نعت

میں ایک گناہ گار سیاہ کار بدکار انسان ہوں ، نعت لکھنا بہت ادب کا مقام ہے ، اسکے لئے نبی اکرم(ص) کی محبت سے دل لبریز ہی نہیں بلکے عمل بھی چاہیے ، میں بہت ڈرتا ہوں جب آپ (ص) کا نام لیتا ہوں کہ مجھے آپ (ص) سے محبت ہے ، کیونکہ انسان جس سے محبت کرتا ہے اسے راضی بھی رکھتا ہے ، اور جب مصطفٰی (ص) راضی ہو گئے تو رب راضی ہو جائے گا  ۔ ۔ ۔ کاش میں اپنے عمل سے نبی اکرم (ص) سے اپنی محبت کا ثبوت دے سکوں  ۔ ۔ ۔ اللہ مجھے ہدایت دے (آمین) ۔ ۔  یہ نعت بہت عرصے بعد لکھی ہے  ۔۔  میں جانتا ہوں کہ میں نعت گوئی کا حق ادا نہیں کر سکتا  ۔  ۔ مگر ایک ادنٰی سی کوشش پیش خدمت ہے
 
آج کی ہے صدا ، مصطفٰی مصطفٰی
جگ کا ہے آسرا، مصطفٰی مصطفٰی
 
غم کے بادل چھٹے ، دل جھوم سا گیا
جب لبوں نے کہا ، مصطفٰی مصطفٰی
 
کوئی مشکل پڑے ، کوئی بھی کام ہو
وسیلہ ہے آپ کا ، مصطفٰی مصطفٰی
 
دولت جہاں کی  ملے ، گرد پاگر ملے
 گدا بنے شہنشاہ ۔ مصطفٰی مصطفٰی
 
سکوں کی تلاش میں ہے یہ سب جہاں
سکوں ملا جب  کہا،  مصطفٰی مصطفٰی
 
سب کچھ انہیں سے ، انہیں کا ہے سب کچھ
ابتداء اور انتہا  ، مصطفٰی مصطفٰی
 
پہچان ہے یہ ہی ، اک مسلمان کی
یقیں بعد از خدا ، مصطفٰی مصطفٰی
 
سمجھ جائے گا وہ راز دو جہان کے
جو بھی سمجھ گیا، مصطفٰی مصطفٰی
 
عرش تا فرش آج درود ہے سلام ہے
مصطفٰی مصطفٰی ، مصطفٰی مصطفٰی
 
فردوس کی خواہش نہیں ہے ، اب مجھے تو اظہر
مجھے ملے اے خدا ، مصطفٰی مصطفٰی
Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Mera Pakistan on مارچ 28, 2007 at 1:21 شام

    آخری مصرعہ اگر "اے خدا مجھے ملا" کی بجائے "مجھے ملے اے خدا" ہو تو ذرا ادب برقرار رہے گا۔ آپ ویسے کوشش کریں کسی پکے شاعر سے شاعری کے رموز سیکھنے شروع کردیں۔ کیونکہ اگر آپ نے شاعری کرنی ہے تو اس وقت کو ضائع کرنے کی بجائے کام میں لایے۔ شاعری ميں وزن، بحر، قافیہ ردیف لازمی ہوتے ہیں اور اگر اشعار بناں وزن کے ہوں تو بات بنتی نہیں۔ آپ کسی شاعر کی مدد سے شاعری کے اسرار و رموز پر یہاں سبق بھی لکھوا سکتے ہیں۔  اس طرح نئے شعرا بھی اس سے مستفید ہوسکیں گے۔ میری بات کا برا نہ منانا میں ایک مخلص بن کر آپ کو مشورہ دے رہا ہوں۔ خدا آپ کو امان میں رکھے اور آپ کی شاعری کو جلا بخشے۔

    جواب دیں

  2. Posted by Azhar Ul Haq on مارچ 29, 2007 at 5:08 صبح

    میرا پاکستان؛ سب سے پہلے تو شکریہ کہ آپ میرے بلاگ پر آئے ، جی آپ نے درست فرمایا کہ میری شاعری میں وہ وزن نہیں جو فعلا فعلاتین والا ہوتا ہے ، اصل میں وہ کافی “دکھت“ کام ہے ، میری اصلاح ایک بہت مشہور شاعر ہیں انہوں نے کی تھی ، کبھی موقع ملا تو وہ  شاعری بھی پیش کروں گا ، اب وہ اصلاح کچھ ایسی ہے کہ بس دل خوش ہو جاتا ہے ، اب وہ حضرت اس دنیا میں موجود نہیں اسلئے کچھ مزید کہ نہیں سکتا  ۔ ۔  دوسری بات نہیں دوست میں باقاعدہ شاعر نہیں بننا چاہتا بس اپنے خیالات چاہے وہ نثر میں ہوں یا نظم میں انہیں پیش کرتا ہوں  ۔ ۔ میری نظر میں خیال زیادہ ضروری ہے ، فعلا فعلاتین کی بنسبت  ۔ ۔ ۔ اور آپکی بات صحیح ہے کہ مجھے ذرا دھیان سے اپنی شاعری پیش کرنی چاہیے انشااللہ میں کوشش کروں گا کہ اگلی دفعہ کچھ “محنت“ کر کہ شاعری پیش کروں  ۔ ۔ ۔
    آپ کی ہدایت پر آخری مصرعہ تبدیل کر رہا ہوں  ۔ ۔ ۔ شکریہ  ۔ ۔ میرے لئے دعا کیجیے گا  ۔ ۔ ۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: