طالبانستان

طالبانستان ، یہ وہ نام ہے جو پاکستان کے قبائیلی علاقوں کے لئے اس ہفتے کے ٹائم میگزین (٢٦ مارچ سے ٢ اپریل تک) کا سرورق ہے ، اس میں قبائیلی علاقوں میں طالبان کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور انکے اثرات بیان کئے گئے ہیں ، اور مختلف طبقہ فکر کے انٹرویو بھی لئے گئے ہیں ، خلاصہ اس مضمون کا یہ ہے
– قبائلی علاقوں میں حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے
– طالبان کا مقصد اسلام لانا نہیں بلکہ وہ طاقت اور دولت چاہتے ہیں
– قبائیلی علاقوں میں تعلیم پر پابندی ہے ، حتہ کہ ایک پورے قبیلے میں ایک شخص ایسا نہیں جو اپنا نام بھی لکھ سکے
– مشرف حکومت بے بس ہی نہیں بلکے بعض جگہ پر وہ طالبان کی حمائیت کر رہی ہے
– طالبان زیادہ تر ظالم ہیں اور طاقت کے زور پر لوگوں کو زیر کر رہے ہیں
– لوگ صرف طاقت کی وجہ سے ان علاقوں کو چھوڑ رہے ہیں ، یا پھر مجبور ہیں انکی اتباع کرنے پر
یہ سب ٹھیک ہیں مگر تجزیہ نگار نے ان سب باتوں کے اثرات پاکستان پر کیا ہیں ان کو مکمل فراموش کر دیا ہے ، اور اس بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجوہات کیا ہیں وہ بھی نہیں بتائیں ، صرف اتنا کہا ہے کہ طالبان مقامی نہیں ، اگر وہ مقامی نہیں تو کہاں سے آئے ہیں ، افغانستان میں جانے والے کون لوگ ہیں ، کیونکہ اس وقت تو وانا اور وزیرستان میں قبائیل ہی ان غیر مقامی لوگوں سے “جنگ“ کر رہے ہیں  ۔ ۔۔ اصل میں یہ سب فتنہ امریکا کا ہی کھڑا کیا ہوا ہے وہ افغانستان پر کنٹرول نہیں کر پا رہا ، اور وہ چاہتا ہے کہ قبائیلی علاقے کے لوگ کھڑے ہو جائیں افغانستان کے حق میں  ۔۔ ۔ مگر اب شاید قبائیلی بھی یہ چال سمجھ چکے ہیں  ۔۔ ۔ میں افغان جنگ کے شروع میں ان قبائیلی علاقوں میں گیا تھا ، تو مجھے وہاں کے رسم و رواج جاننے کا موقع ملا تھا ، اور میلے کو بھی دیکھا تھا ، آج دن تک وہ ایک دن مجھے نہیں بھولتا ، وہ انڈے لڑانے کے کھیل سے لے کر نشانہ بازی اور مزے دار کھانوں تک ایک طویل فہرست بن جائے گی اگر میں لکھوں ، بہت مہمان نواز اور اچھے لوگ ہیں یہ قبائیلی  ۔ ۔ ۔ آپ کو شاید یقین نہ ہو کہ ان دنوں میں لوگ دکانیں کھلی چھوڑ کر نماز پڑھتے تھے  ۔ ۔ ۔ مگر مجھے وہ بھی دن یاد ہے جب مجھے پاکستانی کہ کہ ایک افغان جہادی نے پکارا تھا اور اسکا لہجہ طنزیہ تھا  ۔ ۔ ۔کیونکہ افغان پاکستانیوں سے بہت نفرت کرتے تھ (بلکہ ہیں ) جسکی بہت لمبی کہانی ہے  ۔ ۔  جو پھر کبھی سہی ، انہیں دنوں مجھے کابل جانے کا موقع ملا جہاں پر سیکولر حکومت تھی  ۔ ۔ ۔ پاکستان سے نفرت اس وقت اتنی تھی کہ جسکا کیا بیان کروں ، جب افغان مہاجرین کو پاکستان نے جگہ دی اور مجھے ایک مہاجر کیمپ میں جانے کا موقع ملا تو وہ نیلی وردی والے افغان مجاہدین بھی دیکھے جنکی عمریں اس وقت پندرہ بیس سال کے درمیان تھیں اور وہ ایک شہید کا جنازہ کیمپ میں رکھ کر اس پر اس شہید کے کارناموں کا پرچار کر رہے تھے اور لوگ اسکی شہادت پر عش عش کر رہے تھے  ۔ ۔ ۔  مگر جب وہ ہماری طرف (یعنی میری طرف مڑا)  تو کہنے لگا کہ پاکستانی ہماری کوئی مدد نہیں کر رہے ، اور عیاشی میں مبتلا ہیں  ۔ ۔ ۔ یاد رہے وہ زمانہ ضیاالحق کا زمانہ تھا جب پاکستان میں ناظم صلوات جیسے کام کا آغاز ہوا تھا  ۔ ۔ ۔ اور وہ ہماری عیاشی تھی  ۔ ۔ ۔ آج جب ٹائیم میگزین کا مضمون پڑھا تو وہ سب کچھ یاد آ گیا  ۔ ۔ ۔ ہماری تمام حکومتوں نے کبھی بھی عوام کو افغانیوں کی یہ حقیقت نہیں بتائی کہ وہ پاکستانیوں کو کیا سمجھتے ہیں ، میں یہ سمجھتا ہوں کہ افغانیوں نے پاکستان کو استعمال کیا ، سرحدی گاندھی کے زمانے سے لیکر آج تک وہ کبھی بھی پاکستان سے مخلص نہیں رہے ، آج بھی افغانی پاکستانی کے بنسبت ایک بھارتی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، ہم نے اپنے پاکستان میں منشیات کا پھیلاؤ اور اسلحہ کے ڈھیر افغانیوں کے ہمدردی کر کہ لگائے مگر آج تک افغانوں کے دل میں وہ محبت پیدا نہیں ہو سکی ، ہم نے انہیں بیس سال سے زیادہ اپنے اور بوجھ بنا کہ رکھا اپنی معیشت خراب کی اور اپنا نام بھی خراب کیا ، جیسے یہاں یو اے ای میں اکثر منشیات فروش جو پاکستانی پاسپورٹ پر آتے ہیں وہ افغانی ہوتے ہیں  ۔ ۔۔  پاکستان کا پٹھان غیرت مند اور قبائیلی لوگ بہت زیادہ مخلص ہیں پاکستان سے ، مگر اب وہ افغانوں کے چنگل میں پھنسے ہیں ، اور اب انہیں بھی پتہ چل رہا ہے کہ اصل میں کون انکا دوست ہے اور کون دشمن  ۔ ۔ ۔۔مگر ہماری اپنی حکومت کی نااہلی بھی ہے کہ ان لوگوں کی پاکستان سے محبت کا جذبہ کم ہوا ہے ، کیونکہ مفاد پرست اور دولت اور طاقت کے پجاریوں کو پولیٹیکل ایجنٹ کی شکل میں ان پر مسلط کیا جاتا ہے ، جو وہاں ترقی کو نہ تو منیج کر پاتے ہیں اور نہ ہی وہاں کے لوگوں کو پاکستان کی حکومت کی پالیسی کو سمجھا پاتے ہیں  ۔ ۔۔  اگر ان علاقوں میں جرگہ سسٹم نہ ہوتا تو شاید یہ لوگ مزید انتشار کا شکار ہو جاتے  ۔ ۔ ۔ مگر ان لاقانونی علاقوں میں آج بھی جرگوں کے فیصلوں کی عزت کی جاتی ہے  ۔ ۔ ۔آج ہماری حکومت کی غلط اور امریکا نواز پالیسیوں نے ان قبائلی ساتھیوں کو بھی ہم سے متنفر کر دیا ہے ، مگر وہ لوگ اب اپنا اچھا برا خود سمجھتے ہیں  ۔ ۔اور مجھے یقین ہے کہ اب انشااللہ وہاں کے حالات بھی بدلیں گے  ۔۔ ۔ اور پاکستانی حکومت کے پاس اچھا موقع بھی ہے کہ وہ ان علاقوں میں اپنا اثر رسوخ بڑھائے اچھے پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کر کے  ۔ ۔ ۔ اور قبائیلیوں کی طرح اب ہمیں بھی سمجھ لینا چاہیے کہ اصل دشمن اور سازشی کون ہے ، شاید ابھی کچھ وقت ہے ہمارے سنبھلنے کے لئے  ۔ ۔۔ اللہ ہم پر رحم کرے (آمین)
Advertisements

11 responses to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on مارچ 30, 2007 at 10:55 صبح

    میں 1974 یا 1975 میں کسی سرکاری کام کے سلسلہ میں قبائلی علاقہ میں گیا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ اگر ان لوگوں کے ساتھ انسانیت سے پیش آیا جائے تو سلوک میں وہ پاکستان کے ترقی یافتہ شہروں میں رہنے والوں سے بہت اچھے تھے ۔ قبائل عام طور پر بہت غریب لوگ ہیں صرف چند جو سمگلنگ وغیرہ کا کاروبار کرتے ہیں وہ امیر ہیں ۔ منشیات کے بادشاہ نہ تو قبائلی ہیں اور نہ پاکستانی یہ لوگ یورپ اور امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہیں رہتے ہیں البتہ ان کے کارندے قبائلیوں میں اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں ہیں ۔
     
    1958ء کے مارشل لاء سے لے کر آج تک کسی نے اس علاقہ کی ترقی کیلئے کچھ نہیں کیا ۔ اُس سے پہلے حکومت نے اس علاقہ میں تعلیم کیلئے کافی کام کیا تھا ۔ پاکستان بننے کے بعد ان لوگوں نے پہلی بار حکومت کا ساتھ دینے کی بات کی اور میرے خیال کے مطابق 11 ستمبر 2001ء تک وعدہ نبھایا ۔
     
    جہاں تک افغانیوں کا تعلق ہے ان میں تین قسم کے لوگ ہیں ایک عیاش اور پاکستان کے دشمن ۔ دوم ۔ نیک اور پاکستان کے حامی جن کے نام بدلتے رہے کبھی اسلام جہاد اور کبھی طالبان ۔ سوم ۔ چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والے جو طالبان سے مل گئے تھے اور اب طالبان کے خلاف ہیں ۔ پاکستان میں جن لوگوں نے فائدہ اُٹھایا وہ پہلی اور تیسری قسم ہے ۔  
     موجودہ حکومت نے جب امریکہ کی غلامی میں تمام ڈپلومیٹک طور طریقے بالائے طاق رکھ کر طالبان کو دہشتگرد اور پاکستانی قبائلیوں کو دہشتگردوں کا ساتھی قرار دے کر ان کا قتل عام شروع کر دیا تو پھر اُن سے کس بنا پر اچھائی کی توقع کی جا سکتی ہے ۔   

    جواب دیں

  2. بہت سطحی سی باتیں کیں آپ نے اظہرالحق صاحب،
    کیا واقعی وہ "سب" ٹھیک ہے جو ٹاْئم نے لکھا؟ ایسا ایک امریکی جو اس خطے
    کے حالات سے صرف سی این این کے ذریعے واقف ہو، مان سکتا ہے، ایک عام
    پاکستانی یا افغانی نہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سرحد یا بلوچستان میں نہ
    رہنے والے بھی صرف میڈیا ہی کہ پہنچاائی گئی اطلاعات پر بھروسہ کرتے ہیں۔
    افغانی پاکستان سے نفرت کرتے ہیں، شائد یہ کسی حد تک ٹھیک ہو لیکن کبھی
    بلوچ اور پٹھان کا نقطئہ نظر بھی پوچھیے پنجابی اور فوج سے متعلق! مت
    بھولیے کہ انڈیا اور افغانستان دونوں قدیم ملک ہیں، پاکستان ان دونوں کے
    بطن سے ہیدا ہوا تھا، یہ بھی مت بھولیے کہ قبائل علاقے ایک معاہدے کے تحت
    پاکستان کے ساتھ ہیں، یہ بھی مت بھولیے کہ ڈیورنڈ لائن معاہدے کی سو سالہ
    مدت کب کی گزر چکی ہے، یہ بھی مت بھولیے کہ قوموں کی زندگی بارڈر کے ذریعے
    تقسیم نہیں کی جا سکتی، اور پاکستانی قبائل سوائے شہریت کے، پاکستان کی
    نسبت افغانیوں سے قریب تر ہیں، طالبان کا دور آئڈیل ہرگز نہیں تھا لیکن
    کیا ان حالات میں کوئی بہتر آپشن تھا؟ کیا انھوں نے امن قائم نہیں کیا
    تھا، گھر گھر میں موجود ہتھیار ختم نہیں کروائے تھے؟ جنگی سرداروں کو نتھ
    نہیں ڈالی تھی؟ کابل قندہار ہائی وے مرمت نہیں کروائی تھی اور اس پر سفر
    محفوظ نہیں تھا؟ کیا انھوں نے عورتیں ریپ کیں، جو کہ فاتحین کے لیے ایک
    عام سی بات ہے؟ افسوس کہ ہم وہ سب بھول کر ان کی سیاسی غلطیوں کو دہراتے
    رہتے ہیں۔ تو پھر ان کی سب سے بڑی غلطی بھی دہرائیے کہ انھوں نے امریکہ سے
    اپنے ملک سے گزرنے والی وسط ایشیا تا پاکستانی ساحل تیل پائپ لائن کا
    کرایہ مانگ لیا تھا اور انکار پر اس منصوبے کو رد کر دیا تھا۔  طویل پاسٹنگ کی معذرت لیکن ریکارڈ کو درست ہی رکھنا چاہیے، ہمارے بچے شائد انہی صفحات میں تاریخ تلاش کریں!

    جواب دیں

  3. Posted by Azhar Ul Haq on اپریل 1, 2007 at 10:12 صبح

    فیصل سب سے پہلے تو شکریہ کہ آپ نے میرے بلاگ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ، دوسری بات ٹائم میگزین کے مضمون کا خلاصہ پیش کیا تھا ، اس سے متفق میں ہرگز نہیں ہوں ، ہاں مضمون پڑھتے بڑھتے مجھے اپنا قبائیلی علاقوں کا سفر یاد آیا تو اس پر لکھ دیا  ۔۔ ۔جی  ہاں میں بلوچی اور پٹھانوں کا نظریہ اچھی طرح جانتا ہوں ، مگر اتنا جانتا ہوں کہ سرحد اصل میں پنجاب ہی تھا جسے انتظامی طور پر الگ کیا گیا تھا خیر وہ الگ بات ، مگر پنجابیوں کے بارے میں جو خیالات پروان چڑھ رہے ہیں یا چڑھائے جا رہے ہیں ، کیا آپ وہ ایک عام پنجابی کے متعلق ہیں جو خود شاید بلوچی اور پٹھان سے زیادہ پس رہا ہے ، میں آپکو ملتان سے لیکر چکوال تک کی کہانیاں سنا سکتا ہوں کہ وہاں کی زندگی کیسی ہے اور ، قلات اور سبی کی رونقیں بھی بتا سکتا ہوں ، مردان ، ہزارہ اور وارسک میں رہنے والوں کی سوچ بھی جانتا ہوں ، مگر کیا سب لوگ برے ہیں ؟ ایسا نہیں ہے  ۔ ۔  کبھی موقع ملے تو میری ایک پچھلی پوسٹ دیکھیے گا جس میں میں نے اپنے دوستوں کے بارے میں لکھا ہے ، آپ کی بات سن کر مجھے اپنے استاد یاد آ گئے ، عبدالحق قریشی ، وہ سندھی ہیں ، میں نے ان سے موسیقی سیکھی ، اور پھر انور بلوچ ، جنہوں نے مجھے گٹار پکڑنا سیکھایا  ۔ ۔ ۔ یا پھر میرا وہ پٹھان دوست جسنے روتے ہوئے سہراب گوٹھ پر حملے کی داستانیں سنائیں  ۔ ۔ ۔ اور میں نے اپنی ان گناہ گار آنکھوں سے سندھی بھائیوں کو پٹھانوں کی مدد کرتے دیکھا ہے ، اور پنجابیوں کو بلوچوں کے ساتھ رقص کرتے بھی دیکھا ہے  ۔ ۔ ۔ شاید میرے پاس کافی مواد ہے اس پر ، پھر کبھی لکھوں گا ، مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر ہم محبتیں نہیں بانٹ سکتے تو کم سے کم نفرتوں کا پرچار نہ کریں  ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ہمیں ہدایت دے (آمین)
    ایک اور بات جو طالبان کے حوالے سے کہوں گا ، کہ بے شک وہ بہت اچھے تھے ، مگر ناداں تھے ، جہاں مصلحت چاہیے تھی وہاں وہ سختی برتتے تھے اور جہاں سختی چاہیے تھی وہاں وہ  ۔ ۔ ۔ خاموش رہے ، چمن کے بازاروں میں جہاد کی صدا دینے والے اب جانے کہاں گئے  ۔۔ ۔

    جواب دیں

  4. آپ کی یہ بات کہ سرحد پنجاب کا حصہ تھا، دلچسپ لگی۔ کوئی دستاویز اگر اس سلسلے میں آپکی نظر سے گزری ہو تو ضرور بتائیے گا کہ میں بھی اپنے محدود علم کی درستگی کر سکوں۔دوسری بات سے مجھے اختلاف ہے۔ حقیقت بیان کرنے کا مطلب نفرتیں بانٹنا نہیں، میں نہ تو پٹھان ہوں، نہ بلوچ اور نہ پنجابی، اسلئے کسی کی طرف داری نہیں کر رہا۔ جنوبی پنجاب بھی بہت پسماندہ ہے، یہ اور بات کہ وہاں سرائیکی بولی جاتی ہے۔ خیر میرے کہنے کا مقصد انفرادی سطح پر نہیں تھا، ورنہ تو پاکستانی اور ہندوستانی بھی بڑے اچھے دوست ثابت ہوتے ہیں۔ میرا مطلب اداروں کی سطح پر تھا، وسائل اور اختیار کی تقسیم پر تھا اور اسی قسم کی بیشمار نا انصافیوں پر تھا۔ بہرحال یہ لمبی بحث ہے، پھر کبھی کریں گے۔

    جواب دیں

  5. آپ کی یہ بات کہ سرحد پنجاب کا حصہ تھا، دلچسپ لگی۔ کوئی دستاویز اگر اس سلسلے میں آپکی نظر سے گزری ہو تو ضرور بتائیے گا کہ میں بھی اپنے محدود علم کی درستگی کر سکوں۔دوسری بات سے مجھے اختلاف ہے۔ حقیقت بیان کرنے کا مطلب نفرتیں بانٹنا نہیں، میں نہ تو پٹھان ہوں، نہ بلوچ اور نہ پنجابی، اسلئے کسی کی طرف داری نہیں کر رہا۔ جنوبی پنجاب بھی بہت پسماندہ ہے، یہ اور بات کہ وہاں سرائیکی بولی جاتی ہے۔ خیر میرے کہنے کا مقصد انفرادی سطح پر نہیں تھا، ورنہ تو پاکستانی اور ہندوستانی بھی بڑے اچھے دوست ثابت ہوتے ہیں۔ میرا مطلب اداروں کی سطح پر تھا، وسائل اور اختیار کی تقسیم پر تھا اور اسی قسم کی بیشمار نا انصافیوں پر تھا۔ بہرحال یہ لمبی بحث ہے، پھر کبھی کریں گے۔

    جواب دیں

  6. Posted by Masooma on اپریل 1, 2007 at 9:08 شام

    میں صرف یھ کھوں گی کہ طالبان نے اسلام کو بھت بدنام کیا ہے۔ کیا شیعھ سنی فساد کو پھرزندہ کرنے کا سہرہ انہیں کے سر نہیں۔ براہ کرم میری اصلاح کریں اگر میں غلط ھوں۔

    جواب دیں

  7. Posted by Azhar Ul Haq on اپریل 2, 2007 at 5:28 صبح

    شعیہ سنی فساد کا جہاں تک مسلہ ہے ، وہ واقعٰی ہی اسی کی دہائی میں زیادہ زور پکڑ گیا ، ورنہ اس سے پہلے ، میں نے خود محرم کے جلوسوں میں سنیوں کو سبیلیں لگاتے دیکھا ہے ، جو ہر گذرنے والے شعیہ جلوس کو نان روٹی تک دیتے تھے ، اسی طرح جشن میلاد نبی (ص) میں بھی سب لوگ جوش و خروش سے شریک ہوتے تھے ، مگر اسی کی دہائی کے آخر میں ، نہ صرف شعیہ سنی بلکے فرقے بازی میں بھی بہت زیادہ پھیلاؤ آیا اور اس میں پیش پیش ایم کیو ایم اور چند اسلامی تنظیموں نے بہت فعال رول ادا کیا  ، اور طالبان بھی ان میں سے ایک تھے  ۔ ۔ ورنہ سوویت افغان جنگ کے دوران بہت سارے شعیہ سنی مل کر روسیوں سے لڑے تھے ۔ ۔  مگر میں ابھی بھی سمجھتا ہوں کہ دشمن جتنا انتشار پھیلانا چاہتا تھا ، اتنا نہیں پھیلا پایا ، شاید اس ملک پر کچھ اللہ کا کرم ہے  ۔ ۔ ۔کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود دلوں میں ابھی بھی خلوص موجود ہے  ۔ ۔ ۔  (میں عوام کی بات کر رہا ہوں ، ورنہ فرقہ پرست عناصر تو  ۔ ۔ ۔ ۔)
    فیصل ، بے شک اداروں کا مضبوط ہونا ضروری ہے مگر کیا کیا جائے کہ یہاں اداروں کی پہچان نظام کے بجائے افراد سے ہوتی ہے ، جیسے سربراہ مملکت کا نام مشرف ہے ، اور قانون کے ادارے کا نام “وصی ظفر“ ہے  ۔ ۔۔اور داخلی معملات کا نام آفتاب شیر پاؤ اور خارجی ادارے کا نام قصوری ہے  ۔ ۔ ۔ اور اسی طرح باقی لوگ بھی  ۔ ۔ ۔
     

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: