انقلاب کا بیج بویا جا چکا ہے

آج ٹی وی ون پر جامعہ حفصہ کے مولانا عبدالرشید کی گفتگو سنی تو لگا کہ کہ معاملہ کچھ بگڑتا جا رہا ہے ، اور کچھ حکومتی خبریں بھی اچھی نہیں ہیں ، اور دوسری طرف آج کے جنگ میں ڈاکٹر اسرار کا کالم بھی بہت اچھا ہے مگر کیا اس سے کچھ اثر پڑ سکتا ہے ؟ میں نے بھی جامعہ حفصہ کو ای میل کی مگر میں سمجھ سکتا ہوں کہ وہ اس بات کا جواب کیوں نہیں دے رہے کہ انکا اگلا قدم کیا ہے ہو گا، کیونکہ ڈاکٹر اسرار کی یہ بات کسی حد تک صحیح ہے کہ تین چار ہزار لوگ اس طرح کے اقدام سے بدامنی تو پھیلا سکتے ہیں انقلاب نہیں لا سکتے ۔
اصل میں معاشرہ اتنا ڈوب چکا ہے برائیوں میں کہ اسے پاک کرنے کے لئے شاید ایک اور تحریک پاکستان کی ضرورت ہو، مجھے قائد اعظم کا یہ فرمان اکثر یاد آتا ہے کہ ہم نے پاکستان کو ایک اسلامی نظام کی مثال دکھانے کے لئے بنایا تھا ، پاکستان تھیو کریسی کے لئے نہیں بنا تھا ، قائد کے ذھن میں بلکہ اس وقت کے عوام کے ذھن میں جو پاکستان تھا وہ اسلامی سلطنت تھا ، جو فلاحی ریاست تھی ، جہاں ہر قانون اسلامی ہونا تھا  ۔۔ ۔ میری نظر میں پاکستان کی تحریک کے آخری سترہ سال یعنی ١٩٣٠ سے لیکر ١٩٤٧ تک ہندوستان کی مسلمان قوم کا ایک نظریہ بن چکا تھا کہ نیا ملک اسلامی ہو گا اور مدینہ ثانی بنے گا ، اور ١٩٤٧ تک عوام اور رہنما ایک ہی تھے ، اسلئے عوام کو اپنے رہنماؤں پر یقین تھا اور ، عوام نے یہ یقین ١٩٦٥ کی جنگ تک رکھا  ۔ ۔ ۔  مگر ١٩٦٥ کی جنگ کے بعد عوام اور رہنماؤں کے نظریات الگ ہوتے چلے گئے ، رہنما اقتدار کے لئے عوام کو نچاتے رہے اور عوام رہنماؤں کو غلطیوں کے باوجود چڑھاتے اور اتارتے رہے ، عوام اور رہنماؤں کے اسی تضاد کی وجہ سے ہم نے آدھا پاکستان کھو دیا  ۔۔ ۔
جب حکمران اور عوام میں دوری ہو جائے تو انقلاب کے لئے دانش ور اور ادیب شعراء آگے آتے ہیں ، جیسا کہ تحریک پاکستان کا آغاز کرنے والے  حالی ، سرسید ، اقبال  نہ صرف سیاستدان تھے بلکہ دانش ور اور رہبر و رہنما تھے جنہوں نہ صرف اپنی تقریروں سے بلکہ اپنی تحریروں سے بھی عوام کی تربیت کی  ۔ ۔ ۔ عوام کو انکی باتوں کا یقین ہوتا ، کیونکہ وہ جو کہتے وہ کرتے ، آج حکمرانوں اور عوام میں دوری کا بنیادی سبب انکے قول و فعل کا تضاد ہے  ۔ ۔ ۔ حکمران جو عوام سے نہیں آ رہے بلکے خواص سے آ رہے ہیں ، بے شک ہمارے ہاں بادشاہت نہیں مگر ، ایک مخصوص طبقہ ہی حکمرانی کا حق جتاتا ہے اور رکھتا بھی ہے  ۔ ۔ ۔ عوام ہمیشہ ہی ایسے لوگوں کو نجات دہندہ سمجھتی ہے  ، اور انہیں بار بار لانے میں عوام کا بھی ہاتھ ہے  ۔ ۔ ۔ یہ عوام بھول جاتی ہے کہ پاکستان کیوں بنایا تھا ؟
اب ان سب کا علاج کیا ہے ؟ ہمیں ایک اور اقبال اور جناح کی ضرورت ہے  ۔ ۔ ۔ جو ہم میں سے ہی اٹھیں گے ، مگر یہ ہم عوام کو سمجھنا چاہیے کہ خونی انقلاب زیادہ پائیدار نہیں ہوتا  ۔ ۔  ۔ ۔ جبکہ مثال اسلامی انقلاب کی ہے ، جس میں پہلے تبلیغ اور ہجرت اور اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کا سبق دیا گیا اور پھر جب تک طاقت حاصل نہیں کی گئی ، خود حملہ نہیں کیا ،اور جب طاقت مل گئی تو بنا خون خرابے کے مکہ کو فتح کر لیا  ۔ ۔ ۔ ۔
یہاں میں ڈاکٹر اسرار کی ایک بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ جنگ بدر میں فرق صرف تعداد کا تھا ، جبکہ فرق اسلحہ کا بھی تھا اور جذبوں کا بھی  ۔ ۔ ۔ اور ایمان کی طاقت بھی تھی  ۔ ۔ ۔ خیر یہ ایک طویل بحث ہے  ۔ ۔  مگر اس وقت میں جو دیکھ رہا ہوں کہ انقلاب کا آغاز ہے مگر یہ کیسا انقلاب ہو گا ، خاموش یا خونی  ۔ ۔  یہ ہمیں اسی وقت طے کرنا ہو گا  ۔ ۔  ورنہ بہت سارے دوسرے مسلمان ملک بھی اس عمل سے گذر رہے ہیں اور اس وقت جو بھی فہم و فراست کا مظاہرہ کرے گا وہ ہی اس انقلاب کا بانی بنے گا  ۔۔۔۔۔۔ میری نظر میں اس وقت انڈونیشیا اور ملائشیا کے مسلمان بہت فہم و فراست سے اسلام کی ترویج و ترقی میں معاون بن رہے ہیں ، جیسے اسلامی بینکنگ اور تبلیغی نیٹ ورکس وغیرہ اسکی مثالیں ہیں ، دوسری طرف ہمارے یورپ کے رہنے والے مسلمان ہیں جو اپنی بقا اور اپنے نظریے کو اچھی طرح پیش کر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ جس سے بہت زیادہ ایفکٹ آ رہا ہے ، جسکی مثال پچھلے دنوں کنیڈا ٹی وی کا نیا سوپ سیریل ، لٹل موسک آن پریری ہے  ۔ ۔  اسکے علاوہ انٹرنیٹ پر جہاں شدت پسند موجود ہیں وہیں اعتدال پسند اور دلائل سے بات کرنے والے بھی موجود ہیں  ۔ ۔ ۔جو بہت ساروں کو مکالمے سے زچ کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔اور زیر کرتے ہیں
میری نظر میں انقلاب کا بیج بویا جا چکا ہے ، اور اب اسے سیرابی کی ضرورت ہے ، اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے زندگی میں ہی انقلاب دکھائے (آمین) ۔ ۔ ۔  جنرل حمید گُل کی ایک بات بار بار یاد آتی ہے کہ آج ہم نبی کریم (ص) کے زمانے کے بعد پہلی دفعہ ویسے ہی حالات سے دوچار ہیں ، اور ہمارے سامنے حق کی مشکلیں ہیں اور باطل کی طاقت اور رنگینی بھی  ۔۔  اب ہمیں اختیار ہے  ۔ ۔  کہ ہم کونسا راستہ چُنتے ہیں  ۔ ۔ ۔
Advertisements

3 responses to this post.

  1. Posted by Mera Pakistan on اپریل 23, 2007 at 1:00 شام

    اللہ کرے آپ کی بات درست ہو اور انقلاب کا بیج واقعی بویا جاچکا ہو مگر اس انقلاب کے پودے کو محنت اور متواتر لگن کے پانی کی سخت ضرورت ہے۔ اب دیکھنا یہ ھے کہ خدا کی قدرت پاکستان کی بنجر زمین سے اس پانی کا کس طرح بندوبست کرتی ہے۔

    جواب دیں

  2. اظہر صاحب ہم سب کی دعا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں ہی نہ صرف اس انقلاب کو دیکھیں بلکہ انقلاب بپا کرنے والی قیادت حق کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں ۔۔ یورپی اور امریکی مسلمانوں سے ہمارے سیکھنے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کسطرح تمام مسالک کے لوگ ایک ساتھ مسلمان بن کر رہتے ہیں اور ایک امام کے پیچھے مختلف طریقوں سے نماز پڑھنے والے کھڑے ہوتے ہیں اور سب ایک دوسرے کو برادر کہتے ہیں۔۔ مسلک کبھی بھی انکے اتحاد اور کوششوں کے بیچ میں نہیں آیا۔۔ اتحاد ہی وقت کی اہم ضرورت ہے اور آسمان کی طرف دیکھنے سے پہلے ہمیں اپنی ہی اصلاح کرنی ہوگی۔۔ اور اپنی اصلاح کے لیے نبی پاک سے بہتر تعلیم اور کہاں سے مل سکتی ہے ۔

    جواب دیں

  3. Posted by Iftikhar Ajmal on اپریل 24, 2007 at 8:09 صبح

    آپ نے ٹھیک لکھا ہے ۔ حالات کچھ ایسے ہی نظر آ رہے ہیں ۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: