حاکم کے حکم سے

ہوتا ہے ہر اک کام یہاں ، حاکم کے حکم سے
بے نام کا بھی ہے نام یہاں ، حاکم کے حکم سے
 
آ جاتی ہے مرجھائے ہوئے چہروں پہ رونق
آتے ہیں جو پیغام یہاں ، حاکم کے حکم سے
 
زیست ہے پریشاں ، موت کا ہے شور
خوں سے ہیں بھرے جام ، یہاں حاکم کے حکم سے
 
بکتے ہیں یہاں جسم ، روحوں کے سنگ سنگ
ہر شے کے ہیں کچھ دام، یہاں حاکم کے حکم سے
 
جلتی ہوئی شمع کو بجھاؤ تو ہو جائے اندھیرا
ہر دن بھی  ہےاک شام ، یہاں حاکم کے حکم سے
 
اظہر تجھے زنداں سے ہے  کیوں اتنی محبت
ہو جائے گا بدنام  ، یہاں حاکم کے حکم سے
Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on جنوری 18, 2007 at 6:30 صبح

    ايک حاکم سب سے بڑا بھی ہے اور سب اختيار رکھتا ہے 

    جواب دیں

  2. Posted by Azhar Ul Haq on جنوری 18, 2007 at 9:16 صبح

    انکل آپ کا کہنا بجا ، وہ ایک شعر ہے نا
    انساں خدا بننے کی کوشش میں ہے مصروفلیکن یہ تماشا بھی خدا دیکھ رہا ہے

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: