میرا بچپن

میں اپنے آپ کو کبھی بھی ایک اچھی تحریر لکھنے والا نہیں سمجھتا ، کوشش ضرور کرتا ہوں کہ لکھوں زیادہ لکھوں تا کہ کچھ تو ہاتھ “صاف“ ہو اور اسی لئے یہ بلاگ بھی شروع کیا تھا کہ یہ مشق مسلسل کروں گا ، بچپن سے یعنی تیسری جماعت سے ڈائیری لکھنے کی عادت پڑی تھی ، میں نے اردو پڑھنا دوسری جماعت سے ہی شروع کر دیا تھا ، میرے پاس صوفی غلام مصطفٰی تبسم کی “جھولنے“ ایک ایک نظموں کی کتاب تھی جسے آج تک نہیں بھولا ، اور پھر آٹھ آنے والی چھوٹی چھوٹی کہانیاں ، جیب خرچ کے لئے جو ایک روپیہ ملتا تھا اس میں سے اکثر کوئی نئی کتاب ہی آتی تھی ، میں تیسری جماعت سے ہی نونہال پڑھ رہا تھا ، اسکے علاوہ بچوں کا رسالہ اور “نورستان“ جیسے رسالے ہمارے گھر میں موجود تھے ، جنہوں نے میری اردو بہت اچھی کر دی ، اور پھر جنگ اخبار کا بچوں کا صفحہ بھی بہت معاون ہوا، اسکول کے کام کی ڈائیری لکھتے لکھتے روز مرہ کی باتیں بھی لکھنے لگا ۔ ۔۔ پھر کوئی لطیفہ معلومات اچھی لگتیں تو انہیں بھی لکھ لیتا ، پھر ایسا ہوا کہ میری کاپیاں ایسی ہی چیزوں سے بھر جاتیں اور مجھے ایک نئی کاپی کی ضرورت پڑتی جو بڑی ڈانٹ کے بعد ملتی ، اور اگر نہیں ملتی تو اپنی بڑی بہن کی کاپیوں سے بہت احتیاط کے ساتھ درمیانی صفحے استعمال میں آتے ، اسی زمانے کی اس “پڑھائی “ نے مجھے چشمہ لگوا دیا ۔ ۔ ۔ میں کچھ زیادہ ہی پڑھاکو لگنے لگا ، نصاب کی ساری کتابیں پہلے پڑھ لیتا ، اور جب کلاس میں سبق پڑھایا جاتا تو میں پہلے سے سوال لے کر بیٹھا ہوا ہوتا ۔ ۔ یا پھر نئی نئی شرارتیں سوچتا ۔ ۔ ۔ اور جیسے کہ اصول ہے کہ جماعت کے شریر بچے کو مانیٹر بنا دیا جاتا ہے ، وہ ہی ہوا میرے ساتھ ، پھر کیا ہونا تھا سب میرے دوست ۔ ۔ ۔ میں اکثر گھر کا کام اسکول میں ہی کر لیتا اور گھر جا کہ صرف “غیر نصابی“ کتب پڑھتا ، جس سے میری والدہ کو بہت غصہ آتا ، مجھے یاد ہے کہ ایک دن وہ خود میرے اسکول گئیں اور ہماری پرنسپل سے شکایت کی کہ اظہر گھر میں بالکل نہیں پڑھتا آپ اسکا کام چیک نہیں کرتے ، مس فری (ہماری پرنسپل) نے ٹیچر کو بلوایا اور پوچھا تو انہوں نے کہا نہیں اظہر تو کلاس کے اچھے اسٹوڈنٹ میں ہے بس شرارتی ہے ۔ ۔ ۔ اور کام بھی ریگولر کرتا ہے ۔ ۔ بس اس دن کے بعد سے اماں نے ہمیں اجازت دے دی باقاعدگی کے ساتھ ہم “غیر نصابی“ کتب پڑھنے لگے ، میں اسی زمانے میں ، امیر حمزہ ، عمرہ عیار ، ٹارزن اور امبر ناگ ماریا سے واقف ہوا ، چوتھی جماعت میں ایک دوست نے مجھے اشتیاق احمد کی ایک کتاب دی اور پھر کیا تھا ، محلے کی لائیبریری ( جی ہاں اس زمانے میں ہر محلے میں ایک لائبریری ضرور ہوتی تھی ) سے “ریڈیو سے چاند تک“ (اشتیاق احمد کا پہلا ناول ) سے لیکر ماہانہ آنے والے دو ناولوں سمیت سب کچھ پڑھ ڈالا ، شروع میں انسپیکٹر جمشید سیریز تھی پھر انسپیکٹر کامران سیریز آئی پھر شوکی برادر سیریز ۔ ۔ ۔ نے اپنے سحر میں لے لیا ، مہینے کے چار ناول پہلے لائبریری سے پڑھتا ، پھر بازار سے خرید لیتا ، جیب خرچ بچانا شروع کیا تو صرف اشتیاق احمد کی کتابوں کے لئے ، اماں نے کچھ عرصہ تو اس کو برداشت کیا اور ایک دن جب میں اسکول میں تھا میری پچھلے سال کی ساری خریدی ہوئی کتابیں ردی والے کو دان کر دی گئیں ، اور اسی دن میں اسکول سے آتے ہوئے جو نئے ناول لایا انکو “شہید“ کر دیا گیا ، مجھے یاد ہے میں کافی دیر تک روتا رہا ۔ ۔ اور کھانا بھی نہیں کھایا ۔ ۔ جس پر میری اچھی خاصی “ٹھکائی“ بھی ہوئی ۔ ۔۔ مگر یہ سب کچھ مجھے پڑھنے سے نہ روک سکا ۔ ۔ ۔ اسی زمانے میں میں نے شعر لکھنا شروع کیا ، کسی شہزادے کی دل میں سمائی کہ وہ کر ڈالے کسی کی پٹائی ۔ ۔ ۔ یا پھر ایک اور نظم جو بچوں کے رسالےمیں چھپی تو سارے محلے کو دکھاتا پھرا

بوبی کا کتا
روئی کا گالا
بوبی نے اسکو
نازوں سے پالا

پھر چھٹی جماعت میں جب آیا تو مجھے ابن صفی سے تعارف حاصل ہوا ، عمران سیریز نے سری ادب کے نئی جہتیں متعارف کروائیں اشتیاق احمد کا بھوت پھر بھی قائیم رہا ۔ ۔ ۔ اسی دوران ہم پنڈی سے کراچی شفٹ ہو گئے ۔ ۔ ۔ جہاں کا ایک بالکل مختلف ماحول تھا ، اسکول کا انداز جدا تھا ۔ ۔ ۔نئے دوست نئی باتیں ۔ ۔۔ سب کچھ نیا ۔۔ مگر میں نے لکھنا وہاں بھی نہیں چھوڑا اور نہ ہی پڑھنا ، اور اسکے نتیجے میں نونہال کے فنکشن میں بھی گیا ، حکیم سعید سے ملا ، انکے ہاتھ کا آٹو گراف آج بھی میرے لئے سرمایہ ہے “جاگو جگاؤ“ ۔۔۔ پھر مسعود احمد برکاتی سے ملاقات ہوئی ۔ ۔ ۔ اسی زمانے میں ریڈیو پاکستان کراچی بھی گیا ، منی باجی سے ملا ، بچوں کے پروگرام میں حصہ لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر میں اب بڑا ہو گیا تھا ۔ ۔ ۔ کلاس میں دوست ملکر گاتے تھے ، شعر پڑھتے تھے ۔ ۔ ۔ اور اپنی نصابی سرگرمیوں میں بھی آگے تھے ۔ ۔ ۔ اسکول کے سالانہ فنکشن کے لئے لکھنا ایک مزے دار تجربہ تھا ، حاکے لکھے ، اساتذہ اور دوستوں کے لئے شعر لکھے ، مجھے یاد ہے ہماری مس نسرین نے ہمارے گروپ کو لکھنے کے بعد گھر پر مدعو کیا اور ہمیں بہت شاباش دی ، پیلے اسکول نے مجھے بہت کچھ دیا ، اچھے دوست ، اچھے استاد اچھی تعلیم ، وہ زمانہ کراچی میں امن کا تھا ، میرے والد سعودیہ چلے گئے ، اور جب میں آٹھویں جماعت میں تھا تو میری زندگی کا ایک ایسا ہولناک موڑ آیا کہ جس نے مجھے بدل ڈالا ، وہ اظہر جسے دوڑنے اور سائیکل ریسنگ میں کمال تھا ، وہ اظہر جو کرکٹ اور ہاکی کھیلتا تھا ، وہ اظہر جو اساتذہ کا لاڈلا تھا ، ایک دم جیسے رک گیا ۔ ۔ ۔ میں صرف بستر کا ہو کر رہ گیا ، دو سال تک میں بیڈ پر ہی رہا ، اسی دوران میں نے آٹھویں کا امتحان بول کر دیا ، (میں لکھ نہیں سکتا تھا ) اور پھر نویں جماعت تک آتے آتے میرے ہاتھوں نے کام کرنا شروع کیا ، اور پھر ۔ ۔ ۔ میں نے لکھنا شروع کیا ۔ ۔ وہ دن آج کا دن میں نے لکھنا نہیں چھوڑا ۔ ۔ ۔ کیونکہ اب میں سائکل نہیں چلا سکتا ، میں بھاگ نہیں سکتا ۔ ۔ ۔ مگر میں رکنا نہیں چاہتا تھا ، میں نے چلنا شروع کیا ، بے شک میں بہت سست رفتار ہوں ، مگر میں رکنا نہیں چاہتا ۔۔ ۔ میں لکھنا چاہتا ہوں ۔ ۔ اور لکھتا رہوں گا انشااللہ ، میں نے زمانے کی تلخیوں سے لکھنا سیکھا ہے ، اس لئے میرے جذبوں میں شدت ہے ، میں بے بسی کو جانتا ہوں اس لئے ، عام روش سے ہٹ کہ لکھتا ہوں ، جسے کچھ دوست شاعری سمجھتے ہیں ، مگر وہ صرف بات کہنے کا طریقہ ہے ، ورنہ مجھے شاعری نہیں آتی ، نہ ہی میں افسانے کہانی اور مضمون نگاری کی جانکاری رکھتا ہوں ۔ ۔ بس بات کہنی ہوتی ہے کہ دیتا ہوں چاہے وہ شعر میں ہو یا نثر میں ۔۔ ۔

جو گزارا ہے وقت میں نے یہاں
اسی کی روداد ہے نوشت میری

Advertisements

3 responses to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on جنوری 26, 2007 at 6:04 صبح

    ماشاء اللہ بہت اچھا لکھتے ہيں آپ ۔ اللہ آپ پر اپنی رحمتيں نازل فرمائے ۔

    جواب دیں

  2. Posted by خاور on جنوری 28, 2007 at 9:23 شام

    (°.°)

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: