اندھیری آگ

میں نے اپنے چاروں طرف نظر ڈالی ، جیسے کسی کو تلاش کر رہا ہوں ، اور اپنے ٹریگر پر ہاتھ رکھ دیا ، مجھے بیلٹ کے نیچے خارش محسوس ہوئی میں نے قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کہ خارش کی ، میں نے ایک بار پھر ٹریگر پر ہاتھ رکھ دیا ، میں چاہتا تھا کہ لوگ نماز کے لئے کھڑے ہو جائیں تو میں ٹریگر دباؤں ، امام نے صفیں سیدھی کرنے کا بولا اور اللہ اکبر کی صدا آئی ، میرے دل میں اللہ کو دیکھنے کا ارمان پھر جاگ اٹھا ، یہ میرے فرقے کے لوگ نہیں تھے اسلئے انکی نماز کا انداز بھی مختلف تھا جو میں جانتا تھا کہ کچھ ائمہ کے نزدیک وہ بھی صحیح ہے ، مگر یہ لوگ ہمارے لوگوں کے خلاف تھے اور پچھلے مہینے ہی ہمارے بہت بڑے رہنما انکے فرقے کی نفرت کا شکار ہو چکے تھے ، اللہ اکبر اور میں نے دیکھا سب لوگ رکوع میں تھے ، یہ بہت اچھا موقع تھا ، جیسے ہی لوگ رکوع سے سیدھے ہونے لگے میں نے زور سے کلمہ شہادت پڑھا اور ٹریگر دبا دیا میں جانتا تھا اگر ٹریگر فیل ہو گیا تو صادق ریموٹ دبا دے گا جو مسجد کے باہر موجود تھا اور میرا سگنل کلمہ شہادت تھا ، مجھے خوشی تھی کہ آخری وقت مجھے کلمہ نصیب ہوا اور شہید کی موت بھی  ۔ ۔ ۔ ٹریگر دبتے ہی ، میرے جسم پر بندھے تقریباً پندرہ کلو کے بارود میں بجلی دوڑی اور جو دھماکہ ہوا وہ میں نے سنا مگر پھر کان بند اور اندھیرا چھا گیا  ۔ ۔۔ پھر جیسے وقت رک گیا تھا ، میں نے اپنے آپ کو اڑتے ہوئے پایا  ۔ ۔۔ میں دھوئیں کے اندر سے بلند ہوا ،  ساری مسجد میرے سامنے تھی ، ایک ایک شخص میرے سامنے تھا میں سب کی تفصیلات دیکھ سکتا تھا ، میرا کوئی جسم نہ تھا مگر میں دیکھ رہا تھا سن رہا تھا ،  اور ایک ایک تفصیل جیسے میرے سامنے تھی ، بارود کے پھٹ رہا تھا ، میرے جسم سے جیسے آگ اور بارود کی لپٹیں نکل رہیں تھیں ، جو میرے ساتھ کھڑے ایک نوجوان پر پڑیں ، اسکا نام عرفان تھا ، عرفان اپنے گھر کا اکلوتا لڑکا تھا ، اسنے والد کی پڑھائی کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑی اور ایک جگہ پر  کلرک کی جاب کرنے لگا ، جس سے اسنے اپنے گھر کا خرچہ بھی اٹھایا اور بھائی کو بھی آگے پڑھا رہا تھا ، صبح وہ گھر سے چھے بجے نکلتا تھا ، پہلے ایک اسکول میں انگریزی کی دو کلاسیں لیتا پھر نو بجے تک دفتر پہنچتا اور شام چھے بجے چھٹی کر کے تین بچوں کو ٹیویشن پڑھاتا تھا اور رات کو تقریباً دس بجے گھر میں داخل ہوتا اور کھانا کھا کہ سو جاتا تھا ، زیادہ مذہبی نہیں تھا مگر جمعے کی نماز ضرور پڑھتا تھا ابھی بھی وہ یہ سوچ رہا تھا نماز پڑھتے ہوئے کہ اس مہینے وہ بھائی کو سائکل لے دے گا ، کیونکہ اسے ایک نئی ٹیویشن مل گئی تھی ، مگر میرے کئے ہوئے دھماکے نے اسکے سارے منصوبے ختم کر دئیے تھے ، اسنے مرنے سے پہلے یہ ہی سوچا کہ اسکے گھر کا کیا ہو گا  ۔ ۔ مجھے اسکی موت کا بہت افسوس ہوا ، پھر میں نے دیکھا میری سامنے والی صف میں جو شخص میرے دھماکے کا شکار بنا تھا وہ شریف تھا ، نام تو اسکا شریف تھا مگر کام سارے بدمعاشوں والے کرتا تھا ، محلے میں اسنے ایک گینگ بنا رکھا تھا ، اور ہر دوکان سے بھتہ بھی لیتا تھا ، تھانے دار کو روز سلام کرنے بھی جاتا تھا ، اسکے دو بچے تھے ، جنہیں انکی دادی یعنی شریف کی ماں پال رہی تھی ، بیوی ایک عرصہ ہوا اسے چھوڑ کر پتہ نہیں کہاں چلی گئی تھی ، بچے ابھی چھوٹے تھے ، دادی بڑی مشکل سے انہیں سنبھالتی تھی ، اسکی آخری سوچ تھی کہ اسکے بچوں کا کیا ہو گا  ۔ ۔ ۔ اسکی ماں اسکے بنا کیسے جئے گی ، مگر پھر اسے خیال آیا کہ اسکے مرنے کے بعد گورمینٹ اسکی ماں کو پیسے دے گی  ۔ ۔ ۔ مگر جب اسکی روح نکلی اور اسے پتہ چلا کہ اسکی ماں کو کچھ بھی نہیں ملے گا بلکہ اسی کے چیلے اسکی ماں کو ایدھی سنٹر چھوڑ آئیں گے اور اسکی بیٹی کو شیدا لے جائے گا اور اقبال اسکے بیٹے کو بڑا بدمعاش بنائے گا  ۔ ۔ ۔ تو اسے بہت دکھ ہوا ، دکھ تو مجھے بھی اسکے مرنے کا ہوا  ۔  ۔ مگر میں نے اسے محسوس نہیں کیا ، پھر میں نے اپنے پیچھے دیکھا ، وہاں ایک مولوی تھا ، وہ ایک مذہبی جماعت کا سرگرم رکن تھا ، اور اس وقت اپنے  گرو کی بیٹی کے متعلق سوچ رہا تھا کہ آج اس سے ملنے جائے گا ، اسکا اسکے ساتھ کافی پرانا چکر تھا اور وہ مولوی بھی اسی کے چکر میں بنا تھا ، وہ سوچ رہا تھا کہ اسکا دوست بابر اسکی محبوبہ پر نظر گاڑھے بیٹھا تھا ، اور اسکے مرنے کے بعد وہ ہی اس سے  سیٹ ہو جائے گی  ۔ ۔ ۔ مرنے کے آخری لمحوں میں وہ اپنی محبوبہ کے پوشیدہ اعضاء کو تصور کی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ، اگر کوئی اسے ایسے دیکھتا تو کہتا کہ کتنے خشوع سے نماز ادا کر رہا ہے ، مجھے اس سے نفرت محسوس ہوئی  ۔ ۔  مگر پھر اس سے کچھ ہمدردی بھی پتہ نہیں کیوں  ۔ ۔  میرے دھماکے کا شکار ہونے والا ایک بچہ بھی تھا ، وہ آج ماں سے کہ کر آیا تھا کہ اللہ سے وہ دعا کرے گا کہ اسکی ماں کو کبھی دکھ نہ دے ، کیونکہ اسکی ماں کو اسکا باپ بہت مارتا تھا ، بچے کو اتنا ہی پتہ تھا کی اسکا باپ ماں کی کسی نہ کسی بات کو بہانہ بنا کر مار کٹائی کرتا تھا ، اسنے نے مرتے ہوئے سوچا کہ اب وہ اللہ کے پاس جا کر اپنی ماں کی راحت کی باتیں کرے گا  ۔ ۔ مجھے اسکی معصوم سوچ پر بہت دکھ ہوا ، مگر اب وقت گذر رہا تھا ، میں آہستہ آہستہ اوپر اٹھ رہا تھا میرے ساتھ مرنے والوں کی روحیں بھی تھیں ، جو مجھے بہت غصے میں لگ رہیں تھیں ،  میں نے ہر ایک کو دیکھا تو ہر کسی کی بے وقت موت تھی ، کسی کی نئی شادی ہوئی تھی ، کوئی گھر کا اکلوتا کفیل تھا ، کوئی اپنی خدا ترسی کی وجہ سے بہت سارے گھر چلا رہا تھا تو کوئی صرف عادتاً نماز ادا کرنے آیا تھا   ۔ ۔ ساتھ ساتھ مجھے پتہ چل رہا تھا کہ میرے اس دھماکے کو جنہوں نے کروایا تھا وہ بہت خوش تھے ، مگر میں نے دیکھا صادق اداس تھا ، وہ میرا بہت اچھا دوست تھا ، ہم نے ملکر اس تنظیم میں شمولیت حاصل کی تھی ، صادق تنظیم میں کافی طاقت ور بندہ تسلیم کیا جاتا تھا ، پتہ نہیں اسکی اور میری دوستی کیسے ہو گی ، اسنے ایک بار کہا تھا کہ وہ ایسے کمبل میں لپٹا دیا گیا ہے ، جسسے وہ شاید ہی کبھی نکل سکے ، وہ اپنے موبائیل پر تنظیم کے بڑوں کو دھماکے سے اگاہ کر رہا تھا ، پھر وہ ہوٹل کے کمرے میں پہنچ گیا ، اور دروازہ بند کر کہ دھاڑیں مار کہ رونے لگا ، پہلے تو میں سمجھا کہ وہ میری جدائی سے رو رہا ہے مگر پھر وہ وہیں سجدے میں ڈھیر ہو گیا ، اے اللہ مجھے معاف کر دے ، میں نے اس ظلم میں اپنا حصہ ڈال کہ جہنم خرید لی ہے  ،  ،، مجھے حیرت ہوئی کہ ہم نے تو شہادت کا درجہ پانے کے لئے یہ سب کیا تھا  ۔۔  پھر مجھے پتہ چلا کہ میں جنہیں بہت بڑا مذہبی رہنما سمجھتا رہا وہ ہی دشمن تھے اس معاشرے کے ، جب صادق سے انہوں نے دھماکے کی خبر سنی وہ بہت خوش ہوئے ، اور ایک لیڈر نے فوراً ایک  غیر ملکی کو فون کیا اور اسے بتایا کہ اب اسے اسکی مطلوبہ رقم مل جانی چاہیے اور ساتھ ہی اسکی فیملی کو مغرب میں مستقل رہائش  ۔ ۔ ۔ اچانک مجھے لگا کہ کوئی مجھے کھینچ رہا تھا ، میں نے محسوس کیا کہ میں جل رہا ہوں ، مگر مجھے کیوں جلایا جا رہا ہے ، میں تو شہید تھا  ۔۔  ۔  بےشک کچھ بے گناہ لوگ مارے گئے تھے اس واقعہ میں مگر یہ تو انکی قسمت تھی  ۔ ۔ ۔ میں نے اس آگ کو بجھانے کے پاؤں رکھا اور پھر ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے چاروں طرف سے شعلوں نے گھیر لیا  ۔ ۔  میں چیخیں بہت کراہت بھری تھیں  ۔ ۔ ۔  مجھے جنت چاہیے میں چیخا ، میں نے جنت کے لئے جان دی ہے  ۔ ۔ ۔ مجھے اپنی آواز کھوکھلی لگی  ۔ ۔  اور پھر ایسے لگا کہ چاروں طرف سے ایک آواز آنے لگی  ۔  ۔جنت کا حقدار سلامتی دینے والا ہے ، تباہی پھیلانے والا فسادی نہیں  ۔ ۔ ۔اور آگ ایسے بھڑکی جیسے اسپر کسی نے پٹرول ڈال دیا ہو   ۔ ۔ ۔ اب مجھے ہر اس انسان کی موت مرنا پڑتا ہے ، جو میرے دھماکے کی وجہ سے مرا تھا  ۔ ۔ ۔ اور وہ لوگ میری باتوں پر قہتہے لگاتے  ۔ ۔ ۔ ۔ میں روشنی سے اندھیرے میں داخل ہو چکا ہوں ، یہ آگ کیسی ہے جو جھلسائے دیتی ہے مگر روشن نہیں  ۔ ۔ ۔ اندھیرے میں میری سزا کے لئے ہے یہ اندھیری آگ  ۔ ۔  ۔۔ اور میں پکارتا ہوں سارے نام جنہوں نے مجھے اس آگ میں دھیکلا  ۔ ۔ اور میرے جیسے کتنوں کو ابھی دھکیل رہے ہیں  ۔ ۔ ۔  اس اندھیری آگ میں  ۔ ۔ ۔ جس میں سب کچھ جلتا ہے اور ہمیں ہمیشہ اس اندھیری آگ میں جلنا ہے  ۔ ۔ ۔
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: