سنگ بھی برسیں گے ، خوں بھی بہے گا

سنگ بھی برسیں گے ، خوں بھی بہے گا
اس دور میں ہونا ہے یہ، ہو کے رہے گا
 
مصلوب بھی ہو گا وہ ، سولی بھی چڑھے گا
وقت کے فرعون کو جو حق بات کہے گا
 
“ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ  مفاجات“
ظلم ہے سہنا اسے تو  ظلم سہے گا
 
مایوس نہیں ہوں میں ، یقیں ہے سحر کا
اظہر  یہ بت ڈھہے گا ڈھہے گا ڈھہے گا
Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Mera Pakistan on جنوری 17, 2007 at 2:25 شام

    آپ تو حبیب جالب کے نقشِ قدم پر چلنے لگے۔ اچھی کاوش ہے کوشش جاری رکھئے۔
    پتہ نہیں کیوں لاگ ان ہونے کے باوجود تبصرہ کرنے ہوۓ  سسٹم نے  ہمیں اپنا نام اور ویب ایڈیس نہیں لکھنے دیا۔۔
    میرا پاکستاب
    http://www.mypakistan.com

    جواب دیں

  2. Posted by Unknown on جنوری 19, 2007 at 7:14 صبح

    اچّھی کوشش ہے۔گستاخی معاف، لیکن دوسرا مصرع "اس دور میں ہونا ہے یہ، ہو کے رہے گا" ہونا چاہئے تھا۔
    http://urdudaan.blogspot.com

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: