آسیب

گرد جھاڑ کہ بیٹھا تھا میرے در پہ وہ
فقیر تھا کوئی کہ جوگی میں جانتا نہ تھا
پوچھا کہ کچھ چاہیے مانگا پانی تھوڑا سا
پی کہ کٹورا پانی کا ، فقیر پہچانتا نہ تھا
آنکھیں موند کہ کچھ دیر وہ کھویا رہا
پھر مجھے اشارے سے پاس  اپنے بٹھا لیا
کہنے لگا کہ تیرے گھر پے آسیب ہے بڑا
تو اسے کیوں نہیں دیتا جلدی سے ہٹا
کہا کیسا آسیب ہے ، مجھے تو خبر نہیں
زیست چل رہی ہے ، بس ذرا صبر نہیں
تلاش معاش میں ہی دن ، رات بنا کیا۔۔۔
 فکر معاش کے سوا کوئی بھی  فکر نہیں
پوچھا فقیر نے خدا سے بھی کچھ ربط ہے تیرا
کہا عبادت سے ہی شروع ہوتا ہے سویرا
پوچھا ایک بار پھر ، رب کی سب مانتے ہو
کہا دنیا نے ہے بس چاروں طرف سے گھیرا
کہا ، دل تو بہت چاہتا ہے ، کہ ایمان ہو
مگر خواہش یہ بھی ہے کہ دنیا سامان ہو
نیکیاں کرنے کے لئے بھی کچھ مال چاہیے
جیب بھری ہو اگر برائی کا ارمان ہو
دولت سے ہی دنیا دولت سے ہی ایماں
دولت ہی زمیں ہے اور دولت ہی آسماں
دولت ہی وجہ ہے میری سب مشکل کی
دولت سے ملیں ہیں راحتیں آسانیاں
فقیر کے چہرے پہ اک جلال سا آگیا
میری طرف دیکھا تو ملال سا چھا گیا
تھوڑی دیر بعد پھر آنکھوں کو بند کیا
چونکا ایک دم جیسے خیال سا آ گیا
تیری امید تیری یاس بن چکی ہے
تیری یاس بھی اک پیاس بن چکی ہے
تو خود کو مار چکا ہے ، مار چکا ہے
موت زندگی کی آس بن چکی ہے
تو اندھیرے میں سائے ڈھونڈ رہا ہے
انیائے کے یگ میں نیائے ڈھونڈ رہا ہے
تو ڈھونڈ رہا ہے وہ جو کبھی تھانہیں
تو درد ڈھونڈ رہا ہے تو ہائے ڈھونڈ رہا ہے
بابا ، تو پھر کیا کروں ، کہاں جا بسوں؟
دنیا کو کیا چھوڑوں یا تیری طرح میں بنوں؟
کیا میں بے بسی کے سمندر میں جا ڈوبوں ؟
یا پھر بے دردی کی آگ میں جلتا ہی رہوں؟
سائے کی تمنا ہے کہ دھوپ بہت ہے
نیائے میں انیائے کا روپ بہت ہے
میں کیا تلاش رہاہوں مجھے نہیں پتا
درد کی ظلمت گھٹاٹوپ بہت ہے

تیرے پاس میرے درد کا درماں کیا ہے
میری بدلتی ہوئی دنیا کا جہاں کیا ہے
دولت کی اس دوڑ میں ،ایماں کہاں ہے
اونچے محلوں میں میرا اک مکاں کہاں ہے
فقیر پھر اپنے بے خودی میں کھو گیا
مجھے ایسا لگا کہ جیسے وہ سو گیا
آنکھ کھولی اوربولا دھیمی سی آواز میں
در پے تیرے آج میں جیسے بھاگی ہو گیا
تمنا کو اپنی مختصر کر دے اس قدر
دنیا کی تجھے ستائے نہ پھر کبھی فکر
مت بھٹکتا پھر تو ادھر سے ادھر
اک جگہ پہ کر نمو جیسے بڑھے ہے شجر
رب کو اپنا سب کچھ تو بس مان لے
کوئی نہیں تیرا یہاں یہی تو جان لے
جسم کی ضرورت غذا کے سنگ کچھ اور ہے
روح کا بھی کچھ ذرا سا ہی سہی گیان لے
فقیر تو اس فقر و فاقے میں بھی  دلشاد ہے
منزل مری ہے وہ جہاں، راہ رب کی یاد ہے
مستیِ جہاں سے الجھا تو سکوں برباد ہے
روح کی عظمت  سے  ہی یہ جہاں آباد ہے
کہا فقیر نے یہ اور چلا پھر تاک کر
روح کو دولتِ المَ سے اب پاک کر
آسیب کا  تجھے اب پتا چل گیا
گریباں کو تو اب چاک کر چاک کر
 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: