گستاخ الفاظ ہیں ، لہجے میں بھی ادب نہیں

گستاخ الفاظ ہیں ، لہجے میں بھی ادب نہیں
کچھ تو ہوا ہے یوں گفتگو یہ بے سبب نہیں
 
آنکھ میں ہیں چنگاریاں ، ہونٹوں پہ ہے خوں
ہے رقص  بے ربط سا کوئ بھی طرب نہیں
 
اپنے ہی خوں سے لکھی آخری تحریر یہ
معلوم نہیں یہ زندگی اب نہیں کہ اب نہیں
 
بھیڑ ہے لگی ہوئی ہر کوچہ و بازا ر میں
شور ہے محشر سا ہلتا کوئی بھی لب نہیں

یا یہ لوگ ہیں مر چکے  ، اپنے اپنے آپ میں
یا پھر سمجھ رہے ہیں انکا کوئی رب نہیں
 
اظہر یہ سحر بھی ہو گی ضرور ہوگی کبھی
میں کیوں کہوں کہ سحر کی  بھی شب نہیں
 
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s