مجھے جھنگل اُگا لینے دو

اس شہر میں مجھے اک
جھنگل اُگا لینے دو
بہت دنوں سے میں کسی
پیڑ کی چھاؤں میں نہیں بیٹھا
بہت دنوں سے میں نے
کسی پرندے کی چہکار نہیں سنی
بہت دنوں سے میں نے
کوئی پھول بھی نہیں سونگھا
آج آنگن میں کچھ پھول ،کِھلا لینے دو
اس شہر میں مجھے اک جھنگل اُگا لینے دو
دھواں ہے اتنا کہ کچھ دکھائی نہیں دیتا
شور ہے اس قدر کہ کچھ سنائی نہیں دیتا
غلاظتوں سے بھری ہوئی ہیں گلیاں
تعفن ہے اتنا کہ کچھ سجھائی نہیں دیتا
کچھ خوشبو کی بتیاں سُلگانے دو
بہت دنوں سے میں نے
شہر کو اندر سے نہیں جانا
اس شہر میں مجھے اک جھنگل اُگا لینے دو
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: