انقلاب میرے یار یوں آیا نہیں کرتے!!!

تنہا پرندے سفر پہ جایا نہیں کرتے
سیر شکم  درندے تو ستایا نہیں کرتے

حاکموں کا قصیدہ کوئی تو پڑھے گا
جُھک جائے جو سر وہ ، کٹایا نہیں کرتے

 

خود سر ہو رہبر اور بے راہ  ہو کارواں
ہر اک لگا  رہا ہو بس اپنی ہی دوکاں
بکھرے ہوئے تنکوں سا جب ہو آشیاں
ایسے میں گیت طرب کے گایا نہیں کرتے
 
ایماں میں حرارت نہیں ، عقائد میں ہے جنوں
دل درد سے خالی ہے اور آنکھوں میں ہے خوں
اپنے ہی دشمن ہیں ، غیروں سے کیا  کہوں
گرد اپنے ہی سروں میں یوں اڑایا نہیں کرتے
 
میں تیری نہیں مانوں ، تو میری نہیں مانے
میں تجھے نہیں جانوں ، نہ تو مجھے جانے
پھر بھی ہم اک دوسرے پے تلوار ہیں تانے
انقلاب میرے یار یوں  آیا نہیں کرتے!!!
 
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: