ترازو انصاف کا ڈولنے سے روکے کوئی

یہ دنیا ہے یہاں کرے کوئی بھرے کوئی
آگ جلائے ہے نہ جانے کون ، جلے کوئی
 
اندر کا میرے سناٹا بہت بڑھ گیا ہے
ویرانیوں سے مجھے آزاد کرے  کوئی
 
اب حاکم وقت نے عدل پر ہاتھ ڈالا ہے
ترازو انصاف کا ڈولنے سے روکے کوئی
 
میرے شہرکے مالک وہ تقریر و تدبیر کر
نہ ہاتھوں سے نہ باتوں سے تجھے ٹوکے کوئی
 
فصیل تیرے محل کی اونچی تو بہت ہے
پرواز کر کہ کہیں تجھ تک نہ پہنچے کوئی
 
آج جواں مار دے ، ضعیف کو لاچار کر
اے دروغہ تیرے مقتل سے کیا بچے کوئی
 
نہ دیں کا چھوڑا نہ دنیا کو اپنا   اظہر
کیا اس دیار میں اب جئے یا مرے کوئی
 
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: