بھلکڑ قوم

شاعر نے تو کہا تھا کہ یاد ماضی عذاب ہے ، چھین لے مجھ سے حافظہ میرا ، آج اس بات کا احساس کچھ زیادہ ہی نمایاں ہو رہا ھے ، ہماری پاکستانی قوم کو اللہ نے یہ خوب بدرجہ اتم دی ہے ، ہم بھول جاتے ہیں ، بہت جلدی  ۔ ۔ ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج دن تک ہم نہ تو کچھ حاصل کر پائے اور نہ سبق سیکھ پائے ، ہماری قوم کے بھولنے کی تاریخ کافی پرانی ہے اگر ہم قائد کے فرمان کو حقیقت مان لیں کہ “پاکستان تب ہی بن گیا تھا جب پہلا ہندوستانی مسلمان ہوا تھا “  تو ہم وہیں سے بھول گئے ، ہم اس بے بس بیٹی کی فریاد بھول گئے جسکے جواب میں ہندوستان پر مسلمانوں نے لشکر چڑھا دئیے تھے ، ہم بھول گئے کہ جب اس دیس میں دودھ اور شہد کی ندیاں بہا کرتیں تھیں تو ہم کیا “گل“ کھلاتے رہے ہیں ، ہم بھول گئے کہ جب اکبر جیسے “سیکولر“ بادشاہ کے دربار میں تان سین اور بیربل جیسے “کافر“ بھی رتبے کے حقدار تھے ہم بھول گئے کہ جہانگیر کے عدل نے “شیر افگن“  سے کیا حاصل کیا ، ہم بھول گئے کہ اسی دیس میں موسیقی کا “جنازہ“ بھی نکلا تھا  ۔ ۔ ۔ ہم بھول گئے کہ بنگال اور سرنگا پٹم میں کیا کچھ ہوا تھا ، ہم ٹیپو سلطان ، تیتو میر جیسے لوگوں کے “فلسفے“ کو بھول گئے ، ہم عظیم مغلیہ سلطنت کو بھول گئے جو ١٨٥٧ میں رنگون میں قید کر کے ختم کر دی ، ہم نے دلی کے “لٹنے“ کو بھلا دیا ، ہمیں لالہ چھنا رام کو اپنا سب کچھ بیچ دیا اور پھر یہ بھول گئے کہ ہم کون تھے  ۔ ۔ ۔ ہم نے اپنی پہچان کرانے والے “سید احمد خان“ کو کہاں یاد رکھا ہم نے  چند سرمایہ داروں اور امراء کے ہاتھوں اپنی نسل کے بکنے کو کہاں یاد رکھا  ۔ ۔ ۔ اور پھر ہم نے “بی اماں“ جیسی ماں کو بھی بھلا دیا ، بیٹا خلافت پے جان دے دو  ۔۔ ۔ مگر ہم خلافت کے خلاف ہو گئے اور پھر اسے بھی بھول گئے ، پھر ہم نے کچھ شخصوں کو یادگار بنایا ، شکوہ کرنے والے اقبال کو یاد رکھا جواب شکوہ والے رب کو بھول گئے ، ہم نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل “مسٹر جناح“ کو یاد رکھا اس قوم کے ناتواں رہبر “محمد علی “ کو بھول گئے  ۔ ۔ ۔
ہم تو جدید دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کو بھول گئے ، ان کٹی ٹرینوں کو بھول گئے ، ان جلتی حویلیوں ، اور سر سے اٹھی رداؤں کو بھول گئے ، ہم بھول گئے ان بوڑھی آنکھوں کو جنہوں نے اس زمیں پر قدم رکھکر اسے آنکھوں سے چوما  ۔ ۔  ہم بھول گئے  ۔ ۔ ۔ ان کروڑوں کو جنہوں نے اس زمین کا خواب دیکھا اور کبھی اس پر قدم نہ رکھ پائے ، وہ حیدرآباد دکن والے وہ آسام والے وہ دلی والے وہ لکھنو والے اور وہ  ۔ ۔ بنگال والے  ۔ ۔ ۔ کلکتے کی گلیوں میں بہتا خون تو غیروں نے بہایا سو ہم بھول گئے ، مگر ڈھاکا کی سڑکوں پر اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کا خون بھی بھول گئے!!! ہم ١٩٦٥ میں ایک قوم ہو کر لڑے ، راجشاہی سے کراچی تک کے سمندر میں لڑے ، “غازی“ لڑی ، “میسور“ لڑا  ۔ ۔ ۔ “ٹیپو“ لڑا ۔ ۔ ۔ اور ہم بھول گئے !!!! ہم بھول گئے  ۔ ۔ ۔  ہم جب ٹوٹے ، اور پھر جب ١٩٧٧ میں بکھر گئے  ۔ ۔ ۔۔ اور پھر کراچی کی گلیوں کے خون کو بھول گئے  ۔ ۔ ۔ ہم سب بھول گئے  ۔ ۔ ۔ اور اب بھی بھول رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور یہ ہی بھول ہماری سب سے بڑی بھول ہے !!!
مگر شاید ہم دنیا کی سب سے بڑی بھلکڑ قوم ہیں  ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ ۔
Advertisements

2 responses to this post.

  1. Posted by Iftikhar Ajmal on دسمبر 17, 2006 at 7:26 صبح

    ہاں ۔ آپ ٹھيک کہتے ہيں ليکن ميں تو آج تک نہ بھول پايا کہ نو دس سال کی عمر ميں ميں نے کيا غدر ديکھا اور چند ماہ کس سراسيمگی کی حالت ميں گذارے تھے ۔ وہ سن 1947 کے شب و روز تو ہر وقت ميرے تخيّل کے پردہ پر ايک متحرک فلم کی طرح چلتے رہتے ہيں اور ميرا کليجہ منہ کو اُچھالتے رہتے ہيں ۔
     ترپن سال قبل ہمارے تاريخ کے اُستاذ بھی کہتے تھے کہ مسلمانوں کی تاريخ [٠مضمون] بڑی کمزور ہے ۔ ہماری قوم کے افراد کو گذرے کل کی بات ياد نہيں رہتی کہ اس سے سبق حاصل کريں ۔   

    جواب دیں

  2. Posted by Iftikhar Ajmal on دسمبر 24, 2006 at 11:27 صبح

    بلاگ سپاٹ پر پابندی کی وجہ سے پاکستان ميں بسنے والے بلاگ سپاٹ کے بلاگ کھولنے ميں دقت محسوس کرتے ہيں ۔ چنانچہ ميں نے اپنے بلاگ مندرجہ ذيل جگہوں پر منتقل کر ديئے ہيں ۔ اپنا ريکارڈ درست فرما ليجئے  ۔ شکريہ
      ۔  اُردو بلاگ ۔ ميں کيا ہوںhttp://iftikharajmal.wordpress.com
      ۔  انگريزی بلاگ ۔ حقيقت اکثر تلخ ہوتی ہے http://iabhopal.wordpress.com

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: