اردو کی درمیانی کتاب – 10 – کیمیاء

میر تقی میر کا شعر ہے ، لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام ، آفاق کی اس شیشہ کیماء گری کا ، اس شعر سے وضاحت ہوتی ہے کہ میر صاحب ایک کیماء گر بھی تھے ، کیمیاء کا بنیادی مقصد سونے بنانے کا طریقہ ایجاد کرنا ہے ، مگر اس چکر میں کیمیاء نے بہت کچھ دوسرا بنا لیا ہے ، جس میں تیزابوں سے لے کر ایٹم بم تک اسی علم کی مرہون منت ہے ، اس علم میں مادے کو توڑا جوڑا جاتا ہے ، اور طرح طرح کے دوسرے مادے جو کسی بھی حالت میں ہوں یعنی ٹھوس ، مائع یا گیس بنائے اور بگاڑے جاتے ہیں ، انسان کے سانس لینے کے عمل سے لے کر کائنات میں ہونے والے مظاہر تک سب کیمیاء گری میں آتے ہیں
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: