مستقبل اور سوچ

کیا ہم واقعٰی ہی اس گلوب میں مستقبل دیکھ سکتے ہیں ، میں نے حیران ہو کر پوچھا ، بالکل انہوں نے فخریہ انداز میں بولا،  میں فکشن کو حقیقت میں بدل دیا ہے ، اب میں ساری دنیا کو اپنی مرضی سے چلا سکتا ہوں  ۔  ۔۔ تو کیا آپ مستقبل بدل دیں گے ، نہیں مستقبل بدل نہیں سکتا مگر ، لوگ تجسس کی وجہ سے  جان پائیں گے  ۔  ۔ کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں اور انکے ساتھ کیا ہونے والا ہے  ۔ ۔۔  وہ ایک منجھے ہوئے سائنسدان تھے ، اور میری ان سے پرانی دوستی تھی ، اچھا یہ بتاؤ کہ تم کیا دیکھنا چاہتے ہو ، میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ میرا دوست میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ، اور اب وہ  مجھ سے کیا چاہتے ہیں ، اور پھر انہوں نے اس گولے میں سب کچھ دیکھا دیا ، اگلے دو برس تک میں آنے والے دنوں سے وقف ہو جاتا تھا ، انکے گولے کی ایک بڑی خامی یہ تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ چھے مہینے تک کا مستقبل دیکھا سکتا تھا  ۔ ۔۔ مگر ابھی تک انہوں نے اپنی یہ انقلابی ایجاد میرے سوا کسی سے شئیر نہیں کی تھی ، وجہ مجھے مزید دو سال بعد پتہ چلی ، جب انہوں نے ایک دن مجھے بلایا اور کہا کہ آج اس مشین کا آخری دن ہے ، جو تمہیں جاننا ہے جان لو میں اسے تباہ کرنے جا رہا ہوں ، مگر کیوں ؟ یہ وجہ بعد میں بتاؤں گا  ۔ ۔ ۔ ۔ اچھا چلیں میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ مشین کے بعد کیسے ہونگے  ۔ ۔  وہ ہنس دئیے اور اس شیشے کے گولے کے نیچے ، لگے کی پیڈ پر کچھ بٹن دبائیے اور مجھے وہ گولے میں نظر آئے   ۔ ۔  جس میں ہم دونوں ساحل پر بیٹھے تھے اور سمندر کی لہروں سے کھیل رہے تھے ، ایسا لگتا تھا کہ جیسے ہمیں کوئی پرواہ ہی نہیں کسی چیز کی  ۔ ۔ ۔یہ پہلے دیکھ چکا ہوں  ۔ ۔ ۔ تم نے کیا سیکھا اس مشین سے ، انہوں نے جیسے بم مارا ہو ، مم مم میں نے کچھ نہیں سیکھا ، مگر میں نے سیکھا ہے ، کیا  ۔ ۔ ۔ دیکھو تم نے اپنے ایک دوست کو ایک گٹر میں گرتے دیکھا تو اسے آنے والے دن میں احتیاط برتتے کا کہا مگر وہ پھر بھی گر گیا ، وجہ پتہ ہے کیا تھی ؟ ، کیا تھی  ۔  ۔ وہ بہت دنوں سے اسی راستے سے گذر رہا تھا اور اسنے کبھی بھی  وہاں کے گٹر کو نہیں دیکھا تھا ، اسی لئے اسے اس میں گرنا پڑا  ۔ ۔ ۔ مگر میں بھی تو اس بس پر چڑھنے سے رک گیا تھا جو ایکسیڈنٹ کا شکار ہونے والی تھی ،  ہاں مگر تم نے کیا کیا ، تم نے اس خالی بس والے روٹ کی جگہ مصروف روٹ لیا جسکی وجہ سے تمہیں اب اکثر رش کا سامنا کرنا پڑتا ہے   ۔ ۔  ۔میں نے اس مشین سے بھی یہ ہی سیکھا ہے  ۔ ۔ ۔ کہ مستقبل بدلا جا سکتا ہے ، مگر اسکے لئے سوچ بدلنی ہوتی ہے  ۔  ۔ ۔اور مجھے خوشی ہے کہ میں اور تم اپنی سوچ بدل سکتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔اور اپنی سوچ کو مزید بہتر بنا کہ اپنا مستقبل بھی بہتر کر سکتے ہیں  ۔ ۔۔ ۔ ۔ تو دوستو اپنا مستقبل بہتر بنانے کے لئے اپنی سوچ  ضرور بدلیں  ۔ ۔  ۔ ۔۔ یہ کامیابی کا راز ہے   ۔ ۔  ۔۔ یہ کہ کر انہوں نے مشیں کو کھول کر اسکی جگہ پر ایک بڑے گملے والا پودا لگا دیا    ۔ ۔۔۔   ۔
Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on اپریل 4, 2007 at 7:57 صبح

    بہت خوب ۔ دین اسلام ایک جامع سوچ ہے اور اسے اپنانے کیلئے اپنی دوسری سوچوں سے نکلنا ہوتا ہے ۔

    جواب دیں

  2. Posted by Azhar Ul Haq on اپریل 4, 2007 at 12:44 شام

    بہت شکریہ انکل ، جی میں بھی یہ ہی کہنا چاہتا تھا کہ جب ہمارے پاس اپنی سوچ ہے تو ہمیں دوسروں کی سوچ کی کیا ضرورت ہے  ۔ ۔ میرے لئے دعا کیجیے گا  ۔ ۔ ۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: