل سنیں  ۔ ۔ خالی نماز روزے کی تلقین کرنے سے کوئی مسلہ حل نہیں ہوتا  ۔ ۔  کسی درد بھرے دل کی داستاں سننے سے بھی کچھ اثر ہوتا ہے  ۔ ۔ پنڈی اور اسلام آباد میں بہت سارے گھرانے ایسے ہیں جو اپنی بچیوں کے رشتوں کے لئے بیٹھے ہیں  ۔ ۔ آپ ان کے یہ مسلے حل کریں  ۔ ۔ ۔ اگر آپ خود کو پانی کا کنواں سمجھتیں ہیں تو پیاسوں کی پیاس بھجھائیں یاد رکھیں اس وقت ہم پیاس سے اتنے نڈھال ہیں کہ ہمیں کنویں کے آنے کا انتظار ہے  ۔ ۔ ہم خود کبھی کنوایں کے پاس نہیں جا سکیں گے  ۔ ۔ ۔
٣- جدید دور کا ساتھ دیں  ۔ ۔  جس طرح ایک سادہ صفحے پر مغلظات یا پھر آیات لکھی جا سکتیں ہیں اسی طرح فلموں اور ڈراموں سے بھی یہ کام لیا جا سکتا ہے  ۔ ۔ ۔ ہم اس وقت برائی کو اپنی زندگی کا حصہ مان چکے ہیں  ۔ ۔ ۔  ہمیں اس وقت سیدھا کرنے کے لئے نرم کرنا ہو گا  ۔  ۔ اور نرمی ، سختی برتنے سے نہیں آتی  ۔ ۔۔  نرم خوئی ہی اسکا سبب بنتی ہے  ۔ ۔ ۔  آپ کو احساس دلانا ہو گا کہ غلط کیا ہے اور صحیح کیا ہے  ۔ ۔ ۔  اس وقت آپ فلموں اور ڈراموں کو عہد نبوی (ص) کے وقت میں کعبے میں رکھے بُت سمجھ لیں  ۔ ۔  جنہیں توڑنے کے لئے  ۔ ۔  مکہ بنا خون بہائے فتح کرنا ہو گا  ۔ ۔ ۔ اور اسی کعبے کو اپنے انداز کے نت نئے ڈائزائنوں سے سجانا ہو گا کہ وہ بھلا بھی لگے  ۔ ۔۔  اگر اللہ قرآن میں قصے بیان کرتا ہے ہمیں سمجھانے کے لئے تو ہمیں بھی میڈیا کا ہر میڈیم استعمال کرنا ہو گا ، چاہے وہ موسیقی ہو ، شاعری ہو یا پھر تمثیل  ۔ ۔ ۔ ۔ 
٤ – ہمارے علماء کرام سارا وقت عوام کو عبادات سکھاتے ہیں  ۔ ۔ ۔ معملات سکھاتے ہیں ، مگر زندگی کے سکھ نہیں سکھاتے ، ہم اس وقت فرقوں میں اتنے بٹ چکے ہیں  ۔ ۔  کہ ہر آدمی اپنا فرقہ رکھتا ہے  ۔۔ ۔  ۔  بات اب مذاکرات کی نہیں ، بلکہ عمل کی ہے  ۔ ۔ ۔ ہم جو کہ رہے ہیں ہمیں کرنا بھی ہے  ۔  ۔ اختلاف کو ایک بنیادی حق تسلیم کرنا ہے  ۔ ۔۔ اور خود کو اس معاشرے میں ایلین نہیں بنانا بلکے اسی کا حصہ بنانا ہے  ۔ ۔  ۔ کیا ہم اس وقت اس گاؤں کی طرح نہیں ہو رہے جس کے چوہدری کے گھر میں تو کتوں کو بھی تازہ کھانا ملتا ہے اور اسی حویلی سے نیچے  غریب کسان بھوکا سوتا ہے   ۔۔  ۔ کام کرنے والوں کو گالیاں اور نام والوں کی قوالیاں  ۔  ۔۔
کہنے اور بہت کچھ ہے  ۔ ۔ مختصر یہ کہ  ۔۔۔  ۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے لوگ  ۔ ۔ ۔ قلعہ بند ہو کر نہ بیٹھیں عوام میں نکلیں  ۔۔ ۔ یقین کریں  ۔ ۔ ۔ پاکستان کی عوام اسلام سے بہت پیار کرتی ہے  ۔ ۔  اور اسکے لئے سب کچھ لٹا دے گی  ۔ ۔ ۔ آپ اگر اب سامنے آ ہی گئے ہیں  ۔ ۔۔  تو خداراہ باہر نکلیے  ۔۔ ۔  اس عوام میں آئیے  ۔ ۔ ۔ ہاں قربانی دینی پڑے گی  ۔  ۔ ۔ اسکے لئے آپکو  ۔ ۔ ۔ اپنے اوپر سے خود کو بہترین مسلمان کا خول اتارنا ہو گا  ۔ ۔ ۔ آپ کو بتانا ہو گا کہ آپ بھی عوام جیسے ہیں  ۔ ۔ ۔ ایک بے نمازی مسلمان کو نمازی بنانے کے لئے اسکی زندگی کو بدلنا ہو گا  ۔ ۔ ۔ اسکے دکھ سن کر اسکی مدد کر کے  ۔۔ ۔ ۔ اللہ نے آپکو موقع دیا ہے اسے ضائع نہ کریں  ۔ ۔ ۔ ورنہ آپ اور حکومت تا قیامت چوہے بلی کا کھیل کھیلیں گے اور عوام اس میں پستی رہے گی  ۔   ۔ اور دین سے مزید متنفر ہوتی رہے گی  ۔ ۔
اللہ ہم سبکو نیک ہدایت دے (آمین)
Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by Mera Pakistan on مئی 22, 2007 at 5:59 شام

    ہمارا یہی خيال ہے کہ لوگ اب جاگ رہے ہیں بیشک ان کے جاگنے کی رفتار سست ہے۔ ہم اسی دن بدلیں گے جس دن ہم نے نیک اور صالح اپنے لیے منتخب کیے۔ موقع سے فائدہ تبھی اٹھائیں گے جب موقع کو غنیمت جانیں گے۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: