مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا

ایک بار کسی نے مجھ سے پوچھا آپ کی آئیڈیل شخصیت کون سی ہے ، تو میں نے بلا جھجھک قائد اعظم کا نام لے لیا، وہ صاحب کافی زیادہ مسلمان تھے کہنے لگے ایک مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ نبی اکرم (ص) کے سوا کسی اور کو ایڈیل بنائے  ۔ ۔ ۔ تو میں نے جواب دیا آئیڈیل کا مطلب وہ ہے کہ جو عام لوگوں میں سے ہو ، ورنہ کسی مسلمان کے لئے نبی اکرم(ص) سے بڑھ کر کوئی ذات ہو ہی نہیں سکتی  اور ہمارے لئے وہ مشعل راہ ہی نہیں بلکہ مینارہ نور ہیں جو ہماری منزل ہونی چاہیے ، خیر اکثر میں بھی سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ آخر ایسی کیا بات ہے اس جناح میں کہ میرے منہ سے بے اختیار یہ نام نکلا  ۔ ۔  تو مجھے پتہ چلا کہ  یہ شخص دنیا کے بہت سارے لوگوں سے مختلف تھا ، وہ ایک تاجر کا بیٹا تھا ، جس نے بچپن بیماریوں میں گذارا اور پھر ایک جوان بیریسٹر بن کہ بمبئی کی عدالتوں میں اپنی پہچان کروائی ، اس دوران ایک عام انسان کی طرح اسنے والدین کی پسند کی شادی کی ، اور پھر اپنی جوانی میں ویسی ہی محبت کی جیسی کوئی بھی جوان کرتا ۔ ۔پھر اپنے اصول بنائے اور انہیں اصولوں پر جیا ، مرتے دم تک اپنے اوپر آنچ نہ آنے دی ، ایک عظیم مقصد کے لئے اپنی فیملی سے بچھڑ گیا ، وہ پھر بھی عام انسان رہا ، جس نے غلطیاں کیں ، مانیں اور جب اپنی بات کو سچ سمجھا تو دلائل کے انبار لگا دئیے  ۔ ۔ دشمنوں سے اتنی خداری سے ملا کہ وہ بھی تعریف کئے بنا نہ رہ سکے ، اور تنقید بھی ایسے سہی جیسے کسی جنگ میں ڈھال کا استعمال ۔ ۔
میں نے ابھی تک جتنا بھی اس شخص کے بارے میں سنا پڑھا اور دیکھا ہے ، مجھے یہ شخص عام آدمی لگا ، جسے اسکی لگن نے خاص بنا دیا  ۔ ۔  وہ اپنے اصولوں کی جنگ کو مرتے دم تک لڑتا رہا ، اسکا ہتھیار اسکا قلم تھا اور میدان جنگ پورا ہندوستان  ۔ ۔ بلکہ اس وقت کی سپر پاور  ۔ ۔ ۔  ہمیں اسنے ایک سوچ دی ، جس سوچ کا نام پاکستان ہے ، جناح نے زمین کا ٹکرا نہیں بنایا ایک سوچ بنائی ، مگر ہم بہت جلد اس سوچ کو بھول گئے ، ایمان ، اتحاد ، تنظیم صرف کتابوں کی زینت بن کہ رہ گئے ہیں ، کام کام اور صرف کام کا نعرہ کب کا ختم ہو چکا ہے ، وہ قوم جسنے لاکھوں انسانوں کے خون بہنے کے بعد جنم لیا تھا وہ قوم آج دنیا کی نظروں میں شرمساری ہے ، آج ہم کیا کہ رہے ہیں کیا کر رہے ہیں ، پتہ نہیں کیوں دل کہتا ہے کہ  ۔ ۔ ۔ میں اپنا آئیڈیل بدل لوں ۔ ۔ ۔ میں ایک اصول پسند آدمی کی پیروی نہیں کر سکتا تو پھر میں رحمت العالمین (ص) سے اپنی نسبت بھی نہیں کر سکتا  ۔ ۔ ۔ کاش میں شرمسار ہو سکتا مگر دنیا کی طلب نے اتنا کم ظرف کر دیا ہے کہ شرمساری تو ایک طرف مجھے کبھی یہ سوچنے کا بھی موقع نہیں ملا کہ میں کچھ غلط ہوں  ۔ ۔ ۔
آج روشن خیال لوگوں میں اپنا آئڈیل ضرور تلاش کروں گا ، مگر شاید میرا قائد نہ مل سکے ، اور یہ ہی وجہ ہے کہ یہ قافلہ بنا امیر کارواں کے بھٹک رہا ہے ، آج منزل کا پتہ نہیں ، راستوں کا اندازہ نہیں ، اور ہم سفر کی پہچان نہیں  ۔ ۔ ۔ مشکلیں ہی مشکلیں ہیں  ۔ ۔ ۔  مگر بابائے قوم کے یہ الفاظ ہمیشہ کانوں میں گونجتے ہیں کہ “مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا“  بس ہی جملہ اس سیکولر اور مغربی سوٹ والے کی شخصیت کا غماض ہے  ۔ ۔  اور مجھے بے اختیا ر آئڈیل کے لئے اسی کا نام یاد آتا ہے   ۔ ۔ ۔
Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on دسمبر 25, 2006 at 3:03 شام

    ميرا آئيڈيل بھی قائداعظم ہيں ۔ اور پيشوا رسول اکرم صلعم
    جس قوم کو يہ بھی بھول گيا کہ ان کو پيدا کرن اور مارنے والا کون ہے وہ قائداعظم کو کيا ياد رکھے گی؟

    ايک اطلاع ۔ بلاگ سپاٹ پر پابندی کی وجہ سے پاکستان ميں بسنے والے بلاگ سپاٹ کے بلاگ کھولنے ميں دقت محسوس کرتے ہيں چنانچہ ميں نے اپنے بلاگ مندرجہ ذيل جگہوں پر منتقل کر ديئے ہيں ۔ اپنا ريکارڈ درست فرما ليجئے  ۔ شکريہ
      ۔  اُردو بلاگ ۔ ميں کيا ہوںhttp://iftikharajmal.wordpress.com
      ۔  انگريزی بلاگ ۔ حقيقت اکثر تلخ ہوتی ہے http://iabhopal.wordpress.com
     ۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: