ہم آخر چاہتے کیا ہیں ؟

ہم آخر چاہتے کیا ہیں ؟ پہلے ہم ڈرتے تھے غیروں سے اب اپنوں سے ہی ڈر رہے ہیں کیوں ؟ پچھلے کچھ دنوں سے جب جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے اعلانات و محرکات سامنے آ رہے ہیں اور اسکے جواب میں جیسے ایک زلزلہ سا آیا ہوا ہے ، صدر وزیر اعظم سے لے کر ایک عام آدمی تک انہیں کوس رہا ہے ، کچھ لوگ اسے سیاسی چال قرار دے رہے ہیں ، کچھ لوگ اسے امریکا کی سازش قرار دیتے ہیں اور کچھ لوگ اسے صرف مذہبی انتہاپسندی ۔ ۔ ۔ مگر ہم اصل بات سے جانے کیوں نظریں پھیر رہے ہیں ، اگر ذرا سا غور کریں تو جامعہ حفصہ والے کیا کہ رہے ہیں جس سے ہم ڈر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ اسلام کے نفاذ کی بات کر رہے ہیں ، ایک طرف ہم اسلام کے گُن گاتے ہیں کہ ہمارا مذہب ہر مسلئے کا حل ہے اور جب ہمیں اس کے کہنے پر عمل کرنے کو کہا جائے تو ہم ہزار بہانے سے اس عمل سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔ اس وقت اگر ہم ذرا غور کریں تو ایسا لگتا ہے کہ اگر پاکستان میں اسلامی شریعیت نافظ ہو گئی تو جیسے ہم ختم ہو جائیں گے  ۔ ۔ ۔ ہماری زندگیاں تباہ ہو جائیں گیں  ۔ ۔ ۔ یعنی دوسرے الفاظ میں ہم اسلام کے پیغام کی خود ہی نفی کر رہے ہیں کہ اسلام زندگی گزارنے کا بہترین راستہ ہے  ۔ ۔ ۔
آئیے ذرا غور کرتے ہیں کہ ہم کن چیزوں سے خائف ہیں
١۔ زنا کاری ، ہم اس بات کی مخالفت کر رہے ہیں کہ ہمیں زناکاری سے روکا جائے ، چلیں ہم اس کام میں شامل نہیں مگر جو دوسرے ہیں ہم انہیں تحفظ دینے کا عزم ضرور رکھتے ہیں  ۔ ۔ ۔ کیوں ؟ شاید اسلئے کہ یہ آزادی ہی ہمیں ترقی یافتہ بننے میں مدد دے گی
٢۔ آزاد خیال فلموں کا پرچار ، یہ بھی ہماری ضرورت بن گئی ہے ، ہماری نئی نسل میں جس تہذیب و تمدن کا زہر گھولا جا رہا ہے ، اسکی چکا چوند تو بہت ہے مگر یہ میٹھا زہر ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح کھا رہا ہے ، پورنو گرافی کو تو چھوڑیں ، ہندو تہذیب ہمارے گھر گھر میں گھس چکی ہے کہ بچے مرنے پر اپنے دادا کو جلانے کی سوچتے ہیں اور شادی پر پھیرے لینے کی بات کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ہمارے گھروں میں اللہ کا اتنا نام نہیں لیا جاتا جتنا رام رام ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔  میں نے اردو محفل میں ایک پوسٹ کی تھی ، گون ود دا ونڈ فلم کے ڈائلاگ پر ، مگر میرے ذھین دوست اسے شاید سمجھ نہیں پائے ، کہ ایک تہذیب جو ہوا کے جھونکوں کے ساتھ ختم ہوئی  ۔۔ ۔۔  مگر شاید ابھی وقت ہے ، مگر کیا ان چیزوں کے خلاف بولنے والوں کو ہم کیا دے رہے ہیں ، گالیاں ، کوسنے ، مگر کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہم کس چیز کی مخالفت اتنے شد و مد سے کر رہے ہیں ۔ اور اب تو یہ آگ ہمارے گھروں تک پہنچ چکی ہے  ۔۔ ۔ ۔
٣- ایک اور چیز جو بار بار ہم کہتے ہیں کہ مذہب میرا ذاتی مسلہ ہے ۔ مگر یہ ذاتی مسلہ کتنوں کے لئے مسائل پیدا کر رہا ہے کیا کبھی ہم نے سوچا ، چلیں جو انتہا پسند ہیں وہ تو ظالم ٹہرے مگر ہم جو خود کو ہر چیز سے لاتعلق کر لیتے ہیں مذہب کو ذاتی مسلہ کہ کر ہم کتنے ظالم ہے کبھی سوچا ہم نے ؟ ہمارے پڑوس میں بھوک ننگ افلاس پرورش پا رہے ہوتے ہیں اور ہم عیش و نشاط کی محفلیں سجا رہے ہوتے ہیں ۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی کیوں خود کُشی کر رہا ہے ، ہمارے لئے صرف ہماری ذات آخر کیوں مقدم ہے کیوں کیوں کیوں  ۔ ۔ ۔
اور بھی بہت کچھ ہے کہنے کو مگر کیا کروں ، سمجھتا ہی کوئی نہیں  ۔۔ ۔ مگر شاید سب سمجھتے ہیں ، ہمیں اسلام کے نفاذ سے اسلئے نفرت ہے کہ ہم اپنی آزادی کو نہیں چھوڑنا چاہتے ، اسلام کی اچھائیاں ہمارے لئے برائیاں بن کہ سامنے آ جاتیں ہیں  ۔ ۔ ۔ ذرا سوچیں تو سہی  ۔ ۔ ۔ کہ اسلام کیا کہتا ہے اور ہم کیا چاہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔
٠ ۔ عورتوں کو پردہ پسند نہیں ، کہ اس سے وہ دکھاوا ختم ہو جائے گا جو ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکا ہے
۔ مردوں کو زکات میں کمائی کا نقصان نظر آتا ہے
– جھوٹ نہ بولنے سے ہمیں ہمارا مستقبل تاریک نظر آتا ہے
– خود غرضی ، اور دکھاوے کی زندگی ، ہم کھونا نہیں چاہتے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور بھی بہت کچھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر کیا لکھوں ۔ شاید میں خود بھی اسلام کا نفاذ نہیں چاہتا ، اور اسلام کے نفاذ کی باتیں کرنے والے مجھے بھی زہر لگتے ہیں  ۔ ۔۔  ۔ کیونکہ وہ لوگ دقیانوسی ہیں ، ترقی پسند نہیں  ۔۔ ۔ اپنی جانوں پر ایک فضول مقصد میں کھپا رہے ہیں کوئی کری ایٹیو کام نہیں کر رہے  ۔۔ ۔   میں اب جب بھی اپنے رب کے سامنے جھکتا ہوں تو خود کو سب سے بڑا منافق سمجھتا ہوں ، کیا کوئی ایسا سوچتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ جب  نماز میں اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں ؟ ہم اسکے سامنے اسکی برتری کا اظہار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ ۔ مگر کیا واقعٰی ہی ہم اللہ کو اکبر مانتے ہیں ؟ اور پھر الحمد شریف میں کیا پڑھتے ہیں ، شکر ادا کرتے ہیں ۔ کہ ہماری تمام برائیوں کے باوجود اس نے ہمیں اتنا کچھ دیا  ۔ ۔ ۔ اسکی رحمانیت کا اقرار کرتے ہیں ، اور پھر اسے مالک مانتے ہیں یوم الدین کا  ۔ ۔ ۔ اور کہتے ہیں کہ ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں ۔ ۔ ۔  اور اسی سے مدد مانگتے ہیں یعنی ہمارا بھروسہ صرف اللہ ہی ہے  ۔ ۔ ۔ مگر اصل میں کیا کر رہے ہیں کیا سمجھ رہے ہیں  ۔  ۔ ۔۔ ہم صراط مستقیم کا کہتے ہیں مگر جو صراط مستقیم اللہ بتاتا ہے اس پر نہیں چلے  ۔۔ ۔  نہ چلنا چاہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور پھر اسی کے آگے جھک کر مزید منافقت کا ثبوت دیتے ہیں اصل سجدہ تو ہمارا کسی اور کے آگے ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔ میں نہیں کہتا کہ ہم میں کوئی بھی سچا مسلمان نہیں ، ہو گا ضرور ہوگا ، مگر شاید آپکو یاد ہو کہ اللہ نے ایک بستی باوجود ایک سچے عبادت گذار کے الٹ دی تھی  ۔ ۔ ۔ کہ اسکی عبادت کا کوئی اثر نہ تھا  ۔۔ ۔ شاید یہ جواب ہے کہ جو مذہب کو صرف ذاتی معاملہ کہتے ہیں  ۔۔ ۔
میں اسلام کو ٹھونسنے کے خلاف ہوں ، مگر کیا ہم صرف کسی کو یوں نہیں کہ سکتے کہ ہم کچھ با عمل مسلمان بنیں گے ، یا اسکی کوشش ضرور کریں گے  ۔۔ ۔  بلکے ہم تو الٹا انہیں برا کہتے جو ہمیں اللہ کا پیغام سناتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے جنرل حمید گل کی ایک بات بہت اچھی لگی کہ ہم دور نبوی (ص) کے بعد پہلی دفع ایسے دور میں ہیں جس میں ہمارے لئے چوائس ہے حق و باطل کی ۔ اور باطل کو سیلکٹ کرنا بہت آسان ہے اور حق کو اپنانا اتنا ہی مشکل  ۔ ۔ ۔ اب ہمارے لئے موقعہ ہے کہ ہم حق کا ساتھ دیں  ۔ ۔ ۔ اور اس وقت کا غلط فیصلہ ہو سکتا ہے ہمیں دنیاوی فائدہ تو دے دے مگر ، شاید آخرت میں اللہ کے سامنے سرخرو نہ کرا سکے  ۔ ۔ ۔ اللہ ہمیں ہدایت دے (آمین)
Advertisements

4 responses to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on اپریل 7, 2007 at 6:32 صبح

    ماشاء اللہ  و جزاک اللہ خیرٌ
    زمینی حقائق سے پردھ اُٹھایا ہے آپ نے ۔

    جواب دیں

  2. Posted by Azhar Ul Haq on اپریل 7, 2007 at 7:29 صبح

    بہت شکریہ انکل جی ، آپ کے الفاظ میرے لئے اہم ہیں  ۔ ۔ ۔ اللہ ہمیں نیک ہدایت دے  ۔ ۔ ۔آمین

    جواب دیں

  3. Posted by Sayyeda on اپریل 7, 2007 at 4:01 شام

    السلام و علیکمآپ نے جس خوبصورتی سے لوگوں کے خدشات، انکی توجیحات کو بیان کیا ہے، پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ اللہ تعالٰی سورتہ الاحزاب کی آیت نمبر ١٨میں فرماتے ہیں،“اور انسان شر بھی اتنی ہی مانگتا ہے جتنی کہ خیر، بے شک انسان بڑا ہی جلس باز واقع ہوا ہے۔“اور یہ بات کس قدر سچ ہے اس بات کو جاننے کے لیے ہمیں خود سے ہی پوچھنا پڑے گا۔ اور جوان نفی میں ہرگز نہیں آئے گا۔اللہ ہم سب کو یہ بات سمجھنے کی اور آپ کو اور اچھا لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    فی امان اللہ

    جواب دیں

  4. Posted by Azhar Ul Haq on اپریل 8, 2007 at 4:14 صبح

    صبا بہت شکریہ ، جی ہاں ہم واقعٰی ہی جلد باز ہیں ، ہر چیز کا فیصلہ جلدی میں کرتے ہیں ، چاہے وہ شر ہو یا خیر    ۔ ۔ ۔ اللہ ہمیں بچائے اس وقت سے جب اللہ کا غضب ہم پر برسے  ۔ ۔  ۔ اور ہم کہیں کے نہ رہیں  ۔ ۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: