نئی نسل

نئی نسل پر ہر طرف سے الزامات کی بارش ہے ، اور آگے سے نئی نسل پرانی نسل کو منہ توڑ قسم کے جوابات دے رہی ہوتی ہے ، میں اپنے آپ کو نئی نسل سے نہیں سمجھتا ، کیوں ؟ کیوں کہ مجھ میں نئی نسل جیسے کوئی خصوصیت نہیں پائی جاتی ، مثلاً میں پاپ میوزک کی جگہ پرانے گیت پسند کرتا ہوں ، میں فلمیں بھی پرانی پسند کرتا ہو گو ہر لحاظ سے ماضی میں رہتا ہوں ، مگر نئی نسل مستقبل میں رہتی ہے ، وہ مستقبل جس سے اسے بہت توقعات وابستہ ہیں ، میں نئی نسل کی سوچ کو پسند کرتا ہوں مگر انکی مجبوریاں بھی سمجھتا ہوں ، نوجوانی کی عمر جذبوں کی عمر ہوتی ہے ، اس میں انسان جو سوچ اپناتا ہے ساری زندگی اسی خواب کو حاصل کرنے یا سجانے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے ، آج کی نئی نسل بہت تیز چلنا چاہتی ہے ، اسے فوری نتیجہ چاہیے ، اپنے ہر عمل کا ، مگر یہ دنیا بہت مشکل جگہ ہے جہاں سے بعض دفعہ نتیجہ عمل سے پہلے نکل چکا ہوتا ہے اور کبھی کبھی ، کبھی نہیں نکلتا  ۔ ۔ ۔ نئی نسل کا ایک اور مسلہ یہ بھی ہے کہ اسے صحیح گائیڈ نہیں کیا جا رہا ، وجہ اسکی کسی حد تک نئی نسل خود بھی ہے ، آج میڈیا کی چکا چوند میں ہم اپنی اقدار کو بھول چکے ہیں ، ہم سے پہلے والی نسل نے زندگی کا جو رخ اپنایا آج اسے نئی نسل کاٹ رہی ہے ، ہم سے پہلی والی نسل نے پیسے کو معیار زندگی بنایا ، رشتے ثانوی ہوتے چلے گئے ، کبھی جو محبتیں ایک گھر میں مختلف رشتوں کی شکل میں رہا کرتیں تھی نئی نسل آج ان سے بابلد ہوتی جا رہی ہے ، گھر کا تصور اب مکانوں کی کوٹھریوں میں قید ہو چکا ہے ،  ہم جس ارتکاز سے گذرے ہیں وہ بہت ہی تلخ ہے ، پوری ملاقات سے آدھی ملاقات یعنی خط کو بھول کر اب ہم نے رابطے کے ذریعے تو بہت بنا لئے ہیں مگر رابطے کے لئے وقت ہی نہیں ، آج کی نئی نسل جس کشمکش کا شکار ہے اسکے ذمہ دار ہم سب ہیں ، میری نسل بھی اور مجھ سے پہلے والی نسل بھی  ۔ ۔ ۔ آج ترقی کی شاہراہ پر ہماری نئی نسل جس میراتھن کا حصہ بن چکی ہے ، وہ شاہراہ کسی بھی منزل کی طرف نہیں جا رہی  ۔ ۔ ۔ مگر ہم نے معاشرے کو ایسا بنا دیا ہے کہ بس ہمیں بھاگنا ہے اور کسی بھی سمت میں ، ہماری نئی نسل کسی منزل کی طرف نہیں بھاگ رہی بلکے صرف بھاگ رہی ہے ، ہم سے پہلی نسل والوں نے منزل کی طرف جانے والے راستے کو چھوڑ کر “شارٹ کٹ“ اپنایا اور ہماری نسل نے بنا سوچے اسی شارٹ کٹ پر چلنا شروع کیا اور پھر اب یہ نئی نسل اسی راستے پر ایسی بھٹکی ہے کہ اسے یہ بھی نہیں پتہ کہ آگے کا راستہ کیا ہے اور پیچھے کی سمت کون سی ہے ، اسی لئے اس نئی نسل میں ہمیں پیچھے چلنے والے بھی نظر آتے ہیں اور آگے چلنے والے بھی ، منزل کھو جانے کا غم کرنے والے بھی اور منزل کی جستجو کرنے والے بھی ،  بھاگنے والے بھی چلنے والے بھی اور تھکے ماندے مایوس جو راستے کے پڑاؤ کو ہی منزل بنا کہ بیٹھ چکے ہیں  ۔ ۔۔
مجھے یقین ہے کہ میری نسل جو نہیں کر پائی وہ نئی نسل ضرور کرے گی ، کیونکہ “ہم صرف عنواں تھے ، اصل داستاں تم ہو“ کے مصداق یہ نسل بہت کچھ کرنا چاہتی ہے ، ہماری نسل کو کتنا کہا گیا کہ “گماں تم کو کہ سفر کٹ رہا ہے ، یقیں مجھے کہ منزل کھو رہے ہو “  مگر ہم نے نہیں سنا ، اور چلتے چلے گئے بن منزل کے راستوں پر ، ہمیں تو کھوج کی تمنا بھی نہ تھی ، منزل نے تو پکارا کئی بار ، اب نئی نسل کے اندر کم سے کم منزل کی کھوج تو ہے  ۔۔۔۔۔۔
راستہ مل ہی جائے گا منزل کا ، قدم اٹھاؤ تو سہی ، دوستو
دہل جائے گا عرش بھی صدا سے، آواز ملاؤ تو سہی دوستو
چھٹ جائے گی گرد ماضی کی چہروں سے بھی ہمارے
روح کو جذبے  سے ،جسم  عمل سے ، دھلاؤ تو سہی دوستو
Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on جنوری 17, 2007 at 11:08 صبح

    اس ميں کوئی شک نہيں کہ آج کی نسل کے بھٹکنے کا سبب پچھلی نسل ہے جو انسانی قدروں کو بھُلا کر دولت کے بيپھے لگ گئی ۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: