کل ،آج اور کل

کل جو آنے والا ہے
نئے دور کا یہ نیا اک ساز ہے دوستو
شہپر ہے شاہیں ہے شاہباز ہے دوستو
لُٹے پُٹے قافلے کا لُٹا پُٹا مسافر ہے یہ
در در کی ٹھوکروں کا ناز ہے دوستو
 
آج جو بیت جائے گا
آج انصاف مر گیا ہے ، حاکم کے ایواں میں
آج سے اک نئے دور کا آغاز ہے دوستو
سنائی نہیں دیتی ہے مظلوم کی چیخیں
عرش تک پہنچے ہے جو آواز ہے دوستو
 
کل جو گذر چکا ہے
فرمان ہے رب کا یہ ، گھبرا نہیں بندے
عمر ظالم کی بہت دراز ہے دوستو
درس یہ ہی ملتا ہے ، تاریخ کے نقوش سے
انقلاب کے آنے کا یہی انداز ہے دوستو
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: