یہ حال ہے میری قوم کا مالک

کہتے ہیں جب کسی کے ستارے گردش میں آتے ہیں تو پھر اچھا بھی برا بن جاتا ہے اور سونا بھی مٹی اور نیکی بھی گناہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے ، کچھ ایسا ہی آج کل پاکستان کے ساتھ ہو رہا ہے ، میرے خیال میں ہمیں اب سمجھ جانا چاہیے کہ ہم نے جس نیت سے پاکستان حاصل کیا تھا اس نیت کے مطابق ہی ہم اسے قائم رکھ سکتے ہیں ورنہ نہیں  ۔ ۔ ۔ آج پاکستان مغربی خفیہ اجنسیوں کی جنت بنا ہوا ہے ، ہم آپس میں کبھی شعیہ سنی بن کہ لڑتے ہیں کبھی پنجابی سندی اور بلوچی پٹھان کو بنیاد بنا کر لڑا جاتا ہے ، کبھی ہم خود کو اسلام کا قلعہ کہتے ہیں اور کبھی روشن خیالی میں اقوام مغرب کو بھی شرما دیتے ہیں ، گفتار کے غازی اتنے ہیں کہ اب انہیں شہید کرنے کا دل کرتا ہے ، خود غرضی ، لالچ ، نمود نمائش ہماری زندگی کا انداز بن چکے ہیں ، حاکم اگر غلط ہیں تو عوام ان سے چار ہاتھ اور غلط ہے ، ایک طبقہ مظاہرہ کرتا ہے دوسرا اسکو تماشا بنا دیتا ہے ، حاکموں کے جلسے میں عوام کا اگر ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہوتا ہے تو سیاستدانوں کی جلوسیاں بھی کسی سیلاب سے کم نہیں ہوتیں ، عوام کا وہ طبقہ جو ابھی تک یہ سمجھ رہا ہے کہ اسے کچھ فرق نہیں پڑے گا جب مزید “اصطلاحات“ ہونگی تو انہیں بھی بہت جلد ، سڑکوں پر نکلنا پڑے گا ۔ ۔ مگر کیا یہ ہمارے مسائل کا حل ہو گا ؟ نہیں ہرگز نہیں ، جب تک ہماری انفرادی سوچ اجتماعی سوچ میں نہیں بدلے گی ، جب تک ہم برداشت و حوصلہ پیدا نہیں کریں گے ، جب تک ہم حق بات کہنے سے نہیں ڈریں گے اس وقت تک ہم پر ایسے ہی روز عذاب نازل ہوتے رہیں گے ، اس وقت ہماری قوم سیاسی ، سماجی ، اخلاقی اور معاشی سب شعبہ جات میں انحطاط کا شکار ہے اور یہ انحطاط اب بڑھ رہا ہے ، اور یہ ہمیں اس پاتال میں لے جائے گا جہاں ہم خود کو ایک قوم کیا ایک فرد کی حثیت سے بھی قائم نہیں رکھ سکیں گے  ۔ ۔ ۔میں اب بھی کہتا ہوں کہ وقت نہیں گذرا ابھی ، ابھی بھی ہم خود کو بدل سکتے ہیں ، بس اتنا ہی کر لیں کہ جو نیت کرتے ہیں وہ ہی عمل میں بھی کریں ، قول و فعل کے تضاد کو ختم کریں اور نئی زندگی شروع کریں ، اگلے کچھ دنوں میں ہم قراداد پاکستان کی یاد منائیں گے ، کیا ہم اس دفعہ اس تجدید عہد وفا کو واقعٰی ہی تجدید کروا سکیں گے ؟ یا یہ دن بھی باقی سالوں کی طرح صرف یادوں اور باتوں میں گذر جائے گا  ۔ ۔ ۔ میں اپنی قوم سے ناامید نہیں ہوں ، کیونکہ مجھے پتہ ہے یہ دیس وہ ہے جسنے عالم اسلام کی رگوں میں نیا خون دوڑانا ہے ، نیا ولولہ جگانا ہے ، مگر کیا ہم خود سو کر یہ کام کر پائیں گے ، کاش ہم یہ بات سمجھ جائیں کہ جب قومیں ایسے انتشار کا شکار ہوتیں ہیں تو انپر بہت جلد ظالم قوم مسلط کر دیا جاتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ کیا ہم اس ظلم کو سہنے کے لئے تیار ہیں یا پھر اس وقت کو آنے سے روکنا چاہتے ہیں ، آج اتنا ہی سوچیے  ۔ ۔ ۔
——————————————-
شاید میری قوم کا ناز مر گیا ہے
گیت مر گیا ہے  اور ساز مر گیا ہے
کیوں پوچھتے ہو ، غریب وطن سے
 دل کا مرے  سوز و گداز مر گیا ہے
یہ حال ہے میری قوم کا مالک
نشیب مر گیا ہے  فراز مر گیا ہے
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: