آپریشن ب حجاب

کل مدیحہ گوہر نے اپنے “آپریشن ب حجاب“ والے سٹیج کے ڈرامے پر پابندی کے خلاف کہا کہ اس ڈرامے میں کچھ ایسا نہیں کہ جس پر اسلام پسندوں کو گلہ اور گلہ تو انہیں ہے روشن خیال حکومت سے ، کہ جو ایک طرف تو روشن خیالی کے نعرہ لگا رہی ہے اور دوسری طرف روشن خیالی پر پابندی بھی  ۔ ۔ ۔مدیحہ کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی  ۔ ۔۔
ویسے اس ڈرامے کے کچھ کلپس بی بی سی کی مہربانی سے دیکھے ، تو پتہ چلا کہ واقعٰی ہی یہ کھیل کھیل میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے ، ذرا سوچیے کہ اگر پردہ داری ہو گئی وطن عزیز میں تو کیا ہو گا ، برقعے میں سب کچھ  ۔۔ ۔ ہماری فیشن انڈسٹری تو تباہ ہو جائے گی ، اور پھر فلموں کا کیا ہو گا ؟ میرا ، ریما اور مدیحہ کدھر جائیں گیں ؟ ہماری یونیورسٹیوں میں جو محبت کی داستانیں رقم ہوتیں ہیں انکا کیا ہوگا ، اور ذرا سوچیں کہ من چلے دل والوں کا کیا ہو گا کہ انہیں کسی کو چھیڑنے کے لئے کتنی مشکل ہو گی ، ڈر یہ ہو گا کہ برقعے میں کہیں اپنا ہی خونی رشتہ نہ ہو جو خونی تصادم تک جا پہنچے  ۔ ۔ ۔
مدیحہ گوہر ، ایک گوہر نایاب ہیں ، اور بچپن سے ہی انہیں ایسے کام کرنے کا بہت شوق ہے ، جو روشن خیالی کو فروغ دیں ، جب گیارہ سال کی طویل ضیاء آمریت کے بعد دختر نیک اختر ، یعنی محترمہ بے نظیر نے تاج پاکستان پہنا تو ہمارے اکلوتے چینل نے گیارہ سالہ طویل ڈوپٹہ پالیسی کے خاتمے پر جشن منایا ، جس میں میوزک ٨٩ شاید بہت سارے دوستوں کو یاد ہو مگر جو بات اس وقت کے ڈراموں کی ہے وہ شاید کہیں نہ ملے انہیں ڈراموں میں ایک تھا “نیلے ہاتھ“  ÷ ÷  ÷ ÷ مدیحہ گوہر نے اس میں اپنے نیلے ہاتھ دکھائے تھے  ۔ ۔ ۔آج وہ ہی نیلے ہاتھ  ۔ ۔  سامنے آ گئے ہیں  ۔ ۔ ۔ شاید لوگوں کو اندازہ نہ ہو یہ نیلے ہاتھ اب زہریلے ہاتھ بن چکے ہیں  ۔ ۔ روشن خیالی کے یہ علمبردار اب ان زہریلے ہاتھوں سے سامنے آ گئے ہیں اب انکی پہچان آسان ہے  ۔ ۔ ۔
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ہم ایلیٹ کلاس کے لوگوں کی باتوں کو کیوں نہیں سمجھتے ، مدیحہ ٹھیک کہتیں ہیں ، یہ ڈرامے عام لوگوں کے لیے نہیں ، کیونکہ انکے ٹھیٹر کے ٹکٹ ایک عام آدمی افورڈ نہیں کر سکتا  ۔ ۔ ۔ دس ہزار پانچ ہزار اور ڈھائی ہزار کے ٹکٹ کون لوگ لے سکتے ہیں اور کون لوگ رات کے دو تین بجے تک ڈرامہ دیکھ سکتے ہیں ، جنہیں صبح کام پر نہ جانا ہو جنہیں اسکول میں کوئی نہ پوچھتا ہو  ۔ ۔ ۔
مسلہ پردہ ہی ہے  ۔ ۔ ۔ جو ہماری عقلوں پر پڑ چکا ہے ، اب ہم کھل کر اسلام کے خلاف نہیں بول سکتے اسلئے ایسی باتیں کرتے ہیں ، مجھے یہ بتائیں کہ اسلام کے احکام کی خلاف ورزی کھلے عام کی جاتی ہے تو ہم اصل بات کیوں نہیں کہتے کیوں نہیں کہتے کہ ہمیں اسلام نہیں چاہیے  ۔۔ ۔ کم سے کم اس معاملے میں تو ہم سچ بولیں  ۔ ۔  کہ بھائی ہمیں اسلام نہیں چاہیے ۔۔ ۔ ۔  ہماری ترقی کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہی اسلام ہے  ۔ ۔ ۔  ہم نیلے ہاتھوں والوں کو کیوں نہیں پہچانتے  ۔ ۔ ۔   ۔ ۔ ۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہے ، کہ ہمیں کیا چاہیے اسلام یا روشن خیالی ، یہاں روشن خیالی سے مراد وہ مادر پدر آزادی ہے جو نیلے ہاتھ ہم سے چاہتے ہیں  ۔ ۔ ۔۔ اور اسلام سے مراد وہ اسلام ہے جو ریاست مدینہ کا اسلام تھا   ۔ ۔ نہ کہ وہ اسلام جو  ۔ ۔ ۔ طالبان جیسا ہو  ۔ ۔ یا مدرسہ حفصہ جیسا  ۔ ۔ ۔ جنکے دلوں اور دماغوں پر مہریں لگا دی گئیں ہیں ۔۔ ۔ ۔ اور صرف از صرف اپنی ڈفلی بجائی جا رہی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی کسی کی نہیں سنتا  ۔ ۔ ۔  مدرسہ حفصہ والیوں میں بھی ہمت نہیں کہ روز میڈیا کے سامنے مثالیں پیش کریں کیونکہ وہ خود جانتیں ہیں کہ انکے اپنے قول و فعل میں کتنا تضاد ہے  ۔ ۔ ۔میں کم سے کم روشن خیالوں کی اس بات کی داد ضرور دوں گا کہ وہ مصلحت سے کام نہیں لے رہے اور ڈنکے کی چوٹ پر چوٹ لگا رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور بنیاد پرست اس پر بلبلا رہے ہیں  ۔ ۔  اور کیونکہ وہ خود بے عمل ہیں (چاہے وہ مجلس کی شکل میں ہی کیوں نہ ہوں) اسلئے انکے پاس سوائے تلملانے کے کوئی جواب نہیں  ۔ ۔ ۔عوام خاموش تماشائی ہے اور جو جیتے گا اسی کے پیچھے چل پڑے گی  ۔ ۔ ۔ اسے غرض ہے روٹی کپڑا اور مکان سے  ۔۔ ۔ ۔ بنیاد پرستی اور روشن خیالی  ۔ ۔ ۔ ان مشکلات سے آزاد لوگوں کا کام ہے  ۔ ۔ ۔
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: