اردو کی درمیانی کتاب – دوسرا باب

دوسرا باب – انسان کی دنیا 

 

اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب )   – 1 – سیاست

انسان جب روٹی کپڑے اور مکان کی فکر سے آزاد ہوا تو اسنے اپنے فارغ اوقات کو سیاست سے پر کر لیا ، سیاست شاید کمزور لوگوں نے طاقت ور لوگوں سے مقابلے کے لئے ایجاد کی تھی مگر اب یہ طاقتور لوگوں کا بہترین ہتھیار ہے کمزورں کو کچلنے کے لئے ۔ سیاست کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ سیاست اس عمل کا نام ہے جس میں جو کہا جاتا ہے وہ کیا نہیں جاتا اور جو کیا جاتا ہے وہ کہا نہیں جاتا، اس عمل کو کرنے والے سیاستدان کہلاتے ہیں ، سیاست ایک کھیل کی طرح کھیلی جاتی ہے ، جو گھر کے باورچی خانے سے شروع ہو کر بین الاقوامی تعلقات تک اپنا اثر رکھتی ہے ، گھروں میں ساس بہو ، بہن بھائیوں اور رشتے داروں کی سیاست زیادہ استعمال ہوتی ہے ، قومی سطح پر ، صوبائی ، لسانی اور علاقائی سیاست کی جاتی ہے ، جب کہ بین الاقوامی سطح پر ، جنگ اور امن کے علاوہ تجارتی اور حمایتی سیاست بہت اہم ہوتی ہے – سیاست کو مختلف نظاموں میں تقسیم کیا جاتا ہے

 

بادشاہت ! کچھ نادان لوگ اسے آمریت بھی کہتے ہیں ، مگر دنیا میں اس وقت بہت سارے (خاص کر مسلمان ممالک میں ) بادشاہت قائم ہے ، جہاں کا قانون صرف بادشاہ کے گرد گھومتا ہے ، لوگ اسی کے گن گاتے ہیں ، بعض اوقات بادشاہت کو بادشاہت نہیں کہا جاتا ، بادشاہ ، صدر یا وزیراعظم کا لقب اختیار کر لیتا ہے ۔ ایسے حکمرانوں کو پکا یقین ہوتا ہے کہ انکی حکومت ہی رعایا کی خوشحالی کا بعث ہے ، اس طرز حکومت میں نہ تو انسانوں کو تولا جاتا ہے اور نہ ہی گنا جاتا ہے اور نہ ہی چنا جاتا ہے ، ایسا انسان پیدا ہی بادشاہ یا شہزادہ ہوتا ہے ، اور اگر پیدائش کے وقت ایسا نہ ہو تو بعد میں وہ خود یہ مرتبہ حاصل کر لیتا ہے ، دنیا میں اس وقت بہت سارے ممالک اس سیاست کے نظام سے مستفید ہو رہے ہیں، بادشاہت میں سیاست کو سازش بھی کہا جاتا ہے ، جن میں مشہور اقسام ہیں ، محلاتی سازشیں اور وزارتی سازشیں وغیرہ

 

جمہوریت ! علامہ اقبال کے بقول جمہوریت وہ سیاست ہے یا طرز حکمرانی ہے جس میں لوگوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا ، مگر جدید جنہوری ممالک کے تجربات نے بتایا ہے کہ لوگوں کو گننے سے پہلے پہلے یا بعد میں سونے چاندی سے تولا بھی جاتا ہے ، کچھ لوگ نہ جانے اسے کیوں گھوڑوں کا کاروبار (ہارس ٹریڈنگ) بھی کہتے ہیں ، اس قسم کی سیاست میں انتخابات کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے ، جن میں ووٹ ڈالے جاتے ہیں ، ووٹ حاصل کرنے کے لئے نوٹ خرچنے پڑتے ہیں ، اور ووٹ حاصل ہو جانے کے بعد نوٹ حاصل کئے جاتے ہیں منافعے کے ساتھ ، عوام کے لئے سیاستدان وعدوں کی سیاست کرتے ہیں ، اور عوام انکو ووٹ دے کر چین کی زندگی گذارتے ہیں ، سیاست کا یہ کھیل بہت مشہور ہے ، اور تقریباَ ہر جگہ کھیلا جاتا ہے ، اور جہاں نہیں کھیلا جاتا وہاں لوگ اسے کھیلنے کے لئے انقلاب لانے کی کوشش کرتے ہیں

 

سیاست کا اصل محور حکمرانی ہوتا ہے ، چاہے وہ گھر کو کنٹرول کرنے کی ہو یا کسی ملک یا کمپنی کو ، اسی لئے کچھ سیاست دان ملکوں کو گھر کی طرح کنٹرول کرتے ہیں اور کچھ گھر کو کمپنی کی طرح اور کچھ کمپنیاں ملکوں کو کنٹرول کرتی ہیں ، اور یہ کنٹرول کرنے کے لئے سیاست کرتی ہیں ، سیاست میں ہر انسان پر اثر ہوتا ہے ، مگر کوئی اسے مانتا ہے کوئی نہیں مانتا

 

 

اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب )   – 2 – صحافیات

کسی بھی ریاست کے چار ستون ہوتے ہیں  ، یعنی عدلیہ ، صحافت ، سیاستدان اور فوج ، آخر الزکر یعنی فوج اور سیاستدان آج کل ایک ہی مانے جاتے ہیں ، فوج سیاست بھی کرتی ہے اور سیاستدان فوجی بھی ہو سکتا ہے ، عدلیہ کو ہم بعد میں بیان کریں گے ، صحافت ایک بہت اہم ستون ہے ریاست کا ، یہ کہنا مشکل ہے کہ صحافت کب شروع ہوئی ، ہو سکتا ہے جب کسی نے کسی کو کوئی بھی خبر دی ہو وہ ہی پہلا صحافی بھی ہو گا ، خیر ، صحافت ایک بہت وسیع علم ہے ، جس میں خبروں سے لیکر طعنہ زنی تک ہر طرح کی باتیں کی جا سکتیں ہیں ، صحافی وہ شخص ہوتا ہے جو وہ باتیں کرتا ہے جن سے صرف دوسروں کو غرض ہوتی ہے ، صحافی سوکھی لکڑیوں کو گیلا کرتا ہے اور پھر انہیں جلا بھی سکتا ہے یا جلتی آگ کو بڑھکاتا ہے یا پھر صرف آگ کی باتیں کرتا ہے حتہ کہ آگ نہ تو جلی ہوتی ہے اور نہ ہی اسکے جلنے کا چانس ہوتا ہے ، کچھ لوگوں نے صحافت کو بھی بانٹ دیا ہے ، اور انکی پہچان کے لئے رنگوں کا نام دیا ہے تاکہ الگ الگ انکی پہچان ہو سکے

 

زرد صحافت ! یہ ایسی صحافت ہوتی ہے  جس میں دوسروں پر خبریں اچھالیں جاتیں ہیں ، انہیں جسمانی طور پر تو نہیں مگر ذھنی طور پر عریاں کر دیا جاتا ہے ، کچھ لوگ اسے اپنی آمدن بڑھانے کا ذریعہ بھی بنا لیتے ہیں ، اور اپنی طرف سے افواہیں بنا کر عوام میں بے چینی پیدا کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔

 

کالی صحافت ! اگر کوئی سچی خبر بہت زیادہ نمک مرچ لگا کر بتائی جائے تو اسے کالی صحافت بھی کہتے ہیں ، یہ اصل میں زرد صحافت کی ہی بہت زیادہ بگڑی شکل ہے

 

فیشن کی صحافت ! لباس رہن سہن اور اسکے بارے میں خبریں بنانا اور پھیلانا یہ فیشن کی صحافت کا حصہ ہے ، اس طرح کی صحافت سے مرد زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ حواتین اس صحافت کی وجہ سے نت نئے فیشن سے آگاہ ہوتیں ہیں اور مردوں کو وہ فیشن خریدنا پڑتا ہے اپنے لئے بھی اور حواتین کے لئے بھی

 

صحافت کی ایک اور بڑی چیز آزادی رائے اور آزادی اظہار ہے ، مگر کچھ لوگ اسے نہیں مانتے خاصکر حکمران ، اور طاقت ور لوگ ، اسلئے صحافی اکثر اس غلط فہمی میں اپنی زندگی تک گنوا دیتے ہیں ، آزادی رائے ضروری ہے مگر اپنے بچاؤ کے ساتھ۔

 

اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب )   – 3 – عدلیہ

انسانی معاشرے میں انسان مل جل کر رہتا ہے ، اور اسکے درمیان اکثر اختلافات ہوتے ہیں ، یہ اختلافات ، میاں بیوی سے لیکر عوام اور حکمرانوں تک ہوتے ہیں ، کیونکہ ہر فریق خود کو حق پر سمجھتا ہے اسلئے اسے تیسرے آدمی سے پوچھنا پڑتا ہے کہ کون حق پر ہے ، یہ فیصلہ کرنے کے لئے عدالت منعقد کی جاتی ہے ، جس میں بعض دفعہ ایک شخص کو اور بعض دفعہ ایک گروہ کو فیصلے کا اختیار دیا جاتا ہے ، اسے جیوری یا جج بھی کہتے ہیں ، جبکہ مقدمے کی پیروی کرنے والے کو وکیل کہا جاتا ہے ،اور مقدمے کرنے والے اور کرانے والے کو مدعی اور مدع علہیہ کہا جاتا ہے ، مدعی اکثر برا چاہتا ہے اسی لئے یہ شعر بہت مشہور ہے ، کہ مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے ، وہ ہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ، مقدمے کا ایک اور اہم شخص گواہ بھی ہوتا ہے جو مدعی یا مدعا علیہ کی طرف داری یا مخالفت کرتے ہیں ، اور اس مقدمے کے فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں ، عدالتیں خریدی بھی جاتیں ہیں بیچی جاتی ہیں انصاف بھی بکتا ہے ، گواہ بکتے ہیں ، وکیل اور جج اور جیوری بھی بکتی ہے ، مگر کچھ لوگ اسے نہیں مانتے اور انصاف کو ہر حال میں پورا کرتے ہیں ، کچھ منصور حلاج جیسے لوگ بھی انصاف کی بھینٹ چڑھتے ہیں اور کچھ بنا عدالت کے ہی انصاف پا لیتے ہیں ، انسان کو اپنے کئے کا کچھ بھی انجام مل سکتا ہے اور یہ ہی انسان انصاف کے قانون بناتا ہے اور خود توڑتا ہے ، اسی لئے عدالت کے جج سے لیکر سپاہی تک کالے رنگ کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ کالا رنگ ہر رنگ اپنے اندر سموئے ہوتا ہے ، عدالت کالے قانون سے لیکر کالے کرتوتوں تک نمپٹتی ہے ، اور اسکے لئے کالی قمیضوں والے سپاہی کالے کوٹوں والے وکیل اور کالے چغے والے جج کالی کرتوتوں والوں سے سازباز کرتے ہیں یا پھر انکی زندگی کا فیصلہ کرتے ہیں  ۔ ۔  یہ ہی عدلیہ کہلاتی ہے

 

اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب )   – 4 –  بصریات (فلم ٹی وی سٹیج)  

خدا نے انسان کو ایک ذھین مخلوق بنایا ہے ، وہ اپنے حواس خمسہ ، یعنی دیکھنے ، سننے ، چکھنے ، بولنے اور محسوس کرنے کی صلاحیتوں کا مظاہرہ مختلف صورتوں میں کرتا ہے ، انسان زمانہ قدیم سے ، اپنے آپ کو دکھانا چاہتا ہے ، پہلے وہ تصویریں بناتا تھا اب وہ متحرک فلمیں بناتا ہے ، اپنے جذبات اور احساسات اور خیالات کو اسٹیج پر پیش کرتا ہے ، اپنی زندگی پر فلمیں بناتا ہے ، اور ان سب کو نشریات میں دیکھتا اور دیکھاتا ہے ، زندگی کو دکھانے کے لئے انسان نے بہت سارے طریقے ایجاد کئے جن میں سے چند یہ ہیں

 

اسٹیج – دنیا کا سب سے پرانا طریقہ اظہار ، جس میں ایک یا ایک سے زیادہ انسان ، کسی بھی تمثیل کو بیان کرتے ہیں ، کبھی اداکاری کر کہ اور کبھی گا کہ اور کبھی صرف تقریر کر کہ ، اسٹیج دنیا کا سب سے مقبول تفریح کا ذریعہ بھی ہے ، اسلئے ہزاروں برس سے اس کو ہر طرح کے اظہار کے لئے استعمال کیا جاتا ہے

 

فلم – جب انسان نے گذرے لمحات کو محفوظ کرنے کا طریقہ سیکھا تو اس نے اپنی کہانیاں اور تمثیلیں اور تخیلات فلموں کی شکل میں بنانے شروع کئے ، فلم کو اظہار کا اس وقت سب سے بہترین ذریعہ تصور کیا جاتا ہے ، فلمیں انسانوں کے ماضی کو نہ صرف محفوظ کرتیں ہیں بلکہ ان خیالات اور تصورات کو بھی محفوظ کرتیں ہیں جو فلم بنانے والا یا لکھنے والا یا پھر اس میں اداکاری کرنے والا کرتا ہے ، موجودہ دور کا انسان فلموں سے بہت اثر لیتا ہے اور بعض دفعہ اسی تخیلاتی دنیا میں رہنا پسند کرتا ہے جو صرف فلم میں ہی ممکن ہو سکتی ہے

 

ٹی وی – موجودہ دور میں ٹی وی نہ صرف انسانی ضرورت ہے بلکہ بعض اوقات مجبوری بھی ہے ، ٹی وی نے انسانوں کے درمیان فاصلے کم کئے ہیں ، مگر دوسری طرف انسانوں کو گھروں میں مقید بھی کر کہ رکھ دیا ہے ، آج انسان کھانے پکانے سے لیکر تجارت تک ٹی وی کے ذریعے کرتا ہے ، تفریح اور طبع کے لئے ٹی وی کو دیکھتا ہے اور تنہائی کا ساتھی بناتا ہے

 

اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب )   – 5 –  سماعیات ( موسیقی ، تقاریر و وعظ)

بصریات کے بعد دوسری چیز جو انسان پر بہت اثر کرتی ہے وہ ہے آواز یعنی سماع ، انسان ہر بات کا اثر لیتا ہے ، وہ بہتے جھرنوں اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے محظوظ ہوتا ہے وہ بادلوں کی گھن گرج سے خوفذدہ بھی ہوتا ہے وہ اپنے بنائے ہوئے سازوں کی آوازوں سے اپنی کیفیت بیان کرتا ہے ، وہ غم خوشی کے لمحات کو گیتوں میں ڈھال کر رقص کرتا ہے ، وہ تقریروں اور وعظوں سے زندگی سیکھتا ہے ، اور انقلاب لاتا ہے ، انسان کی زندگی میں آوازیں بہت اہم ہوتیں ہیں ، وہ دم آمد روتا ہے دم رخصت رلاتا ہے ، اور خامشی کو موت اور صدا کو زندگی سمجھتا ہے ۔

 

اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب )   – 6 –  بڑے لوگ

بڑے لوگ وہ انسان ہیں جنہوں نے اپنے ہونے سے دنیا کو بدل ڈالا ، ایسے لوگوں میں پیغمبر ، حکمران ، شاعر ، ادیب ، فنکار ، سائنسدان شامل ہیں ، دنیامیں ہر تبدیلی کا آغاز کوئی بڑا آدمی کرتا ہے ، بڑا آدمی وہ بنتا ہے جو عام لوگوں میں رہ کر خاص حالات کا مقابلہ کرتا ہے اور اپنے نظریات کی پاسداری اور پرچار کرتا ہے ، دنیا میں اللہ نے اپنے پیغمبر نامزد کئیے جنہوں نے دنیا کو نیکی اور بدی کا مفہوم سمجھایا ،اور انسان کو اسکے بلند مرتبے کا بھی بتایا جو خدا تعالٰی نے اسے ودیت کیا ہے ، اسکے علاوہ وہ حکمران جنہوں نے اپنے طرزحکومت سے دنیا کو امن اور جنگ کے زمانے دئیے اور وہ شاعر اور ادیب جنہوں نے لوگوں کو اپنی قادر کلامی سے مسحور کیا ، اور وہ فنکار جنہوں نے عام انسانوں کی تریبیت کی ، ایسے ہی لوگوں میں شمار ہوتے ہیں ، وہ سائنسدان جنہوں نے دنیا کا مطالعہ کیا اور انسان کی زندگی کو آسائشوں سے بھر دیا  ۔ ۔ ۔ بڑا انسان وہ ہوتا ہے جو اپنی زندگی کو کسی بھی مقصد کے لئے وقف کر دے اور عام لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو  ۔ ۔ ۔ جب کسی بھی جگہ پر بہت زیادہ چھوٹے لوگ ہو جاتے ہیں تو وہیں پر بڑا آدمی جنم لیتا ہے  ۔ ۔  ۔اور زندگیوں کو بدل دیتا ہے ، ہمیں بڑے لوگوں سے سیکھنا چاہیے ، اور ان جیسی زندگی کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

 

 

اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب )   – 7 –  بڑوں کی باتیں جو بچے نہیں سمجھتے 

انسانوں کو بنیادی طور پر دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ایک بڑے ایک بچے ، بڑے وہ جو زندگی کو بہت زیادہ گذار چکے ہوتے ہیں اور مختلف تجربات سے گذر چکے ہوتے ہیں ، جبکہ بچے جو ابھی زندگی کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں ، موجودہ دور میں بڑوں کو چاہیے وہ باتیں یاد رکھیں جو بچے نہیں سمجھتے اس لئے بچوں کو ان باتوں کو سمجھنے کے لئے زور نہیں لگانا چاہیے اور نہ ہی بڑوں کو یہ باتیں بچوں پر امپوز کرنی چاہییں ، ان میں چند ضروری باتیں یہ ہیں

 

جھوٹ بولنا ! بڑے اکثر جھوٹ بولتے ہیں ، بچوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کیوں ، اسلئے بڑوں کو چاہیے کہ بچوں کو جھوٹ بولنے کی وجہ پوچھنے کی اجازت نہ دیں اور بچوں کو چاہیے کہ وہ اسے بڑوں کی بات سمجھیں اور اس پر زیادہ مغز کھپائی نہ کریں

غصہ کرنا ! غصہ کرنا بھی بڑوں کی سب سے بڑی عادت ہوتی ہے ، اور کیونکہ غصہ کمزور پر اتارا جاتا ہے اسلئے بچے اسکا اکثر شکار ہوتے ہیں ، بچوں کو چاہیے کہ بڑوں کے غصے پر غصہ نہ کریں اور بڑوں کو چاہیے کہ بچوں پر غصہ نہ نکالیں

نوکری کرنا! بڑوں کو زندہ رہنے کے لئے نوکری کرنا پڑتی ہے ، جبکہ بچوں کو نوکری سے کوئی غرض نہیں ہوتی ، مگر کچھ بڑے بچوں کو بھی نوکری کرواتے ہیں ، ایسے بچے جلدی بڑے ہو جاتے ہیں ، اسلئے بڑوں کو چاہیے کہ نوکری صرف وہ کریں ، اور بچوں کو نوکری سے بچائیں

 

اردو کی درمیانی کتاب (دوسرا باب )   – 8 –  بچوں کی باتیں ، جنہیں بڑے سمجھتے تو ہیں مگر مانتے نہیں  

بچے اکثر بڑوں کے استاد ہوتے ہیں ، مگر بڑے ان باتوں کو اہمیت نہیں دیتے جسکی وجہ سے معاشرے میں انتشار پیدا ہوتا ہے ، بڑوں کو چاہیے کہ بچوں کی ان باتوں کو غور سے سنیں اور ان پر عمل کریں اور یہ طریقہ ہے بچوں کی تعلیم و تربیت کا

 

سچ بولنا ! بچے فطری طور پر سچے ہوتے ہیں ، کنونکہ انہیں دنیا کے رد عمل کی خبر نہیں ہوتی ، بڑوں کو چاہیے کہ بچوں کے سچ پر توجہ دیں اور اس کے اثرات سے فائدہ اٹھائیں ، بچوں کے سچ بولنے سے اکثر بڑوں کا نقصان ہوتا ہے ، اور انکا بھانڈہ پھوٹ جاتا ہے ، مگر سچ سے انسان کو بہت فائدہ ہوتا ہے ، بڑوں کو یہ سمجھنا چاہیے

ضد کرنا ! بچوں کی سب سے بڑی عادت ہوتی ہے ضد کرنا ، بچے کھاناکھانے یا نہ کھانے سے لیکر کھلونے لینے تک ضد کرتے ہیں ، بڑے جو ضد پوری کر سکتے ہیں اسے پورا کر دیتے ہیں اور جو نہیں کر سکتے وہ بچوں کو رلا دیتے ہیں ، بچوں کو خفا کرنا اور رلانا اچھی بات نہیں ، اس سے بچے احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں ، بڑوں کو بچوں کی ضد کو اعتدال پسندی سے برداشت کرنا چاہیے

کھیلنا ! کھیلنا بچوں کا بنیادی حق ہے ، بچوں کو آمدن کا ذریعہ بنانا اچھی بات نہیں ہے ، انہیں کھیل کود کی پوری آزادی دینی چاہیے ، تبھی بچے زندگی میں رنگ بھر سکتے ہیں

 

 

اختتامیہ

 

مجھے نہیں معلوم کہ  اس کتاب کا کیا رسپانس ہو گا ، مگر میں نے کوشش کی ہے کہ اسے پڑھنے والوں کے لئے کچھ فارمل اور انفارمل بنایا جائے ، میں جانتا ہوں کہ لکھنے کا یہ انداز کچھ نیا نہیں ہے ، مگر امید ہے کہ اسے پذیرائی ملے گی ، میں نے کوشش کی ہے کہ اس کتاب کو مختصر رکھا جائے اور نہ تو زیادہ طربیہ ہو اور نہ ہی انتہائی پیشہ وارانہ کہ پڑھنے والا بور ہو جائے ،  میں نے مسودے کو بار بار پڑھا اس میں ترمیمات کیں ، پھر بھی اس میں بہت نقائص ہونگے کمیاں ہونگیں ، جن کے لئے میں قارئین کی آراء کا منتظر رہوں گا

 

آپکی دعاؤں کا طالب

اظہر الحق نسیم

شارجہ ، متحدہ عرب امارات

  جنوری ٢٠٠٧

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: