اردو کی درمیانی کتاب – 8 – فلکیات

زمین کا جغرافیہ معلوم ہونے کے بعد انسان نے کائنات کا جغرافیہ معلوم کرنے کا سوچا ، تو سب سے پہلے اسے فلک (آسمان) نظر آیا تو اسنے فلکیات کا علم حاصل کرنا شروع کیا ، زمانہ قدیم میں اسے آسمان میں سورج چاند ستاروں کے علاوہ دیوی دیوتا بھی نظر آتے تھے ، مگر اسنے آسمانی نشانیاں رکھ کر راستے بنائے ، اسنے وقت کی پیمائش آسمان کو ہی دیکھ کر کی ، ہر سمجھ نہ آنے والی چیزکو آسمانی کہا گیا ، اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ انسان ستاروں سے آگے کے جہان دیکھنے کے قابل ہوا ، بڑی بڑی دوربینیں بنائیں ، اور پھر جب خلا میں پہنچا تو وہاں بھی دوربینیں لگا دیں ، تب اسے پتہ چلا کہ ستاروں سے آگے واقعہ ہی جہاں اور بھی ہیں ، انسان اب بلیک ہول اور وارم ہول کی باتیں کرتا ہے ، مکاں اور لامکاں کی طرف جانا چاہتا ہے ، وہ خلا کی وسعتوں میں گم ہونا چاہتا ہے ، وہ خلامیں مخلوق کو تلاش کر رہا ہے ، مگر نہ جانے خلائی مخلوق انسان کو کیوں تلاش نہیں کر رہی !!!!  فلکیات میں ہم درج ذیل مطالعہ کرتے ہیں
خلا ! انسان پہلے سمجھتا تھا کہ دنیا ساری ایک لچکیلے مادے میں تیر رہی ہے مگر اب پتہ چلا کہ باہر کچھ نہیں ، انسان جانتا ہے جہاں کچھ نہیں ہوتا وہاں بہت کچھ ہوتا ہے ، اور وہ اسی ہونے کی تلاش میں خلا میں اپنی مشینیں بھیج رہا ہے
ستارے اور سیارے !! پہلے کہا جاتا تھا کہ کائنات ساکن ہے پھر متحرک ہوئی اور اب کائنات کا ذرہ ذرہ متحرک ہے ، ستارہ اسے کہتے ہیں جو اپنے اردگرد بہت سارے سیاروں کو گھماتا ہے ، اور سیارہ جو کسی ستارے کے گرد گھومتا ہے ، اس دنیا میں ہر ستارہ ایک سیارہ ہوتا ہے ، کیونکہ وہ ستارہ کسی اور مرکز کے گرد گھومتا ہے ، اور وہ مرکز بھی کسی اور مرکز کے گرد گھومتا ہے اور ایسے ہی یہ سلسلہ چلتا ہے ، انسان نے اس قدرتی مظہر سے بہت کچھ حاصل کیا ہے ، اب وہ ایک دوسرے کے گرد گھومنے کو جانتا ہے  ۔
غائب اجسام ! جہاں انسان کو کچھ نہیں ملتا وہاں ہی انسان کہتا ہے کہ یہاں پر کچھ ہے ، اسی کچھ کو اسنے بلیک ہول کا نام دیا ہے ، کیونکہ یہ نظر نہیں آتا اسلئے اسے آنکھوں کے بجائے لہروں سے دیکھا جاتا ہے
وقت ! فلکیات کا اہم ترین مطالعہ وقت کا مطالعہ ہے ، کیونکہ انسان کو خلا میں کوئی سمت نہیں سجھائی دیتی تو اسنے وقت کو سمت بنا دیا ہے ، آئین اسٹائین کے مطابق اگر ہم روشنی کی رفتار سے دگنا ہو کر سفر کریں تو ہم روشن ہو جائیں گے ، کیونکہ ابھی تک انسان روشنی کی رفتار حاصل نہیں کر سکا اسلئے ابھی وہ روشن نہیں ہوا ،  انسان ابھی تک نہیں جان پایا کہ جب وہ مادے سے توانائی میں بدلے گا تو وقت کا کیا ہو گا، ویسے دنیا میں انسان کمزور انسان کو مادے سے توانائ میں بدلتا ہے ایسے انسان کو مزدور کہتے ہیں ، اور یہ سب کچھ کرنے والے کو مالک ۔ اس سارے عمل میں مالک مزدور دونوں کا وقت نکل جاتا ہے  ۔ ۔ ۔ اور مالک کی زندگی میں چاند ستارے اور مزدور کی زندگی میں خلا رہ جاتا ہے ، اور وہ فلک کی طرف دیکھتا ہے اور فلکیات کے علم کو دعائیں دیتا ہے
 
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: