کراچی – کچھ یادیں کچھ باتیں ۔ ۔ ۔

میرا بچپن بیماری میں گذرا اور پھر نوجوانی اس بیماری کی ریکوری میں ، اور جوانی اپنا کئریئر بنانے میں  ۔ ۔ اس دوران مجھے بہت سخت قسم کی محنت کرنی پڑی ، جسمانی کمزوری اور معزوری کو روند کر آگے بڑھا ، مجھے یاد ہے جب لیاقت ہسپتال کے ڈاکٹروں نے میری فیملی کو کہا تھا کہ اب میں ہمیشہ کے لئے معذور ہو سکتا ہوں تو میری ماں ساری رات میرے سرہانے بیٹھی روتی رہیں  ۔ ۔ میں نے بے بسی کی انتہا دیکھی ہے ، میں اپنی انگلی تک خود نہیں ہلا سکتا تھا اور اب اللہ کے فضل و کرم سے اپنے ہی ہاتھوں یہ لکھ رہا ہوں  ۔۔ ۔ میرے کچھ دوست خاصکر ویب والے مجھے “بے وقوف“ اور “بچکانہ“ اور بعض اوقات تو بہت ہی نازیبا الفاظ سے یاد کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ تو میرے سامنے میرا ماضی گھوم جاتا ہے ، جب میں نے ایک بار پھر نئی زندگی شروع کی تھی ، میں کالج جاتے ہوئے اکثر اوقات گر جاتا تھا ، کیونکہ ہر بار دیوار کا یا کسی دوست کا سہارا نہیں ہوتا تھا اور میں لاٹھی کا سہارا لینا نہیں چاہتا تھا ، مجھے ریل کی پٹریاں کراس کر کے کالج جانا ہوتا تھا ، اور کئی بار انہیں پٹریوں پر گرا ، اور ریل کو آتے دیکھا اور  موت کو اتنا قریب دیکھا کہ کیا کہوں  ۔۔ ۔ پھر  شاہ فیصل کالونی میں ائیرپورٹ ریلوے اسٹیشن پر ایم کیو ایم والوں کے ہاتھوں مرتے مرتے بچا کہ میرے دوست کا بھائی یونٹ انچارج تھا  ۔ ۔ ۔  اور مجھے اچھی طرح جانتا تھا  ۔ ۔ ۔پھر جب مجھے پتہ چلا کہ میں بہت زیادہ مختلف ہوں دوسروں سے کہ میں تو چل بھی نہیں سکتا اور لوگ تو بھاگتے ہیں ، تو میں نے بھی اس ریس میں شامل ہونے کی ٹھانی ، میں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنی تعلیم کے لئے منتخب کیا ، لکھنا میرا شوق تھا ، موسیقی سیکھنا شروع کی  ۔۔۔  ۔ میں نے ان آوازوں پر جو مجھے “لنگڑا“ ، “ڈانسر“ ، “بلڈوزر“ اور “بریک فیل“ جیسے خطابات سے نوازتی تھیں میں نے سننا ہی چھوڑ دیا ، اپنے کان بند کر لئے  ۔ ۔  اور دن سے لے کر رات تک اپنے آپ کو اتنا مصروف کیا کہ مجھے ان سب باتوں کی پرواہ ہی نہ رہی  ۔ ۔ ۔  اور پھر قدرت نے مجھے ایسے لوگوں سے ملوانا شروع کیا جنہیں لوگ وی آئی پیز کہتے ہیں ، جن سے ملنے کے لئے وقت لینا پڑتا ہے ، شاید میری محنت تھی ، آواز اخبار سے وابستگی ہوئی ، پاکستان قومی موومنٹ کے آفس میں آنا جانا ہوا ، آزاد صاحب سے سلام دعا ہوئی تو سیاست دانوں سے بھی لنک بنے ، اور پھر میں نے جب گلبرگ میں پڑھانا شروع کیا تو کتنے ہی لوگ ملتے چلے گئے ، اردو سپینکنگ ، سندھی ، بلوچی ، براھوی ، پٹھان اور پھر جب کچھ کام گلبرگ کے پولیس اسٹیشن میں کیا تو کتنے ہی راز کھل کہ سامنے آئے ، یہ وہ زمانہ تھا جب عزیز آباد نو گو ایریا میں آتا تھا ، جب لانڈھی کورنگی میں جانا موت کے منہ میں جانے کے برابر تھا ، مجھے یاد ہے جب میں اور موبین لانڈھی میں ایک کارخانے کے پروگرام کی ابتدائی سٹڈی کے لئے پہنچے تو ہمیں بندوقوں برداروں کے سائے میں کارخانے تک لایا گیا  ۔ ۔  ۔ اور پھر انہیں دنوں جب لانڈھی کے کمیونٹی سنٹر میں ہم نے ایک ڈرامہ اسٹیج کیا (اس وقت تک میں ایک اسٹیج فنکار بن چکا تھا ) تو  ۔ ۔  آزاد کے کردار نے مجھے بہت پہچان دی  ۔  ۔ ۔ بلکے کتنے ہی عرصے تک لوگ مجھے آزاد کے نام سے ہی جانتے رہے  ۔ ۔ ۔ پھر ائیر وار کالج میں ایک لیکچرار کے ساتھ ملکر کچھ کام کیا تو پتہ چلا کہ ہماری آرمی نے کتنا اچھا نیٹ ورک ڈائزائن کیا تھا ، تینوں فورسز کو ملانے کا  ۔  ۔ پی این ایس رہبر پر اے ایس فور ہنڈرڈ پر جب سی لینگویج کے بارے میں (یونکس ورژن) کچھ کہنے کا موقعہ بھی ملا  ۔ ۔ ۔اور پھر اسی طرح اپنے دیس کے بارے میں پتہ چلتا چلا گیا  ۔ ۔ ۔ وہ اظہر جو اخبارات میں اے ہاشمی تھا اور دوستوں اور طالب علموں میں سر اظہر اور میڈیا میں اظہر بھائی تھا ایک جانے جانے والا انسان بن گیا  ۔ ۔  اب کوئی مجھے دوسرے ناموں سے نہیں بلاتا تھا  ۔۔  ۔ میں بس میں آتا جاتا تھا ، مگر ایک عام انسان جیسا ہی تھا  ۔ ۔ ۔ اسلئے عام انسان کی بات ہی سمجھتا تھا ، مجھے بڑے لوگوں کی باتیں سمجھ نہیں آتیں تھیں ، وہ فائیو اسٹار ہوٹل میں بھاشن دیتے تھے مگر عملی طور پر صفر تھے اور جو انسان کو انسان سمجھتے تھے انہیں کوئی گھاس نہیں ڈالتا تھا  ۔ ۔ ۔ایسے ہی انسانوں میں ایک ایدھی تھا ، انصار برنی تھا جن سے ملکر ایسا لگا کہ نہیں ابھی انسانیت باقی ہے  ۔ ۔ ۔۔  ایک اور انسان کا ذکر نہ کروں تو زیادتی ہو گی ، وہ بلوچی تھے ، مگر سب لوگ انہیں اردو سپیکنگ سمجھتے تھے ، کہ وہ کالا بورڈ ملیر میں زندگی گزارتے تھے ، شاید بہت سارے لوگوں کو معلوم ہو کہ ملیر میں بھی ایک لال مسجد ہے  ۔  ۔ اسی کے پاس وہ رہتے تھے ، وہ میرے کیمبرج انسٹیوٹ کی بلڈنگ کے مالک تھے ، پیتے بہت تھے ، مگر پابند صلوات بھی تھے  ۔ ۔ ۔ ذرا کسی کی تکلیف دیکھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کی مدد کو پہنچے  ۔ ۔ ۔ جب ملیر کے حالات بہت خراب ہوئے ، اور گلی گلی میں جوان ٹی ٹی پستول لے کر گھوم رہے ہوتے تو  ۔ ۔ ۔ وہ کالا بورڈ سے عورتوں اور بچیوں کو اپنی حفاظت میں اندر لاتے  ۔ ۔ ۔  مجھے یاد ہے اس دن میں کلاس لے رہا تھا جب ایک گولی ہماری کھڑی کا شیشہ توڑتی ہوئی دیوار میں پیوست ہو گئی  ۔۔  اور لڑکوں میں سے ایک نے پستول نکال کر کھڑکی کے پاس پوزیشن لی اور  ۔ ۔ ۔ ہم نے لڑکیوں کو ان کے حوالے کیا اور وہ اپنے گھر تک پہنچ گئیں  ۔ ۔ ۔مجھے شاہ فیصل کالونی جانا تھا  ۔ ۔۔ مگر جب تک میرا ایک اسٹوڈنٹ بھی وہاں موجود تھا میرے لئے ممکن نہیں تھا  ۔ ۔  پھر ہمارے انسٹیوٹ کا گیٹ توڑنے کی کوشش کی گئی  ۔ ۔ ۔  رات کے دس بجے تک جب تک ہمارے ایک اسٹوڈنٹ نے اپنے کسی جاننے والے کے توسط سے ہمیں سیف پیسج نہیں دیا ہم باہر نہیں نکل پائے  ۔ ۔ ۔  اور جب ہم لوگ باہر جا رہے تھے تو ایک جوان نے آ کر کہا کہ آپ جئے الطاف کا نعرہ لگائیں  ۔  ۔ تو میں نے انکار کیا اور کہا میں ایک استاد ہوں ، میں کوئی ایسی بات نہیں کر سکتا  ۔ ۔ ۔ تو میری کنپٹی پر اسنے ٹی ٹی رکھ دی  ۔ ۔  اور پھر مطالبہ کیا  ۔ ۔  مجھ سے میرے ساتھیوں نے کہا کہ کہ دو کہنے میں کیا حرج ہے مگر میں نے کہا نہیں  ۔ ۔  یہ روز کا معاملہ ہے  ۔ ۔ ۔ اسنے بہت دھمکایا مگر میں نہیں مانا  ۔ ۔ ۔ اسنے کہا کہ تم پھر کبھی ملیر میں قدم نہیں رکھ سکو گے  ۔۔ ۔  میں نے کہا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ایسا ہی ہو گا اگر نہیں تو میں اللہ سے نہیں لڑ سکتا  ۔ ۔ ۔  اتنے میں لال مسجد والے  ۔ ۔ ۔ آ گئے اور مجھے سر کہ کہ مخاطب کیا تو انہیں پتہ چلا کہ میں واقعٰی پڑھاتا ہوں  ۔ ۔  تو اسنے معذرت کی  ۔ ۔   میں نے کہا اللہ  تمہیں معاف کرے  ۔ ۔ ۔  آج یہ سارے واقعیات میری آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چل رہے ہیں  ۔ ۔ ۔۔ میں نے اسکے بعد بھی وہاں پڑھایا  ۔ ۔ ہمارا انسٹیٹیوٹ ملیر کا پہلا سندھ بورڈ کا امتحان دینے والا انسٹیٹیوٹ بنا  ۔ ۔ ۔  جاوید ، ثروت ، فرح ، اقبال اور بہت سارے میرے اسٹوڈنٹ جنہوں نے بورڈ کے لوگوں کو حیران کیا ، کیونکہ ملیر کو کمپیوٹر کے حوالے سے بہت پسماندہ گردانا جاتا تھا  ۔ ۔ ۔ مگر ملیر  کے بچوں نے اسے غلظ ثابت کیا  ۔۔ ۔ اور آج ملیر میں بہت کچھ ہو رہا ہے دوکانیں ہیں انسٹیٹوٹ ہیں  ۔ ۔ ۔ مگر وہ پندرہ سولہ سال پہلے والی چیز شاید بہت کم لوگوں کو یاد ہو  ۔ ۔ ۔ کہ ٹوکن کے اسٹاپ پر ایک انسٹیٹیوٹ ہوتا تھا میرے خیال میں اب وہاں ایک اسکول ہے  ۔ ۔ ۔  پھر مدینہ میڈیکل کالا بورڈ کا پروگرام جب بنایا تو  ۔ ۔  اتنے اچھے انسان سے ملا جو بہت کم لوگ ہوتے ہیں ایسے  ۔ ۔  جو لوگ کچھ جاننا چاہیں کہ کیا زندگی ہوتی ہے ان سے ملیں  ۔ ۔ ۔  یادوں کی کتاب بہت بڑی ہے  ۔ ۔ ۔ میں نے بتایا نا کہ وہ دس سال میں نے بھاگتے ہوئے گذارے  ۔ ۔ ۔ ہر طرح کے لوگوں سے ملا  ۔ ۔ ۔ ہر طرح کے لوگوں نے مجھے عزت دی ، کیا میں گلبرگ کے رضوان کو بھول جاؤں ؟ جس نے مجھے بھائیوں جیسا پیار دیا ، کیا میں آئی سی ٹی گلشن اور کیمبرج ملیر کے اسٹوڈنٹس کو بھلا دوں جو مجھے اتنی عزت دیتے تھے کہ بعض دفعہ مجھے خود شرمندگی ہوتی تھی  ۔ ۔ ۔کہ شاید میں خود کو اتنا قابل نہیں سمجھتا  ۔ ۔ ۔ مگر اللہ نے مجھے بہت عزت دی  ۔ ۔ ۔اور شہرت بھی  ۔ ۔  کہ ایک وقت میں گلبرگ میں اسٹوڈنٹ سر اظہر کے لئے آیا کرتے تھے  ۔ ۔ اور وہ علاقہ سارے کا سارا اردو اسپیکنگ کا ہے  ۔ ۔ ۔  اور سب کو معلوم تھا کہ سر اظہر اردو اسپیکنگ نہیں ہیں  ۔ ۔ ۔ مگر پھر بھی کبھی کسی نے یہ احساس نہیں دلایا  ۔ ۔ تو میں کسی اردو اسپیکنگ کو کیسے برا کہ دوں  ۔ ۔  میرے آج بھی جو بہترین دوست ہیں وہ کراچی سے ہیں  ۔ ۔ ۔ کیوں  ۔ ۔ اسلئے کہ یہ شہر محبتوں کا شہر ہے ، ہر ایک کے لئے بازو کھولے رکھتا ہے  ۔۔  ۔ میں نے اس شہر کو سجتے دیکھا ہے ،  میں نے جب پہلی بار دبئی دیکھا تھا تو مجھے کراچی اور دبئی میں کوئی فرق نظر نہیں آیا تھا اور ابھی تک نہیں آتا سوائے ان نعروں کے جو دیواروں پر لکھے ہوتے ہیں  ۔ ۔ ۔ جیسے دبئی میں آپکو ہر نسل ہر قوم کے لوگ نظر آتے ہیں اور ملکر رہتے ہیں کراچی بھی ایسا ہی شہر ہے  ۔ ۔ ۔ کبھی کبھی جب آنکھیں موند کر میں ستر کی دہائی میں جاتا ہوں جب میرے والد مرحوم کراچی میں آئ سی پی میں ملازمت کرتے تھے ، تو میں ڈبل ڈیکر بس میں جایا کرتا تھا اور ضد کر کہ اوپر والے حصے میں بیٹھتا تھا  ۔ ۔  کیونکہ اس سے گاڑیاں چلتی اچھی لگتیں تھیں ، بلڈنگ اچھی لگتی تھی اور خاصکر فرئیر ہال اور سٹی کورٹ کی بلڈنگ خالق دینا ہال  ۔ ۔  اور کیا کیا  ۔۔  ۔ لکھوں  ۔ ۔ ۔ اور جب آج سے سات سال پہلے میں کراچی ائیر پورٹ پر لینڈ کر رہا تھا تو دبئی اور کراچی کی لائٹس ایک جیسی لگیں  ۔۔ ۔  اور بے اختیار احمد رشدی کا یہ گیت زباں پر آ گیا
شہر کا نام ہے کراچی
شہر کا نام ہے کراچی
بابو جی ذرا ہٹ کہ بچ کہ
ہم کراچی والے ، گورے ہوں یا کالے
بچ کہ رہنا مسٹر ، ہیں بڑے متوالے
کہ ذرا ہٹ کہ بچ کہ  ۔۔ ۔
کبھی سنیے گا مزہ آئے گا  ۔ ۔
یادیں تو بہت ہیں  ۔ ۔ جو وقتاً فوقتاً لکھتا رہوں گا  ۔۔  مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ میری آنکھوں سے اس رکشہ ڈرائیور کی موت نہیں ہٹتی جسے شاہراہ پاکستان پر روکا گیا اور کہا گیا کہ جئے الطاف بولو اور جب وہ اکڑ گیا تو اسے کتنے ہی لوگوں کی موجودگی میں گولی مار دی گئیں  ۔ ۔  اور مجھے یاد ہے کہ میرے منہ سے دو دن تک صحیح طرح سے الفاظ نہیں نکلتے تھے  ۔ ۔ ۔ مگر شاید اب وقت بدل گیا ہے  ۔ ۔ ۔ کاش بدل جائے  ۔۔  اور بندر روڈ سے کیماڑی تک چلنے والی گھوڑا گاڑی  ۔ ۔ ۔ ویسے ہی گاتی جائے جیسے آج سے کچھ سال پہلے جاتی تھی  ۔ ۔  اور واجہ بھائی  ۔ ۔  پتھروں والے ڈبے سے گدھے کو دوڑاتے تھے  ۔ ۔ ۔ جب ریڈیو پاکستان کراچی سے مجھے ارشاد حسین کاظمی کی آواز آتی تھی تو ریڈیو بند کرنے کا دل نہیں کرتا تھا   ۔۔  ۔ ۔۔  مگر شاید اب سب کچھ بدل گیا ہے ، کل ہی ارشاد حسین بھی چلے گئے  ۔ ۔ ۔ رئیس امروہی تو کب کے گئے  ۔ ۔ ۔ اب عالی جی ہیں  ۔  ۔ اور فرمان فتح پوری ، جمیل جالبی جیسے لوگ ہیں  ۔ ۔  جو ہمارے استاد ہی نہیں رہبر بھی رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ اللہ کراچی کو وہ بیتے دن لوٹا دے ، جس سے یہ شہر عروس البلاد کہلاتا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔(آمین)
Advertisements

8 responses to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on اپریل 15, 2007 at 8:22 صبح

    اللہ ان کی مدد ضرور کرتا ہے جو محنت کرتے ہیں ۔

    جواب دیں

  2. Posted by Sayyeda on اپریل 15, 2007 at 9:43 صبح

    السلام و علیکمہم نے تو عروس الباد کراچی کے صرف تذکرے سنے ہیں۔ اللہ وہ دن لائے جب ہم بھی کراچی کو عروس الباد کی طرح دیکھ پائیں۔ فی الحال تو کراچی کا نام سنتے ہی پسینے آ جاتے ہیں۔اظہر بھائی، آپ کا مضمون بہت اچھا لگا۔ اللہ آپ کی ہمت و صحت ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین۔فی امان اللہ

    جواب دیں

  3. Posted by Jahanzaib on اپریل 15, 2007 at 11:14 صبح

    اظہر صاحب آپ نے انتہائی سادہ طریقہ سے اپنی کہانی بیان کی ہے ، لیکن آپ کو نہیں لگتا کہ ہر دور میں ہی انسان یہی کہتا رہا ہے کہ جو وقت گزر چکا ہوتا ہے وہ بڑا سنۃری دور تھا، اور میرے خیال میں یہ یونہی چلتا رہے گا،میں ذاتی طور پر خود اشفاق احمد صاحب کے اس نظریے کو مانتا ہوں کہ بجائے اس کے کہ ہم اپنے گزرے کل کا رونا رو کر یا آنے والے کل کی فکر کرنا چھوڑ کر ٓج خوش ہو کہ جی لیں تو وہ زیادہ بہتر ہے، ورنہ ان فکروں میں ہم اپنا آج بھی خراب کرتے ہیں ۔اللہ آپ کو خوش رکھے ۔ ۔ ۔ والسلاماور آپ کے بلاگ پر اردو فانٹ کیوں نہیں؟

    جواب دیں

  4. Posted by Saeed Ahmed on اپریل 15, 2007 at 8:06 شام

    Azhar  aap ki zindagi ki kahani parh kar khoshi bhi hoi or afsos bhi afsos  is liay kay log aap ki kmzori ka mazaq uratay thay or khoshi is baat ki kay aap nay logon ki tanqid ko apnay rastay ki rukawat na bannay dia,
    aap ki likhi kahani kay baray main kuch to hum Afzal sahab ki post per likh chukay hain kuch yahan bhi likh rhay hain,jin waqaiat ka zikr ap nay kia hay yaqinan woh sach hon gay,laikin jesa kay hum nay pahlay likha kay jraaim pesha afrad her qoom main paay jatay hain,or aisay hi log apni qom kay mathay per daag hotay hain or zarorat pernay per woh apni qom ko bechnay say bhi naheen choktay jaisa kay landhi korangi or maleer kay in gundon nay kia kay baad main woh foj kay sath mil ker apni hi qoom ko khak or khon main lotatay rahay,in hi ilaqon main Haqiqi tashkeel di gaai,or inhain urdu speeking community nay mustarad kia,
    aap khod is bat ko tasleem kertay hain kay wahan kay log aap ki izat kertay thay,yahan tak kay aap nay Gulbarg ka hawala bhi dia hay jo Aziz Abad say ziada door na tha,or wahan bhi aisa koi tasub na tha gair mhajron kay khilaf,aik dichasp bat jo aap ko pata na ho Azizabad ka chokidar pathan tha or mqm per kuch bhi beet gaai ho unhon nay us per aanch na aanay di or us ki jhonpri jo gali kay kinaray per thi or shaid aaj bhi ho ,
    Saba bibi door beth ker banday ko wahi dikhai deta hay jo akhbaar dikhatay hain isi liay humain bhi aisa lagta hay kay Panjab main sarkon per gundon ka raj hay or wahan kay gaaon main kisi aorat ki izat mhfooz naheen hay,lekin zahir hay kay yeh sach na hoga,aap kay sobay kay bohat log yahan hain or yeh perhay likhon ka shahar hay aap ko darnay ki zarorat naheen hay,

    جواب دیں

  5. Posted by Saeed Ahmed on اپریل 16, 2007 at 3:19 صبح

    maaf kijiay ga kal yeh internet kuch tang karraha tha is tabsiray ko bhejnay main  usi koshish main itni baar tabsira chala gaya, agar mumkin ho to aik say zaaid ko delete ker dain,shukria,

    جواب دیں

  6. Posted by Azhar Ul Haq on اپریل 16, 2007 at 5:39 صبح

    سب سے پہلے آپ سب کا شکریہ کہ آپ نے میری اس تحریر پر تبصرہ کیا  ۔۔  ۔ اجمل انکل ، مجھے ہمیشہ آپ کی دعاؤں کی ضرورت رہے گی  ، ۔ ۔ ۔
    صبا ، آپ کی دعاؤں کا شکریہ ، کراچی آج بھی اچھا شہر ہے ، میرے بہت قریبی دوست آج بھی کراچی میں رہتے ہیں ، اور وہ اردو سپیکنگ کمیونٹی سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور مزے دار بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی ہیں جو ایم کیو ایم کے سرگرم رکن ہیں آج بھی ، اور میں کبھی کبھی انہیں چھیڑتا ہوں ہاں بھی تم لوگ تو حق پرست ہو ، ہم تو صرف حق پر ہیں  ۔ ۔ ۔  میں آج بھی کہوں گا کہ کراچی سے اچھا شہر کوئی نہیں ، یہ ایک جدید اور ترقی یافتہ شہروں جیسا ہے ، موجود شہری حکومت اور گذشتہ شہری حکومت نے اس شہر میں بہت کام کئے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور اس شہر کو بنانے میں اردو اسپیکنگ اور باقی تمام لوگوں کا ہاتھ ہے ، اسی لئے اسے منی پاکستان بھی کہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ مگر صرف از صرف سیاسی مفادات اور سونے کی چڑیا ہونے کے ناطے لالچی لوگ اس عروس البلاد کو  ۔ ۔ ۔ کھنڈر بنانے پر تُل جاتے ہیں   ۔۔  اللہ ہمیں ہدایت دے (آمین)
    مہر افشاں ، آپکے تبصرے کا بہت شکریہ ، جی ہے ہر قوم میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں ،  میری فیملی اس وقت پنڈی میں ہے اور پنجاب میں ہمیں زیادہ پرابلم فیص کرنی پڑ رہی ہیں بنسبت کراچی کے  ۔ ۔ ۔پنجاب کا جاگیردارانہ سسٹم ہی ظلم کی بنیاد ہے ، میں نے بھٹہ مزدوروں کے خاندان کے خاندان اس میں جلتے دیکھے ہیں  ۔۔ ۔ کراچی میرا شہر ہے میرا بچپن ، جوانی یہاں ہی گذری ہے ، میرے سب جاننے والے وہاں پر ہیں ، اور اب اگر جب میں چھٹی پر پنڈی جاتا ہوں تو وہاں اجنبی محسوس کرتا ہوں  ۔ ۔ ۔ ایم کیو ایم کا میں کبھی مخالف نہیں رہا کیونکہ اگر آپ کو کراچی میں ایم کیو ایم کی تحریک پتہ ہو تو آپ کہیں گے ہاں ایک اچھے کاز کے لئے شروع ہونے والی تحریک کو شخصیت پرستی اور زبردستی نے بدل دیا  ۔ ۔ ۔ میری نظر میں ایم کیو ایم اس وقت خبروں میں آئی جب بچت بازار لگوائے گے اس تنظیم کی طرف سے ، مگر کراچی یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی حادثاتی موت نے کراچی کو تقسیم کر دیا ، اور اس وقت کی ضیاء حکومت نے اس تعصب کو ہوا دی ، کیونکہ وہ قوم کی توجہ پاکستان میں امریکی سرگرمیوں سے ہٹانا چاہتے تھے اور ایم کیو ایم کو ابھارنا ہی انکے لئے سود مند تھا ، مگر پھر ہماری ایجنسیوں نے ایسے حالات پیدا کئیے کہ ایم کیو ایم ہاتھ سے نکل گئی اور اس میں غنڈا عناصر کی بھرمار ہو گئی ، ٹنڈا ، کانا جیسے لوگ اس تنظیم کے شہید کہلائے  ۔ ۔  اور پھر جب طارق عظیم جسے میں بہت اچھا آدمی مانتا تھا اسکے قتل کے بعد تو جیسے  ۔ ۔  سب کچھ بدل گیا  ۔ ۔ ۔ نفرت کی صلیب پر کیسے کیسے لوگ چڑھے ، میری آنکھیں اسکی گواہ ہیں  ۔ ۔ ۔ سہراب گوٹھ میں ایک دن ایک حملہ ہوا ، جہاں پٹھانوں کی آبادی تھی ، میں اس دن اتفاقاً ہی فضل مل کے پاس تھا جب ایک شخص نے وہ ظلم کیا کہ میری نفرت اس تنظیم سے ہو گئی ، اسنے ایک بچے کو ماں سے چھینا اور ٹانگوں سے پکڑ کر چیر دیا  ۔ ۔  اور جئے مہاجر کا نعرہ لگایا  ۔ ۔  مہر ، قسم سے یقین کرو اس دن کے بعد مجھے لفظ مہاجر سے نفرت ہو گئی  ۔ ۔ ۔  اور جب سہراب گوٹھ کے اس حملے کا جواب پٹھانوں نے دیا تو  ۔ ۔  آج بھی میرے کانوں میں وہ چیخوں کی آواز گونجتی ہے ، ہم بے بس تھے قسم سے مہر ہم بے بس تھے ، رات کے دو بجے جب فائرنگ شروع ہوئی اور ہم نے اپنے سارے دروازے بند کر دئیے اور ایک کمرے میں دبک گئے ، اتنی چیخیں تھیں کہ ہم سے تقریباً  ہزار گز کے فاصلے پر یہ سب ہو رہا تھا اور ہم بے بس تھے ، اور جب تک کرفیو نہیں لگا ، ہم نے وہ چیخیں سنی  ۔ ۔۔ ایک دن میرا بھائی تھوڑا لیٹ ہو گیا اور پتہ چلا کہ لوگوں کو بس سے اتار کر مار دیا گیا ہے  ، ۔ ۔  تو جو کہرام میرے گھر میں تھا میں کیسے بھول جاؤں ؟ اور میں اس دسویں جماعت کے طالب علم کو کیسے بھول جاؤں جو مجھ سے ٹیوشن پڑھتا تھا اور اسے صرف جئے مہاجر کے نعرے لگانے پر قتل کر دیا گیا ، پورے بازار کے سامنے  ۔ ۔ ۔ میں اس دوکان کے شعلے کیسے بھول جاؤں جہاں سے میں اچھی کتابیں لیا کرتا تھا ؟  ۔ ۔ ۔ کہنا بہت آسان ہے ، کرنا بہت مشکل  ۔ ۔ ۔ مجھے حقیقی اور حق پرست کے درمیان کا فرق پتہ ہے ، اور میں حقیقی میں بھی اچھے لوگوں کو جانتا ہوں ، آج کے حق پرست حقیقی کے علاقوں میں نہیں جا سکتے ، اور نہ حقیقی کے لوگ حق پرست علاقوں میں آ سکتے ہیں  ۔ ۔  ہاں ملیر مجھے بہت پسند ہے شاہ لطیف نے اپنے بیت میں کہا تھا “ مھنجو ملک ملیر“ وہ ملیر جہاں کی سبزی سارے کراچی کو جاتی تھی جہاں ان دنوں بھی کھیت تھے  ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ 
    بہر حال کیا لکھوں کیا نہ لکھوں  ۔ ۔ ۔ صرف اتنا کہوں گا کہ میرے سامنے سارے واقعیات ایک فلم کی طرح چلتے ہیں اور میں سوچتا ہوں کہ ہم مہاجر سندھی پنجابی تو ہیں مگر پاکستان کہاں ہے  ۔ ۔  کل کے جلسے میں ہی دیکھ لیں کتنے جھنڈے پاکستان کے تھے اور کتنے ایم کیو ایم کے  ۔ ۔  ایم کیو ایم ایک آج بھی اگر اپنی روش تبدیل کر لے تو پاکستان کو تبدیل کر سکتی ہے کہ اسکے کارکنان جوان ہیں اور پڑھے لکھے ہیں ، مگر یہ جماعت بھی صرف شخصیت پرستی میں الجھ کہ رہ گئی ہے  ۔ ۔ ۔ اسکے لوگ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو زندگی کی حقیقتوں کو پرکھ سکتے ہیں  ۔ ۔  مگر صرف اردو اسپیکنگ کی بات نہ کریں ، پاکستان کی بات کریں ، صرف مہاجر ہی نہیں پاکستان کا پورا غریب طبقہ پِس رہا ہے  ۔ ۔ ۔ اور ایک آخری بات کہ پاکستان میں کبھی مہاجروں کو اہمیت نہیں دی گئی  ۔ ۔  اس ثبوت میں میں پی ٹی وی کراچی کے مقبول ڈرامے ، انکل عُرفی ، شہزوری ، کرن کہانی اور ایسے ہی کئی اور کھیل بتا سکتا ہوں جس میں اردو اسپیکنگ کی تہذیب پیش کی جاتی رہی اور پورا پاکستان اسکی پذیرائی کرتا رہا  ۔ ۔ 
    اللہ ہمیں نیک ہدایت دے آمین   ۔ ۔ ۔

    جواب دیں

  7. ارے آپ تو اپنے آس پاس ہی رہے ہیں!!! کالا بورڈ ملیر، شاہ فیصل کالونی، یہ تو میرے اپنے علاقے ہیں!!!
    آپ کی ہمت اور محنت قابل ستائش ہے!!!
    ایم کیو ایم والے معاملے میں کچھ ذیادہ نہیں ہو گئی!!!!

    جواب دیں

  8. Posted by Azhar Ul Haq on اپریل 16, 2007 at 11:29 صبح

    شعیب بہت شکریہ آپ کی ہمت افزائی کا ، جی کالا بورڈ اور ملیر تو میرے روز کے راستے تھے ویسے میری رہائش شاہ فیصل کالونی میں بھی رہی اور پھر الفلاح سوسائٹی میں بھی  ۔ ۔ ایم کیو ایم والی بات واقعٰی ہی زیادہ وہ گئی ہے ، میرے خیال میں میرے سامنے کچھ ایسے حالات گذرے ہیں کہ میں چاہتے ہوئے بھی اس جماعت کے بارے میں اپنی رائے تبدیل نہیں کر پایا ہوں شاید میرے ماضی کے تجربات ہی ایسے ہیں  ۔ ۔ خیر میں کوشش کروں گا کہ اس ٹاپک کو یہیں پر بند کر دوں  ۔ ۔ ۔ ۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: