کوئی کھیلے یا نہ کھیلے ہم جنرل جنرل کھیلیں گے

وردی والے وردی میں ، باقی سب بے وردی میں
جلسے میں جلوسوں میں، گرمی میں یا سردی میں
تقریر میں تحریروں میں ، عوام سب کو جھیلیں گے
کوئی کھیلے یا نہ کھیلے ہم جنرل جنرل کھیلیں گے
 
وہ مانیں  ، ہم روٹھیں گے ، وہ روٹھیں ، ہم مانیں گے
اک بات ہماری مانیں  جو ، اس بات پے ہی ٹھانیں گے
سیاست کے ہر پیڑے کو بیل بیل کہ پھر بیلیں گے
کوئی کھیلے یا نہ کھیلے ہم جنرل جنرل کھیلیں گے
 
برسات کا موسم آئے گا ، ہم سب باہر آ جائیں گے
تارے نکلیں گے چھت پر ، ہم چاند پے دے ماریں گے
بولیں وہ اپنی بولی ،  ہم اپنی اپنی بولیں گے
کوئی کھیلے یا نہ کھیلے ہم جنرل جنرل کھیلیں گے
 
بھوکے ننگے جسموں سے ، سڑکوں کو خالی کر دیں گے
نئی چمکتی کاروں سے ، ہر راہ کو ہم تو بھر دیں گے
روٹی ، کپڑا اور مکاں ، سب کچھ سب سے لے لیں گے
کوئی کھیلے یا نہ کھیلے ہم جنرل جنرل کھیلیں گے
 
اک طرف میرا تایا ، دوجی جانب ماں جایا
پابھو ، آپا ، ابا ، چاچا ، سب نے ہے مل کہ کھایا
جب لینا ہی ٹھہرا مقصد ، تو کیونکر پھر تولیں گے
کوئی کھیلے یا نہ کھیلے ہم جنرل جنرل کھیلیں گے
 
روشن روشن راہوں سے ، روشنی ایسی پھیلایں گے
اندھوں کو بھی آئے نظر ، جدت ایسی بنا یں گے
بیج ایسا بو دیں گے ، سالوں سالوں جو پھیلیں گے
کوئی کھیلے یا نہ کھیلے ہم جنرل جنرل کھیلیں گے
 
 
اس دیس کی مٹی ہے سونا،  پکے فرش کرا دیں گے
پہاڑوں کو گرا کہ ہم ، محل حسیں بنا دیں گے
پینگیں ساری جلا کہ ہم ، برقی جھولے جھولیں گے
کوئی کھیلے یا نہ کھیلے ہم جنرل جنرل کھیلیں گے
 
 
پلٹن گراؤنڈ پر ہم اپنی، پلٹن کو پلٹ کے لائیں گے
رنگروٹ ، سپاہی اور افسر مل جل کہ ہم کھائیں گے
بند مٹھی اب بند رہے گی ،یہ  مٹھی  نہ ہم کھولیں گے
کوئی کھیلے یا نہ کھیلے ہم جنرل جنرل کھیلیں گے
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: