اردو کی درمیانی کتاب – 3 -تاریخ

مذہب کے بعد دنیا کی اہم ترین چیز تاریخ ہے ، تاریخ ہمیں زمانے کا بتاتی ہے ، تاریخ میں دنیا بھر کے فن شامل ہو گئے ہیں ، دنیا کب بنی ، کس نے بنائی ، کیوں بنائی ، کب تک رہے گی کیوں رہے گی اور کیسے رہے گی ، تاریخ سے کچھ لوگ سبق لیتے ہیں ، اور کچھ سبق حاصل کرتے ہیں ، اور باقی بچ جانے والے اس پر بحث کرتے ہیں ۔ دنیا میں تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے
جب انسان نہیں تھا
جب انسان بندر تھا
جب انسان انسان بنا
جب انسان نے سیکھا
جب انسان نے اپنایا
جب انسان نے بھلا دیا
حال کا انسان
مستقبل کا انسان
 
١- جب انسان نہیں تھا
اصل میں زمین کی یادوں میں ایک وہ ہی زمانہ امن کا تھا ، جب انسان نہیں تھا ، تو بڑے بڑے جانور تھے ، بڑے پہاڑ تھے ، بڑے درخت و دریا تھے ، سب کچھ بڑا بڑا تھا ، یہ وہ زمانہ تھا جب سورج طلوع ہوتا تو اس کرنیں اتنی شفاف ہوتیں کہ موتیوں کی مالا بناتی ٹہرے پانیوں پر ، سب کچھ قدرتی تھا ، آسماں برستا تھا تو پانی شفاف برساتا تھا ، ہوا چلتی تو مہک ساتھ ہوتی ، اور پھر عقل نے جنم لیا  ۔ ۔اور انسان ایک مخلوق بنا
 
٢- جب انسان بندر تھا
یہ ایک نقطہ معترضہ ہے ، کہ انسان پہلے بندر تھا کہ نہیں ، مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ بندر پہلے انسان نہیں تھے ، اگر ایسا کہا جائے تو بندر ہو سکتا ہے برا مان جائیں ، ویسے بھی انسانوں کو خود پچھلی صدی میں ہی پتا چلا کہ انکے پتا بندر تھے ، ورنہ اس سے پہلے جتنے بھی لوگ گذرے وہ اس نادانی میں رہے کہ وہ ہمشہ سے ہی انسان تھے
 
٣- جب انسان انسان بنا
یہ بھی ایک مستقل بحث ہے کہ انسان انسان بنا ہے کہ نہیں ، کیونکہ جبلی طور پر انسان ویسا ہی ہے جیسے ہزاروں برس پہلے تھا ، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بندروں کو انسان سمجھنے کی وجہ سے بندروں نے انسان کو خود سے الگ کر لیا ، اور انسان جو بندر تھا یا نہیں تھا ، انسان بن گیا ، “بندے دا پتر“ اسی زمانے کی اصطلاح لگتی ہے
 
٤ – جب انسان نے سیکھا
جب انسان خود کو انسان سمجھنے لگا تو اسے خود کو بندروں سے الگ ثابت کرنا پڑا ، اسکے لئے اسنے اپنے اردگرد دیکھا ، تو پتہ چلا کہ اسکے ہاتھ پاؤں اور باقی جسم بندروں کے مقابلے میں کافی مختلف ہے ، تو اسے سردی سے بچنے کے لئے درختوں کے پتوں کا استعمال سیکھا ، پھر اسنے ڈنڈوں کی مدد سے ایک دوسرے کی خبر لی اس سے پہلے دست بدست لڑائی ہوتی تھی ، ڈنڈا انسان کی پہلی ایجاد ہے ، اور آج دن تک اسی ڈنڈے کی مدد سے انسان کو انسان بنایا جاتا ہے ، اور یہ ہی ڈنڈا انسان کو سیکھاتا ہے  ۔ ۔ ۔
 
٥- جب انسان نے اپنایا
-ڈنڈے کے استعمال نے انسان کو طاقت عطا کی ، اور انسان نے دنیا میں موجود مختلف اشکال اور افکار سے ڈنڈے کے علاوہ بھی چیزیں بنائی اور دنیا کو اپنانا شروع کیا ۔ ان دریافتوں میں نمایاں آگ ، پہیہ اور نوکدار اور تیز دھار اوزاروں کا استعمال ہے ، انسان نے زمین کو اپنایا تو زمین سے اسے طرح طرح کی دھاتیں ملیں ، پہلے ڈنڈا لکٹری کا تھا ، پھر تراشیدہ ہوا ، پھر لوہے کا بنا ، پھر چاندی کا اور پھر سونے کا ، اور انسان نے دھاتوں کو اپنا لیا  ۔ ۔۔
 
٦- جب انسان نے بھلا دیا
یہ بھی ایک ایسا دور ہے جس میں انسان نے خود کو بھلا دیا ، اسی دور کو کچھ مورخ تہذیب کا دور کہتے ہیں ، اس میں انسان نے گروہ بنائے ، جنگیں لڑیں ، بڑے بڑے محلات بنائے اور جلائے ، بڑے بڑے سورما اور بزدل پیدا کئے ، انسان نے جب خود کو بھلا دیا وہ انسان سے شیطان اور خدا بن بیٹھا اور زمین کو کھود ڈالا ، چاند پر جا پہنچا ، سمندورں کے تہہ میں گیا ، خلا میں خود کو گم کر لیا ،  مگر اسنے خود کو بھلا دیا  ۔ ۔ ۔
 
٧ – حال کا انسان
حال کا انسان مشینوں اور مصیبتوں کے درمیان پھنسا ہوا ہے ، وہ ڈنڈے سے ہانکا جاتا ہے ، شکار کرتا ہے شکار ہوتا ہے ،اسے اسکا ماضی شاندار تو لگتا ہے مگر اسے اپناتا نہیں وہ اپنے مستقل سے بے زار بھی ہے اور ہشیار بھی ، آج کا انسان اپنے ماحول کو بدل رہا ہے ، گرمی کو سردی میں اور بہار کو خزاں میں بدلنا چاہتا ہے ، پہلے وہ سورج کو پوجتا تھا اب سورج کھوجتا ہے ، پہلے وہ جانوروں سے کام لیتا تھا ، اب انہیں چڑیا گھر کی زینت بناتا ہے ، پہلے انسان زندہ رہنے کے لئے کھاتا تھا اب کھانے کے لئے زندہ رہتا ہے  ۔ ۔ ۔ انسان کا حال اسکے ماضی جیسا ہی ہے بس اسکے اردگرد پہاڑ قدرتی نہیں اسکے اپنے بنائے ہوئے ہیں
 
مستقبل کا انسان
 انسان خود کو مستقبل میں اس دنیا سے باہر دیکھ رہا ہے ، وہ چاند پر بستیاں بسانا چاہتا ہے ، وہ مریخ کے مخلوق سے ملنا چاہتا ہے ، وہ تاریک خلا میں جانا چاہتا ہے ، وہ زمیں کے رازوں سے واقف ہونے کے بعد اب ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے ، وہ موت کو مارنا چاہتا ہے ، وہ زندگی کو لمبا کر رہا ہے ، وہ نت نئے ہتھیار بنانے جا رہا ہے ، تاکہ جب اگلی جنگ ہو وہ سیاروں اور کہکشاؤں کے درمیان ہو  ۔ ۔
 
یہ تو تھی تاریخ انساں، جو انسان نے خود لکھی ، مگر حقیقی تاریخ کیا ہے ، یہ تو بس قدرت ہی جانتی ہے  ۔ ۔  یا پھر ایمان والے
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: