اپنی حفاظت کرنے والے سپاہی کی حفاظت کر

کچھ نہ لکھ اب تو سیاہی کی حفاظت کر
آنے والی ہے جو اس تباہی کی حفاظت کر
 
 
مورچے اپنے کھود  اور خندق میں جا چھپ جا
اپنی حفاظت کرنے والے سپاہی کی حفاظت کر
 
لُٹنے والے سے تو پوچھ کیا کیا وہ بچا لایا
راہزن کے سنگ سنگ ہر راہی کی حفاظت کر
 
بستی بستی اجڑے بے شک ، تیرا بال نہ باکا ہو
راہ دکھانے والے رہبر ، گمراہی کی حفاظت کر
 
اس شہر کے ہر کوچے میں ، افواہوں کے جال ہیں
بے خبری میں اظہر اس  آگاہی کی حفاظت کر
Advertisements

3 responses to this post.

  1. Posted by Mera Pakistan on جنوری 21, 2007 at 9:18 شام

    ایک سوال پوچھ رہے ہیں امید ہے برا نہیں منائیں گے۔ کیا آپ کو شاعری کے رموز آتے ہیں۔ ہمارا مطلب ہے کہ شعر کہنے کیلۓ جو بحریں  استعمال ہوتی ہیں اور شعر کا وزن کیسے برابر رکھا جاتا ہے دراصل۔ ہم آپ سے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔

    جواب دیں

  2. Posted by Azhar Ul Haq on جنوری 22, 2007 at 4:54 صبح

    گمنام جی ، میں کیا کہوں ، شاعری کے رموز بہت مشکل ہیں ، میں تو بس تک بندی کر لیتا ہوں ، ورنہ فعلا فعلاً فعلاتین کی گردانیں کبھی بھی رٹ نہیں پایا اور بحریں تو اتنی ہیں کہ ان میں ڈوبنے سے ڈر لگتا ہے ویسے اگر آپ کو اس بارے میں جاننا ہے تو “سرور عالم راز“ صاحب کے مضامین کا مطالعہ کافی افاقہ مند ثابت ہو سکتا ہے یہ صاحب آپکو  ۔ ۔۔ درج ذیل ویب سائیٹ پر مل جائیں گے انکے علاوہ عبداللہ ناظر بھائی بھی بہت اچھے مددگار ہیں
     
    http://www.urdubandhan.com
    http://www.urdustan.com
    http://www.hallagulla.com
     

    جواب دیں

  3. Posted by Iftikhar Ajmal on جنوری 22, 2007 at 7:45 صبح

    بہت خوب

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: