دبئی میں ڈاکا ۔ ۔ ۔

عام طور پر امارات کو پُر امن ملک سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ یہاں جرائم کی شرح دوسرے ممالک کی بنسبت کم ہے ، مگر پچھلے کچھ سالوں سے یہاں جرائم تیزی سے پنپ رہے ہیں ، اور اس سال تو یہ شرح بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ، چوری ، عصمت دری، ٹھگنا اور قتل روز کا معمول ہو گئے ہیں ، مگر ابھی بھی حکومت کا اتنا کنٹرول ہے کہ میڈیا پر یہ خبریں نہیں آنے دیں جاتیں ، مگر کل رات کو یہاں کے ایک پرتعیش شاپنگ مال وافی سنٹر میں جو ڈاکا پڑا اسنے سب کو سہما دیا ہے ، اصل میں یہ سب بڑھنے کی کچھ وجوہات ہیں
١۔ پہلے یہاں تنخواہ اور معمولات زندگی میں توازن تھا ، اب مہنگائی تو بڑھ رہی ہے مگر تنخواہیں اتنی ہی ہیں ، اور چونکہ یہاں احتجاج کا جواب صرف ایک ہے اور وہ ہے ڈی پورٹ کرنا ، جو اب بہت ہو رہا ہے
٢- عربوں میں پہلے کچھ روایات ہوتیں تھیں ، اب وہ ختم ہو رہیں ہیں ، عربوں میں زمانہ جاہلیت والی باتیں آ رہیں ہیں ، وہ اپنے آپ کو برتر اور دوسروں کو کمتر سمجھ رہے ہیں
٣- ہر کونے میں مسجد تو موجود ہے مگر ، یہاں بھی لوکل (یعنی عربی) کوشش کرتا ہے کہ اسکے ملازمین میں مسلمان کم سے کم ہوں کیونکہ مسلمان پھر مسلمان ہوتا ہے ، اور غیر مسلم جتنا کھلا ڈھلا ہوتا ہے وہ ایک مسلمان نہیں ہو سکتا
٤- جب سے امارات اپنی زمین بیچ رہا ہے ، تو اسے خریدنے والے کون ہیں اسکی کسی کو پرواہ نہیں ، ایک کمرے کا فلیٹ بھی ملین ڈالرز کا ملتا ہے ، اور ظاہر ہے ایسی پراپرٹی میں جو لوگ سرمایہ کاری کر رہے ہیں وہ اپنے کالے دھن کو سفید کر رہے ہیں اور اس وقت دبئی دنیا کے بڑے بڑے گنگسٹر کا حب بن چکا ہے ، جہاں سے بیٹھ کر دنیا کا نظام کنٹرول کیا جاتا ہے ، ایک چھوٹی سی مثال بھارتی بھائی لوگ اور ہمارے سیاستدان ہیں
٥- آزادی ، مادر پدر آزادی ، دبئی اور ابوظہبی میں جس طرح کی آزادی ہے ایسی دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک میں نہیں ، اور اسلام اور ایسی آزادی کا تضاد ہی جرائم کو جنم دے رہا ہے  ۔ ۔ ۔
میرے محلے کی ایک عرب خاتون کہتی ہیں ، کہ ہم پر بہت جلد اللہ کا عذاب آنے والا ہے کیونکہ ہم اب برائیوں کی دلدل میں ایسے دھنس چکے ہیں کہ ہمیں اب عذاب کے سوا کچھ اور نہیں ملنے والا
اللہ ہم پر رحم کرے (آمین)
Advertisements

3 responses to this post.

  1. Posted by Unknown on اپریل 16, 2007 at 9:18 صبح

    السلام علیکم،
    کیا آپ نے لکھنے سے پہلے اطمینان کر لیا تھا کہ امارات میں آپ کا بلاگ نہیں پڑھا جاتا۔
    والسلام
    نبیل

    جواب دیں

  2. Posted by Azhar Ul Haq on اپریل 16, 2007 at 9:37 صبح

    نبیل روزی روزگار کا اللہ مالک ہے ، مجھے پتہ ہے کہ میرا ایسا کچھ لکھنے سے بلاگ بند ہو سکتا ہے ، ایسا دو بار ہو چکا ہے ،  مگر حقیقت کا اظہار کر رہا ہوں اور یہ خبر تو یہاں کے اخبار سے ہی لی گئی ہے  ۔ ۔

    جواب دیں

  3. Posted by Iftikhar Ajmal on اپریل 16, 2007 at 1:47 شام

    سننے میں یہی کچھ آ رہا ہے جو آپ نے لکھا ہے ۔ ایک مسلمان شریف آدمی جو ابوظہبی میں اچھی خاصی پوسٹ پر تھے پچھلے سال چھوڑ کر چلے کئے کہ ان کا ماحول میں دم گھٹنا شروع ہو گیا تھا ۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: