اردو کی درمیانی کتاب – 5 – سائنس اور ٹیکنالوجی – نت نئی ایجادات اور انکا تعارف

جب انسان کو ہنر ہاتھ لگے تو اسنے علم کی بنیاد رکھی ، جسے سائنس کہا گیا ، اس علم میں اسنے اپنی ذات سے لے کر آسمانوں کی آتھاہ گہرایوں کا مطالعہ کیا ، اور اسکے نتیجے میں نت نئی چیزیں بنائیں، اسکی پہلی ایجاد ڈنڈا تھی ، مگر کچھ لوگ ٹیکنکلی پہیے کو پہلی ایجاد مانتے ہیں ، ڈنڈے سے انسان سیدھا چلتا ہے جبکہ پہیہ اسے گھماتا ہے ، اور اسی گھومنے کو ہی ٹیکنالوجی بھی کہتے ہیں ، انسان نے آج تک سب سے زیادہ جو چیزیں ایجاد کیں ہیں وہ ہیں ہتھیار ، نیزہ بھالا تیرکمان اور منجنیق تو بہت پرانی باتیں ہیں اب یہ مشینں کھیلوں میں استعمال ہتیں ، اسکی وجہ شاید یہ ہے کہ انسان جلد باز ہے اسے موت چاہییے اور بہت ساری چاہیے ایک وقت میں ، اسکے لئے انسان نے ایٹم بم بنایا ، اور بڑی بڑی توپیں اور آگ برسانے والے طیارے اور مزائیل بنائے ، مگر اب بھی اسے قرار نہیں  ۔ ۔ وہ اس سے بھی بڑھنا چاہتا ہے ، وہ موت کو مارنے کے لئے کلوننگ کر رہا ہے ، وہ زندگی کو بچانے کے لئے نت نئی دوائیں بنا رہا ہے ، مگر اپنے رویے میں وہ ہی ہزاروں برس پرانا انسان ہے ، موجودہ دور کی چند ایجادات کا تعارف درج ذیل ہے
 
ٹیلی ویژن ؛ فاصلوں کو مٹا کر اور اپنی تنہائی کو انسان نے اس چھوٹے سے چمکیلے ڈبے میں لا رکھا ہے ، خبریں ہوں یا موسیقی ، تمثیلیں ہوں یا مباحثیں ، تاریخ ہو یا ادب سائنس ہو یا مذہب سب کو اس کوزے میں بند کر کہ گھر گھر میں پہنچا دیا ہے انسان نے ، اب یہ ہر گھر کی ضرورت ہی نہیں مجبور بھی ہے
 
ٹیلی فون ؛ تنہائی کو دور کرنے کے لئے ٹی وی کو صرف سنا جا سکتا ہے ، مگر ٹیلیفون پر بولا بھی جا سکتا ہے ، پہلے یہ امارت کی نشانی تھا اب کچھ بھی نہیں ہے ، جسکو اسکی ضرورت نہیں اسکے پاس بھی ہے ، پہلے یہ ساکت تھا اب متحرک ہے ، انسان کو جتنا زیاد ایک دوسرے کے ساتھ اسنے ملایا ہے اتنا ہی دور بھی کر دیا ہے ، پہلے انسان مصافحہ اور معانقہ کرتا تھا اب ہیلو ہائے اور بائے کرتا ہے اور یہ سب کرامات اسی فون کی بدولت ہیں
 
ذرائعے نقل و حمل ؛ زمانہ قدیم میں انسان نے جانوروں کو اپنا تابع بنایا اور انسے نقل و حمل کا کام لیا ، مگر جب انسان کو اپنی تیزی کا علم ہوا تو اسنے ریل گاڑیاں اور ہوائی جہاز بنائے ، سمندروں کے سینے پر اپنے بحری بیڑے رکھے اور تیزی کو اپنا ساتھی بنایا ، آج انسان آواز سے زیادہ تیز ہے ، شاید اسی لئے وہ بہت ساری آوازیں سن نہیں پاتا ، یا پھر وہ خلا میں جا چکا ہے اسلئے وہاں آواز ہی نہیں ہوتی
 
کمپیوٹر ! انسان نے جو بھی چیز ایجاد کی قدرت کی ہی کاری گری کو دیکھ کر کی ، اسنے پرندوں سے گھونسلہ بنانا سیکھا ، اسنے سمندری جانوروں سے تیرنا اور ڈبونا سیکھا اسنے پرندوں سے اڑان سیکھی چرندوں سے تیزی لی اور ایسے ہی سب کچھ مگر انسان نے خود کو دیکھکر ایک ہی چیز بنائی وہ ہے کمپیوٹر ، دماغ کے اس سانچے سے انسان نے ہر طرح کے کام لئے ہیں اور لے رہا ہے ، گھر کی رکھوالی سے لے کر کائنات کے سربستہ رازوں تک اسنے کمپیوٹر کو استعمال کیا ہے ، ریموٹ کنٹرول سے لے کر مصنوعی ذھانت تک اپنے آپ کو آرام دیا ہے ، اپنی حقیقی زندگی کو تخیلاتی بنا دیا ہے ، اب وہ ویب سپیس سے لے کر کائناتی سپیس تک اس مشین کو ساتھ لئے پھرتا ہے  ۔ ۔ ۔
 
بجلی ! آج سے صرف دو سو سال پہلے تک کا انسان بجلی سے واقف نہیں تھا ، تیسری دنیا کے بیشتر علاقے ابھی تک اس ایجاد سے مستفید نہیں ہو پائے ، مگر بجلی اوپر بیان کی گئی تمام ایجادوں کی ماں ہے ، اسلئے تمام ایجادوں کو استعمال کرنے کے لئے اسکا ہونا ضروری ہے ، امیر ممالک میں بجلی پیدا ہوتی ہے ، غریب ممالک میں گرتی ہے ، اور غریبوں کو پکڑتی ہے ، محلوں میں بجلی جلتی ہے ، جھونپڑیوں میں جلاتی ہے ، کچھ ممالک میں اسے آنے جانے کے لئے رکھا جاتا ہے جسے لوڈ شڈنگ بھی کہتے ہیں  ۔ ۔۔
 
آج دنیا کی نت نئی ایجادات میں انسان ڈوب چکا ہے ، اسکی زندگی مشینی ہو چکی ہے ، گو وہ جانتا ہے کہ جسمانی طور پر وہ مشینوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا مگر ذھنی طور پر وہ ہر طرح کی جنگ کے لئے تیار ہے
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: