پھر جاگ اٹھی ہے بھوک وہی پرانی سی

من موہن سنگھ جی فرماتے ہیں کہ ہم ایسا امن چاہتے ہیں کہ ، ناشتہ امرتسر میں ، ظہرانہ لاھور میں اور عشائیہ کابل میں ہو ، بظاہر یہ بیان بہت زبردست لگتا ہے ، بلکہ میرے خیال میں اس میں رات بسر کرنے کے لئے مشہد یا دوشنبے کا نام پتہ نہیں کیوں نہیں لیا گیا ، ہماری بھلکڑ قوم کو شاید ١٩٦٥ میں بھارتی جنرل کا یہ بیان بھی یاد نہیں ہو گا کہ ہم صبح کا ناشتا لاھور میں کریں گے ، جب وہ ناشتا نہ ہو سکا تو ١٩٧١ میں آدھا پاکستان بنا ڈکار کے ہی ہضم کر لیا ، شاید ٦٥ کی بھوک ڈھاکہ ڈھا کہ مٹی نہیں اب وہ ناشتا کر کہ لاھور پر چڑھائی کرنا چاہتے ہیں اور اسکے بعد کابل انکی منزل تو نہیں شاید پڑاؤ ہے جس سفر کا آغاز دھلی سے آج ہو رہا ہے اسکا اختتام بہت بھیانک نظر آ رہا ہے ، کاش ہم یہ سمجھ پائیں کہ اس کھانے پینے کی خواہش کے اندر اصل میں کیا چھپا ہے  ۔
Advertisements

5 responses to this post.

  1. Posted by Noumaan on جنوری 9, 2007 at 6:43 صبح

    بھائی تمہارے بلاگ پر کمنٹ لکھنا بہت دشوار ہے۔نعمان

    جواب دیں

  2. Posted by خاور on جنوری 9, 2007 at 6:45 صبح

    ہر ملک اور قوم کو آپنے اپنے مفادات عزیز هوتے هیں ـ اور اقوام اپنے مفادات کے لئے پینترے بهی بدلا کرتی هیں اور دوسری قوموں سے دهوکے بهی ـ اس بات اجاگر کرنے کی بجائے که دوسرے کیا کررہے هیں آپ یه لکهیں که همیں کیا کرناـ چاهیے یا کیا کررہے هیں ؟ یا کیا کرتے رهے هیں ـ٦٥ میں جب پاکستان کے حملے کے جواب میں انڈیا نےلاهور والا محاذ کهولا تو اس میں اتنا شور مچانے کی کیا ضرورت ہے ؟کیا دشمن کو آپنے دفاع کا بهی حق نہیں ؟٧١ میں جب فوج نے مسلم لیگ کی بنیاد رکهنے والے پاکستانیوں کی ماں بہن ایک کردی ان بنگالی پاکستانیوں کو قتل کر کر کے مٹانے کی کوشش کی ـتو کیا ان بنگالیوں کو آپ کسی کو آپنی مدد کے لیے پکارنے کی بهی اجازت نہیں دیں گے ؟

    جواب دیں

  3. Posted by Azhar Ul Haq on جنوری 9, 2007 at 8:29 صبح

    خاور آپکا کہنا بجا ہے ، مگر آپ میری تحریر کو ایک بار پھر پڑھیں اور دیکھیں کہ یہ تحریر کیا کہ رہی ہے ؟  یہ وہ ہی سوال ہے کہ دوسرے تو جو کر رہے ہیں کر رہے ہیں ہم کیا کر رہے ہیں ؟
    نعمان ، بھائی مجھے سمجھ نہیں آئی کہ تبصرہ کرنے میں کیا مشکل ہے ؟

    جواب دیں

  4. Posted by Sayyeda on جنوری 11, 2007 at 6:04 شام

    Asalama o Alaikum
    aap ke comments ka boat bohat shukriya. :)))
    ap ne jo drama ke dialogue kahe hain, woh Hadees Shareef hai aur kuch yun hai,
    Aay Ibn-e-Aadam! Aik Meri Chahat hai, aur aik Teri Chahat hai. Hoga wahi jo Meri Chahat hai. Pas, agar tu ne chaha us ko jo Meri Chahat hai to mien tujhe bakhsh doon ga woh bhi jo Teri Chahat hai. Aur gar to ne mukhalfat ki us ki jo Meri Chahat hai, to mien tujh ko thaka doon ga us mien jo Teri Chahat hai. Aur phir… hoga wahi jo Meri Chahat hai”.Apna khyl rakhiye ga.
    Allah hafiz-o-Nasir

    جواب دیں

  5. Posted by Sayyeda on جنوری 11, 2007 at 6:06 شام

    Asalama o Alaikum
    aap ke comments ka boat bohat shukriya. :)))
    ap ne jo drama ke dialogue kahe hain, woh Hadees Shareef hai aur kuch yun hai,
    Aay Ibn-e-Aadam! Aik Meri Chahat hai, aur aik Teri Chahat hai. Hoga wahi jo Meri Chahat hai. Pas, agar tu ne chaha us ko jo Meri Chahat hai to mien tujhe bakhsh doon ga woh bhi jo Teri Chahat hai. Aur gar to ne mukhalfat ki us ki jo Meri Chahat hai, to mien tujh ko thaka doon ga us mien jo Teri Chahat hai. Aur phir… hoga wahi jo Meri Chahat hai”.Apna khyl rakhiye ga.
    Allah hafiz-o-Nasir

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: