کاش کوئی مجھ کو سمجھاتا

پتہ نہیں ان دو وڈیو کا آپس میں کیا تعلق ہے ، مگر مجھے بہت زیادہ لگ رہا ہے ، کچھ عرصہ پہلے ایک یورپی نامور شکاری(اسٹیو ارون) جسے مگرمچھوں کا شکاری بھی کہا جاتا تھا ایک حادثے میں ہلاک ہو گیا ، اس وقت اتفاق سے کیمرہ کھلا تھا اور اسکی فلمبندی ہو گئی تھی ، اسکی یہ وڈیو اسکی بیوہ کے حوالے کی گئی اور ساتھ میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ اسکی تمام کاپیاں تلف کر دی گئیں ہیں اور ایک ہی کاپی کو رکھا گیا ہے اور وہ بھی اسکی بیوہ کے حوالے کر دی گئی ہے اور یہ فلم کبھی بھی کسی چینل پر نہیں دکھائی جائے گی کیونکہ یہ ایک انسان کے مرنے کی فلم ہے ، اور دوسری طرف ایک دوسرے انسان کو جسے خود ہی مارا گیا اس کی فلمبندی کو باقاعدہ طور پر بار بار ساری دنیا میں دکھایا گیا اور اسکی وجہ سے ننھنے ذہنوں پر کیا اثر ہوا ، پاکستان سے امریکہ تک بچے اس موت کی نقل کرتے ہوئے موت کی وادی میں جا پہنچے  ۔ ۔ ۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ یہ سب کیا ہے ، اور ان دونوں موتوں کی فلموں میں کیا فرق تھا کہ ایک پر پابندی اور دوسری کو شاندار نمائش کی چیز بنا دیا گیا  ۔ ۔ ۔ ۔  شاید کوئی مجھے بتائے  ۔ ۔ ۔
کاش کوئی مجھ کو سمجھاتا
میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا
Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on جنوری 7, 2007 at 8:18 صبح

    دُنيا کی يہ ہيرا پھيری
    عيش اُن کی لاش پہ ميری

    جواب دیں

  2. Posted by Unknown on جنوری 8, 2007 at 5:10 شام

    بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعّی بھی، منصف بھیکسے وکیل کریں، کِس سے منصفی چاہیں

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: