آج میں اپنے آپ میں خود مر گیا ۔ ۔ ۔

آج پھر شہر میں آگ لگی
آج پھر شہر میں قتل ہوئے
آج پھر سیاست جیت گئی
آج پھر انسانیت رسوا ہوئی
آج جب انساں مر رہے تھے یہاں
تو دور کہیں ڈھول کی تھاپ پر
شیطاں رقصاں تھے ، ظالم ہنستے تھے
اک ہجوم انساں تھا، جو زندہ نہ تھا
آج پھر شور جیت گیا ، خاموشی سے
آج پھر طرب جیت گیا ، حزن سے
آج میں نے جانا کہ زندگی کچھ اور ہے
آج میں نے جانا کہ سیاست بھی کچھ اور ہے
آج میں نے طاقت کو سچ بناتے دیکھا
آج میں نے جھوٹ کو سجاتے دیکھا
آج میں نے جو دیکھا وہ اندھوں نے بھی دیکھا
نہ دیکھا تو طاقت والوں نے نہ دیکھا
آج میرے شہر میں کوئی نہیں مرا
آج میں اپنے آپ میں خود مر گیا  ۔ ۔ ۔
Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on مئی 14, 2007 at 5:09 صبح

    آج بھی جو نہ چونکا مدہوشی سے
    سمجھو اس کا ضمیر مکملے مر گیا

    جواب دیں

  2. Lovely … but really what’s happening is bitter and tragic … and its becoming a routine :|Nice blog, btw :> Commenting and all that on live spaces just take loads of time in loading :\

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: