دیوتا بن کہ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس

کل جو وطن میں ہوا ، اس پر بہت کچھ کہا جائے گا اور کہتے رہے گے ہم  ۔ ۔ ۔ مگر اس وقت صرف یہ ہی ذہن میں گونج رہا ہے
 
بن ٹھگ بازی اس دنیا میں بنا ہے کون رئیس
دیوتا بن کہ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس
 
انسانوں کا خون بہا کر رقص کریں فرعون
لمبے ہاتھ ستمگاروں کے ، مجبوروں کا کون
راتوں کے پردے میں کھیلیں کیا کیا کھیل خبیث
دیوتا بن کہ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس
 
سارے شہروں پر چھائی ہے اک دھشت بن رین
کس سے پوچھیں اس دھرتی کا لوٹا کس نے چین
حال وطن کا دیکھ کہ دل میں میرے اٹھے اک ٹیس
دیوتا بن کہ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس
 
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: