میں ایسا کیوں ہوں؟

کیا لکھوں ؟ ، اپنی بے بسی ، بے حسی یا پھر بے کلی ، کوئی بھی بات کرو ہر بات کا جواب ایسا منہ توڑ ملتا ہے کہ کتنا ہی وقت منہ کو سیدھا کرنے میں لگانا پڑتا ہے ، کسی سے سیاست کی بات کرو وہ آپ کو ایسا الجھا دے گا کہ آپ کو یا تو سب نیک پاک باز لگیں گے ، یا پھر سب کے سب “کنجر“  ۔ ۔  ہاں میں جانتا ہوں یہ سخت لفظ ہے مگر کیا کروں ایسا ہی ہے ، کسی سے مذہب کی بات کرو تو وہ آگے سے ہو کہ ملتا ہے کہ مذہب میرا ذاتی مسلہ ہے ، یہ بات آج دن تک مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مذہب کیسے ذاتی مسلہ ہو گیا ، وہ عمل جس پر آپ کی زندگی کی بنیاد ہوتی ہے وہ ذاتی کیسے ہو سکتا ہے ؟ اور پھر وہ عمل جس سے دوسرے آپ کو پہچانیں اور آپ کے کردار و اطوار کا فیصلہ کریں وہ ذاتی کیسے ہو سکتا ہے ، میری نظر میں مذہب وہ ذاتی عمل ہے ، جسکی وجہ سے معاشرہ متاثر ہوتا ہے ، مگر یہاں جس سے بات کریں وہ یا تو خود کو ایسا نیک پاک باز ظاہر کرے گا کہ ایسا پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں اگر کوئی فرشتہ سیرت انسان ہے تو یہ ہی ہے ، اور دوسرے نمبر پر وہ لوگ ہیں جو خود پر کوئی الزام نہیں سہتے بلکہ اپنے کسی بھی عمل کی وجہ دوسروں کو قرار دیتے ہیں ، میں اکثر اوقات کانپ کہ رہ جاتا ہوں جب ہم کسی حدیث کا سر عام مذاق بناتے ہیں ، جیسے ایک عام سی بات ہے یہاں (عرب امارات میں ) کہ “ہر عربی کو ہر عجمی پر فضیلت حاصل ہے “ اور واقعٰی ایسا ہی ہے مگر الفاظ حدیث کے ہیں ۔  ۔ ۔ مگر کسے پرواہ  ۔ ۔ ۔ اور اگر کوئی یہ مان بھی لیتا ہے کہ وہ غلط ہے تو بجائے نادم ہونے کے اس پر فخر کرتا ہے ، کس میں کتنا قانون شکنی کا حوصلہ ہے ، کون کتنا بنک بیلنس رکھتا ہے ، کون کتنا زیادہ اپنی بات کو منوا سکتا ہے ، کون کتنا “کھلا“ بول سکتا ہے ،کون کتنا مفاد پرست ہے ، اور موقعے سے فائدہ اٹھانے والا ہے ، وہ ہی اس دنیا میں کامیاب و کامران ہے  ، ایک اور آسان سی بات ہے جو اکثر میرے دوست بھی مجھ پر بھی عائد کرتے ہیں اور میں بھی انپر عائد کرتا ہوں کہ بھائی تم کہتے تو سب کچھ ہو کرتے کیا ہو ۔ ۔ ۔ مثلاً میں کہتا ہوں پاکستان مجھے بہت عزیز ہے تو پاکستان سے باہر کیوں بیٹھے ہو ؟ میں کہتا ہوں کہ مجھے دولت کی طلب نہیں ، تو پھر درھم دینار کے چکر میں کیوں ہو؟ ، میں کہتا ہوں کہ جہاد ہم پر واجب ہو چکا ہے ، تو پھر خود کیوں نہیں لڑنے جاتے ، میں کہتا ہوں ، اسلام ہی مسلئے کا حل ہے ، تو بھائی پہلے خود تو اسلام پر عمل کر کہ بتاؤ ، میں کہتا ہوں کہ سود سے بچو ، تو پھر یہ کریڈٹ کارڈ اور لیز پر گاڑی کیوں ؟   ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ میں لاکھ کہوں کہ میری فلاں مجبوری مجھے ان باتوں پر مجبور کرتی رہی ہے تو پھر انکا جواب بھی بڑی ڈھٹائی سے ہوتا ہے کہ ایسی ہی مجبوریاں ہماری بھی ہو سکتی ہیں  ۔ ۔ ۔ ہر ایک کو اپنا غم بڑا لگتا ہے ، آج مجھے پتہ نہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ ہم سب مل کر ایک غلط راستے پر غلط منزل کی طرف غلط وقت میں غلط طریقے سے جا رہے ہیں ، میرے ایک دوست نے کہا کہ تم خود کو تنقید کا حصہ بنا کہ دوسروں پر الزام دھرتے ہو  ۔ ۔ ۔ مگر یہ تو چور کی داڑھی میں تنکے والی بات ہوئی ، اور اسکا مطلب یہ ہوا یا تو میں غلط ہوں تو پھر میری بات کو مسترد کر دینا چاہیے ، اور اگر میں صحیح ہوں تو کم سے کم اتنا ظرف تو ہونا چاہیے کہ مان لیا جائے  ۔ ۔ ۔
میں نے اپنی ذات کے بارے میں بہت کم لکھا ہے ، مگر لگتا ہے اب لکھنا پڑے گا ، تا کہ میرے پڑھنے والوں کو پتہ چلے کہ میں “ایسا کیوں ہوں“ ، زندگی کا صرف ایک حصہ اپنے دوستوں سے شئیر کرنا چاہوں گا ، جس نے میری زندگی کو بدل دیا  ۔ ۔ ۔ میں آٹھویں جماعت میں تھا ، جب مجھے فالج کا اٹیک ہوا ، میرا سارا جسم سن ہو گیا ، میں بول سکتا تھا مگر اپنی انگلی تک نہیں ہلا سکتا تھا ، مجھے یاد ہے کہ میرے وہ تین سال جو بیڈ پر گذرے وہ کیا تھے ، ایک ایک پل ایک ایک بات یاد ہے مجھے ، میں نے میٹرک تک تعلیم بیڈ پر کی ، بورڈ کے ایگزام ہونے کی وجہ سے میرے دوست اور بھائی مجھے اٹھا کر اسکول لے جاتے ، اور پھر میں کالج تک آتے آتے میں نے بچوں کی طرح گھٹنوں کے بل چلنا سیکھا اور پھر کھڑا ہونا اور سہارے سے چلنا ، مجھے یاد ہے میرے بے ڈھنگے چلن کی وجہ سے کتنے ہی لوگ مجھ پر آوازے کستے میں کبھی کبھی چلتے چلتے گر جاتا میرے کپڑے خراب ہو جاتے بعض دفعہ گٹر کے پانی میں نہا کہ گھر آتا  ۔ ۔ ۔سب تھا مگر مجھے لوگوں نے یا تو “ترس“ کھایا یا پھر “مذاق“ اڑایا ، مگر ساتھ سوائے میری فیملی اور چند بہت قریبی دوستوں نے ہی دیا  ۔ ۔ ۔  جو نہ صرف بے غرض بے لوث دوستی رکھتے تھے بلکہ میرا ساتھ بھی دیتے ، میرے سارے دوستوں کے الگ الگ نظریے تھے ، میرے پانچ دوست ان دنوں میرے بہت قریب رہے ، حمید جو اب پولیس میں اچھی پوزیشن پر ہے ، اردو سپیکنگ سے تعلق رکھتا تھا ، ایم کیوایم کا اچھا کارکن تھا ، میں پنجابی تھا مگر کبھی بھی ہم نے ایک دوسرے سے اس وجہ سے تلخ کلامی نہیں ہوئی ، بلکہ میں اسکی جماعت ایم کیوایم (جو اس وقت مہاجر قومی مومنٹ تھی ) اور وہ میری جماعت (پی پی آئی  پنجابی پختون اتحاد ) کو خوب زد و کوب کرتے ، مگر ہم میں جو دوستی کا رشتہ تھا وہ اتنا گہرا تھا کہ یہ جماعتیں اور وہ نظریات کچھ نہ بگاڑ سکیں ، پھر ایک دوسرا دوست تھا عطا الرحمٰن ، وہ کٹر قسم کا جماعتی تھا ، بعد میں وہ جہاد پر بھی چلا گیا اور اسکے بعد نہیں معلوم کہاں ہے وہ ، مگر ان دونوں دوستوں نے میری بیماری میں جو میرا ساتھ دیا اسکا احسان میں شاید کبھی بھی نہ چکا سکوں ، جو حوصلہ جو ہمت ان دونوں نے بندھائی وہ آج تک مجھے زندہ رکھے ہے  ۔ ۔ ۔ پھر کالج میں یہ لوگ بچھڑ گئے ، کیونکہ حمید والد کی وفات کے بعد کام کرنے لگا ، عطا الرحمٰن بھی جہادی ہو گیا (یہ کشمیر کے لئے جہادیوں کا زمانہ تھا ) اور کالج میں مجھے معظم اور عمران جیسے دوست مل گئے ، اور یہ دونوں بھی اپنے نظریات میں کٹر تھے اور ایسے کہ ایک اگر شمال میں تو دوسرا جنوب میں ، اور میں مشرق میں ، اور مغربی سمت کو پورا ریاض نے کیا ، ریاض کشمیری تھا جو باغ سے تعلق رکھتا تھا ، ہاں وہ ہی باغ جو پچھلے سال اجڑ گیا ، اسکی اپنی ہی منطق تھی ، وہ عجیب طبیعت کا آدمی تھا ، پل میں توشہ پل میں ماشہ ، کبھی میرے ساتھ کبھی معظم کے ساتھ اور کبھی کسی کے ساتھ بھی نہیں اسی کے توسط سے ہم عثمان سے ملے عثمان گلگت کا رہنے والا تھا ، گورا چٹا بہت خوبصورت جوان تھا وہ ، یہ سب دوست مجھے سنبھالتے  ۔ ۔ ۔ میں گرتا تو مجھے اٹھاتے ، کبھی کسی نے بھی مجھے کمی محسوس نہیں ہونے دی کہ میں کسی طور بھی جسمانی کمی کا شکار ہوں  ۔۔ ۔ ہم عام دوستوں کی طرح لڑتے جھگڑتے روٹھتے منتے اور جب کوئی میرا مذاق اڑاتا تو اسے جواب دینے والے میرے دوست ہوتے  ۔ ۔ ۔ مجھ کمزور کے وہ مضبوط ہاتھ تھے ، میں چل نہیں پاتا تھا وہ میرے پہیے تھے ، مجھے آج بھی یاد ہے ہمارے محلے میں ایک پان کا کھوکا تھا جس پر ایک بزرگ بیٹھتے تھے ، ہم جب شام کو اکھٹے بیٹھ کر پٹریوں کے کنارے بحث کرتے لڑتے تو وہ بزرگ سنتے اور ہماری باتوں میں حصہ لیتے اردو سپیکنگ تھے اور بہاری تھے ، اور پاکستان کی محبت اس شخص میں جیسے کوٹ کوٹ کر بھری تھی ، انہوں نے ہمیں پاکستانی گروپ کا نام دیا تھا کیونکہ اس گروپ میں سندھی (منیر ) پنجابی (میں اور معظم ) گلگتی یا سرحدی )عثمان) اور ریاض کشمیری سب تھے  ۔ ۔  وہ ہمیں اکھٹا دیکھ کر بہت خوش ہوتے کئی دفعہ ہمیں انھوں نے پان مفت بھی کھلایا ، ریاض اور عثمان سگریٹ پیتے تھے ، سو اس کھوکے سے ان کی یہ غذا بھی ملتی تھی  ۔ ۔ ۔اور منیر کا پتی تمباکو  ۔۔ ۔ ان سب کا ذکر اسلئے کیا کہ یہ اسی دنیا کے لوگ تھے بلکہ ہیں  ۔ ۔ ۔ وقت نے ہمیں تلاش معاش میں کہیں کا کہیں پہنچا دیا  ۔ ۔ مگر ہم ایک دوسرے کو نہیں بھولے ، منیر اندرون سندھ میں ایک کالج لیکچرار ہے اب ، ریاض اور معظم ایم ایس سی کیمسٹری کر کہ اچھی پوسٹوں پر سروس کر رہے ہیں ، عثمان ایک دواؤں کی کمپنی چلا رہا ہے ، عمران یہاں امارات میں منیجر ہے ، حمید پولیس میں ہے ، عطا الرحمٰن کا پتہ نہیں  ۔ ۔ ۔ ہم سب ایک دوسرے سے الگ الگ تھے ایک دوسرے سے مختلف نظریات رکھتے تھے بلکہ ایک دفعہ تو ایسے ہی برتھ ڈیٹ نکالیں تو پتہ چلا کہ ہمارے گروپ میں ہوا پانی آگ اور مٹی سب موجود ہے  ۔ ۔ ۔  یہ ہی زندگی کی نشانی ہے ، ایسے ہی زندگی گذاری جاتی ہے ، سب الگ الگ ہوتے ہوئے بھی ایک ہو سکتے ہیں  ۔ ۔ ۔ مگر بات ہے اس ظرف کی اس جذبے کی  ۔ ۔ ۔ جو شاید آج کل بہت ہی کم ہوتا جا رہا ہے  ۔ ۔
اللہ ہم پر اپنا رحم کرے (آمین)
Advertisements

5 responses to this post.

  1. Posted by خاور on جنوری 15, 2007 at 4:53 شام

    آپ تو بڑے گریٹ بندے نکلے جی اور خوش قسمت بهی که آپ کو اتنے سارے دوست نصیب هوئے ـبہلی بات که مذہب کسی کا ذاتی معامله هو هي نہیں سکتا که اسلام ایک مکمل ترین ضابطه حیات اس لئے ہے که اسلام معاشرتی اصول دیتا هے اور ایک بہترین معاشرے کا تقاضه کرتا ہے ـانسان کو معاشری جانور بهی کہتے هیں اور جس بندے کے معاملات معاشری کی بجائے ذاتی هو جائیں اس کا مطلب ہے که اس میں سے معاشره نکل گیا اور اگر معاشرتی جانور سے معاشره نکال لیں تو باقی صرف جانور ره جاتا هے ـ ہاں عبادات کو بندے کا اور اسكے رب کا ذاتی معامله کہـ سکتيے هیں ـکه اللّه سائیں بڑے رحیم هیں هیں هو سکتا هے که روز قیامت عبادات کو معاف فرمادیں مگر جو ذیادتی آپ نے خاور کے ساتھ کی هو گی اس کا فیصله تو اللّه صاحب هی کریں گے لیکن معافی دینا نه دینا خاور کا اختیار هو گا ـحقوق العباد سمجهتے هیں ناں جی آپ ـاور بہترین معاشره حقوق العباد کے توازن سے هی بنتا هے ـباقی آگر آپ اپنے مباحثوں کی بنیاد قرآن کے نظریات احکامات کو بنالیں اوراس کے علاوه کی کتابوں کو چهوڑ دیں آپ کی باتوں میں ایک مدّلل پن پیدا هو جائے گا ـلیکن اس کے لئے آپ کو قران کا ترجمه بار بار اور غور سے پڑهنا ہو گا جی ـ

    جواب دیں

  2. سلام
    مذہب میرا ذاتی مسئلہ نہیں نہ میں کسی چیز کا مذاق اڑاتا ہوں۔ ہاں تمیز سے واقفیست نہ ہونے کے برابر ہے اسی لئے بدتمیز ہوں۔ پاکستان سے باہر بیٹھا ہوں اس لئے کہ ابھی تو آیا ہوں تھک گیا ہوں ذرا دم لے لوں تو واپس جاتا ہوں۔  دیکھیں جب بات کی جائے تو پہلے اگلے بندے کی بات سمجھنے کی کوشش کی جائے فوری طور پر جواب دینے سے  کچھ اچھا تاثر نہیں پڑتا۔ خاس طور پر لکھنے والے نے اگر  کچھ لکھا ہو اور  سمجھنے والے کو کچھ اور ہی سمجھ لگا ہو۔  لہذا اگر جواب آپ کو سخت لگے تو دوبارہ دیکھنا چاہئے کہ کیا آیا واقعی جواب سخت تھا یا آپ کو ایسا لگا۔ کیا پتہ اگلے کی سب سے بدتمیزی دیکھ کر آپ کو لگا ہو کہ آپ سے بھی بدتمیزی کی گئی ہے جبکہ نہ کی گئی ہو۔
    عاجزی ایک حد تک اچھی ہوتی ہے اس کے بعد بزدلی بن جاتی ہے۔ کھل کر بولیں بدتمیزی کے طوفان میں بھی اگر آپ کی بات صیح ہوئی تو نہ صرف فوراُ تائید و تعریف کی جائے گی بلکہ آپ کا پرزور ساتھ دیا جائے گا۔

    جواب دیں

  3. Posted by Azhar Ul Haq on جنوری 16, 2007 at 6:11 صبح

    بدتمیز بھائی (یار ویسے عجیب لگتا ہے بھائی کو بدتمیز کہنا یا بدتمیز کو بھائی کہنا ، صرف مذاق کر رہا ہو سیریز نہیں لینا) ، بہت شکریہ آپ کے تبصرے کا ، آپ کا کہا بجا ہے کہ میں بات کو سمجھتا ہی نہیں ، جیسے آپ “بدتمیز“ ہیں ایسے ہی میں “ناسمجھ“ ہوں  اور اس ناسمجھی میں بہت کچھ کہتا ہوں ، بعض دفعہ پچھتاتا ہوں بعض دفعہ ڈھیٹ بن جاتا ہوں  ۔ ۔ اور ہاں میری نظر میں عاجزی اور انکساری کی کوئی حد نہیں ہوتی ، بندے سے زیادہ کوئی عاجز نہیں ، اور بزدل تو میں ہوں  ہی  ۔ ۔  اس لئے ہر ایک سے ڈرتا ہوں  ۔ ۔ ۔ مجھے پتہ ہے کہ صحیح بات کی تائید تو دور کی بات کوئی سننا ہی نہیں چاہتا ، میرا تو خیال یہ ہے کہ ہم سب صرف بھڑاس نکالتے ہیں اپنی ، ورنہ عمل میں کم سے کم میں اپنی بات کروں گا صفر ہوں ، بلکہ منفی میں ہوں  ۔ ۔ ۔
    خاور ، جی اللہ کا بہت کرم رہا ہے مجھ پر کہ ایسے وقت میں ایسے دوست ملے ، جی اللہ نے خود فرمایا ہے کہ وہ اپنے حقوق تو معاف کر دے گا مگر بندے کے حقوق نہیں معاف کرے گا جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے ، آج کی دنیا کا المیہ ہی یہ ہے کہ وہ بندے کا حق سب سے زیادہ مار رہے ہیں ، میں اسی لئے بعض دفعہ کہتا ہوں (پتہ نہیں صحیح ہے یا غلط) کہ میں اللہ سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا بندوں سے ڈرتا ہوں کہ اللہ تو مجھے معاف کر دے گا مگر بندے ، بندے تو شاید معاف ہی نہ کریں ، اللہ مجھے ، آپ کو ، ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور نیک عمل کی توفیق دے (آمین) آپ کے تبصرے کا بہت شکریہ

    جواب دیں

  4. سلام
    بندہ عاجز ہے۔ انسان کو نہیں ہونا چاہئے۔ بندہ کس کے لئے ہے؟ اللہ کے لئے۔ انسان انسان کے لئے انسان ہوتا ہے۔ لہذا میرا ماننا ہے کہ انسان دوسروں سے اپنی عزت نفس کو مجروح نہ کرتے ہوئے ملے اور عاجزی صرف اللہ کے لئے رکھ چھوڑے
    نہیں میرے خیال سے بات کرنی چائہے۔ بےوقوف آپ کی بات تو کیا اللہ کی نہیں سمجھ سکتے لہذا ان کی وجہ سے انسان کیوں چپ رہے؟ عقل مند آپ کی بات کو صیح مانے گا۔ میرے جیسے  چاہے ساتھ دیں نہ دیں دل میں ضرور آپ کی بات تولتے ہیں۔

    جواب دیں

  5. Posted by Iftikhar Ajmal on جنوری 17, 2007 at 10:41 صبح

    آپ نے زندگی کا وھ رُوپ ديکھا ہے جس ميں پہنچ کر بچے کا دوبارہ اُبھرنا ہمارے ملک ميں بہت ہی مُشکل ہے ۔ ہمت آپ نے کی ۔ اللہ نے آپ کی مدد فرمائی اور آپ کو اس منافقت کے زمانہ ميں مخلص دوست مہيا کئے ۔ آپ اپنی آپ بيتی کے ساتھ اپنے خيالات کا بھی اظہار کرتے رہيئے ۔ آپ نے ديکھا ہو گا کہ کسی لحاظ سے بھی ديکھ ليں نالائق بہت زيادہ ہوتے ہيں اور لائق بہت کم ۔ دين پر عمل کے سلسہ ميں بھی يہی اصول ہے ۔
     ايک تصحيح کر دوں ۔ گلگت اور بلتستان رياست جموں کشمير کا حصہ ہيں ۔   

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: