انسانیت کے قاتل

اگر آپ پچھلے ایک مہینے کے روزنامے (اخبارات ) اٹھا کر دیکھیں تو روزانہ دو سے سات خودکشیوں کی خبر ہوتی ہے ، اور ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں گھریلو حالات کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا پڑتا ہے ، اور گھریلو حالات اسلئے ایسے ہوتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اب بے حس ہی نہیں بے شرم بھی ہو چکا ہے ، میں ان خود کشیوں کو قتل سمجھتا ہوں ، اور خود کو قاتل ، ہم سب قاتل ہیں ان سب لوگوں کے جنہیں ہم مجبور کئے جا رہے ہیں اپنی زندگی ختم کرنے پر ، کیا ہمیں ہماری “روشن خیالی“ یہ نہیں سکھاتی کہ انسانیت کیا ہے ، کیا ہم ہماری زندگیوں کے سکون کی قیمت یہ “انمول“ زندگیاں اپنا خاتمہ کر کے نہیں دے رہیں  ۔ ۔ ۔  کیا ہم اسلام اسلام کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ ہمارا پڑوسی اگر بھوکا ہے تو ہمارے سارے عمل حرام ہیں  ۔ ۔ ۔ پہلے ہم منافق تھے ، پھر ہم مرتد بنے اور اب ہم انسانیت کے قاتل بنتے جا رہے ہیں  ۔۔  ۔ اور اگر ہماری بے حسی ایسے ہی بڑھتی رہی تو شاید اس دفعہ ہلاکو سے بڑا “ظالم“ ہماری کھوپٹریوں کے مینار نہیں بلکے پہاڑ بنائے گا  ۔ ۔ ۔ اللہ ہمیں نیک ہدایت دے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اچھے انسان بن سکیں (آمین)
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: