اردو کی درمیانی کتاب – 7 – جغرافیہ

جغرافیہ ایک ایسا علم ہے جس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم کہاں پر رہتے ہیں اور ہمیں کہاں نہیں رہنا چاہیے اور جہاں ہم کو رہنا چاہیے وہاں کیسے جانا چاہیے اور وہاں پر کیا کچھ ہے اور کیا نہیں ہے ، یعنی پہاڑ ہیں تو پانی کہاں ہے ، بارشیں اگر ہوتی ہیں تو کب اور کتنی ہوتی ہیں ، اور کہاں پر منظر اچھا ہے اور کہاں منظر اچھا بنایا جا سکتا ہے ، جغرافیہ کے مضمون کو عام دنیا میں پھیلانے میں سب سے زیادہ ہاتھ نیشنل جیوگرافیک میگزین کا ہے ، جس کی تصویروں سے لوگ دنیا کے اندر باہر جھانک سکتے ہیں ،  قدیم انسان کا خیال تھا کہ دنیا چار چیزوں سے ملکر بنی ہے یعنی ، آگ ، مٹی ، ہوا اور پانی  ، مگر بعد میں پتہ چلا کہ آگ بھی کئی طرح کی ہو سکتی ہے ، جو جھنگل کی آگ سے لیکر جگر کی آگ تک اقسام رکھتی ہے ، اور مٹی تو ہزار روپ رکھتی ہے ، پتھر ، ریت اور دھات ، اور پھر ہوا کو تو انسان نے بیسوں قسم کی گیسوں میں بدل دیا ۔ قدیم انسان آکسیجن کو نہیں جانتا تھا مگر زندہ رہتا تھا ، آج آکسیجن کو جانتا بھی ہے اور زندگی اور موت سے لڑتا بھی اسی سے ہے ، اور پانی ، پانی تو ہر طرح کا اسے ملا ، قدیم شربتوں سے لے کر جدید “ڈرنک“ تک پانی ہر رنگ میں ملتا ہے ، دنیا کی تقسیم ابھی تک جاری ہے ، مگ جغرافیائی طور پر دنیا کو یوں تقسیم کیا جاتا ہے
 
 –
پانی ؛ دنیا زیادہ تر پانی میں ڈوبی ہے ، اور باقی دنیا سائنسدانوں کے خیال میں جلد ڈوب جائے گی ، پانی سے ہی زندگی ہے ، جہاں پانی ہو گا وہیں زندگی پائی جائے گی ، مگر قدرت پتھر کے اندر کیڑے کو بھی زندہ رکھ سکتی ہے  ۔ ۔ جسکا جواب سائنسدان دیتے رہتے ہیں ، پانی دنیا میں سمندر ، دریا ، جھیلوں اور ندی نالوں کے علاوہ بادلوں میں بھی پایا جاتا ہے ، انسان پانی کو واٹر کولر میں اور نالیوں میں رکھتے ہیں , کچھ لوگوں کی آنکھوں میں بھی پانی پایا جاتا ہے ، مگر آجکل کے حالات سہ سہ کر اکثر آنکھوں کا پانی مر چکا ہے ، اسکے علاوہ انسان کبھی کبھی ڈوبنے کے لئے چلو بھر پانی کو بھی استعمال کرتا ہے
 
پہاڑ ! زندگی کی اونچ نیچ کو سمجھانے کے لئے قدرت نے پہاڑ بنائے ہیں ، پہاڑ ہر طرح کے ہوتے ہیں ، سرسبز بھی اور بنجر بھی ، پہاڑ کی چوٹیوں پر چڑھنے کا شوق ایک باقاعدہ صنعت کا درجہ حاصل کر چکا ہے ، اکثر پہاڑ اونٹ سے اوپر ہوتے ہیں ، اور طاقتور انسان جب کسی کمزور انسان کا راستہ روکتا ہے تو اسے بھی پہاڑ کہا جاتا ہے
 
موسم ! انسان کو تخیلاتی دنیا بسانے کے لئے قدرت نے شاعر بنایا اور  شاعری کرنے کے لئے موسموں کو پیدا کیا ہےہ ، تا کہ شاعر دنیا کو بتا سکیں کہ سرد چاندنی راتیں کتیی حسین ہوتیں ہیں اور گرم دوپہر میں لسی پینے کا کیا مزہ آتا ہے یا پھر ساون میں جھولا ڈال کہ کس کو بلایا جاتا ہے  ، جاڑوں میں پتوں کے گرنے کا منظر کتنا اداس ہوتا ہے ، مگر جغرافیہ کا علم صرف موسموں کا مشاہدہ کرتا ہے اسے اس شاعری سے کوئی غرض نہیں ہوتی ،
 
ایندھن ! اب جغرافیہ انسان کو ایندھن کی جگہیں بھی بتاتا ہے ، تیل سے تیل کی دھار تک ، اور کوئلے کی آگ سے میتھین کی آگ تک ، جغرافیہ ہی استعمال کیا جاتا ہے ، گھر کے چولھے سے لیکر ایک انڈسٹریل اسٹیت یا نیوکلیائی لیب تک سب جگہ ایندھن کی ضرورت ہے اور ایندھن کی تلاش جغرافیہ کی مدد سے کی جاتی ہے

انسان جغرافیہ کے علم کو اپنے عام رہن سہن سے لیکر جنگوں تک استعمال کرتا ہے ، اس لئے یہ علم بہت ضروری ہے
جغرافیہ کے علم نے دنیا کو مختلف خشکی اور تری کے بڑے خطوں میں تقسیم کیا ہے ، خشکی والے حصے براعظم کہلاتے ہیں اور تری والے بحر یعنی سمندر – یہ تقسیم کچھ یوں ہے
براعظم ایشیاء ؛ یہ سب سے بڑا خطہ ارضی ہے جس پر مخلوق خدا سب سے زیادہ ملتی ہے ، انسان جانور چرند پرند پہاڑ دریا غرض ہر طرح کی دنیا یہاں آباد ہے اور زمانہ قبل از تاریخ بھی یہ ہی خطہ مقبول تھا ، اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ لاکھوں برس پہلے سارے خشکی کے حصے جو اب الگ الگ دکھائی دیتے ہیں ، براعظم ایشیاء میں ہی تھے
افریقہ ! افریقہ کو سیاہ براعظم بھی کہا جاتا ہے جبکہ کچھ محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ انسان نے اسی براعظم پر جنم لیا ، پرسرار جھنگلوں اور صحراؤں سے بھرا یہ براعظم کئی عظیم راز بھی رکھتا ہے
یورپ ! کچھ لوگ شاید اسے اب گوروں کی دنیا بھی کہیں ، مگر یہ کبھی ایشیاء کا حصہ تھا تب اسے یوریشیا بھی کہا جاتا تھا ، اب یہاں کے لوگ ایشیاء والوں پر حکمرانی کرتے ہیں  ۔ ۔ اور خود کو بہت ہی گورا سمجھتے ہیں
جنوبی امریکا اور شمالی امریکا ! کچھ لوگ شاید اسے ریاست ہائے متحدہ سمجھیں مگر ایسا نہیں ہے امریکا بھی اصل میں ایک اور امریکہ کے اندر واقعہ ہے ، اور یہ امریکہ دو حصوں میں بٹا ہے ، شمالی اور جنوبی امریکہ ، مگر ان براعظموں کے رہنے والے خود کو امریکی نہیں کہلواتے سوائے ریاست ہائے متحدہ امریکا کے لوگوں کے
آسٹریلیا ! یہ ایک بہت بڑا جزیرہ ہے ، جس میں آسٹریلیا کا ملک شامل ہے ، نیوزی لینڈ بھی اسی جزیرے پر واقعہ ہے مگر اسے ایشیاء سے ملاتے ہوئے آسٹریلشیاء کا حصہ مانا جاتا ہے ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بھی ایشیاء کا حصہ تھا
انٹاریکٹیکا ! یہ واحد براعظم ہے جہاں ہر کوئی جانا چاہتا ہے مگر رہنا نہیں چاہتا یا رہ نہیں سکتا ، کیونکہ یہ براعظم برف سے ڈھکا ہوا ہے ، جہاں زندگی ممکن تو ہے مگر مشکل بہت ہے
۔
یہ سارے براعظم سمندر میں تیر رہے ہیں ، اور ان سمندروں کو مختلف نام دئیے گے ہیں جو یہ ہیں
بحر الکاہل ! یہ اس زمین کا سب سے بڑا حصہ ہے جسکا ایک نام ہے ، کاہل اسے اس اسلئے بھی کہتے ہیں کہ اسکا پانی بظاہر ٹہرا ہوا ہوتا ہے مگر بہت بڑے بڑے طوفان بھی اسی میں پائے جاتے ہیں ، یہ سمندر دنیا کے کتنے ہی راز اپنے اندر چھپائے ہے ، ہزاروں جہاز اس میں غرق ہوئے ہزاروں لوگوں نے اسکے اندر تک جھانکا ہے
بحر اوقیانوس! یہ بھی دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ گھیرے ہے اور یورپ امریکہ اور افریقہ کو آپس میں ملاتا ہے
بحر ہند ! ایشیا کا سب سے بڑا سمندر ہے جو افریقہ سے لیکر ایشیاء تک پھیلا ہے
بحر منجمد شمالی ! یہ سمندر برف سے ڈھکا ہوا ہے ، جو زمین کے قطب شمالی کے اردگرد پھیلا ہے
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: