دل و روح

 
 
دل کہتا ہے کہ لکھ
روح کہتی ہے چپ رہ
جو واقعہ کل ہوا تھا
بھول جا
آگے کا سوچ ۔ آگے کی باش
 
دل کہتا ہے چل
روح کہتی ہے رک
جو سانحہ کل ہوا تھا
وہاں نہ جا
نئے راستے ۔ نئی منزلیں تلاش
 
دل کہتا ہے رو
روح کہتی ہے خاموش
جو کچھ بھی کل ہوا تھا
گذر چکا ہے
درد بھول جا ، خوشیاں تراش
 
دل کہتا ہے ، روح سے لڑ
روح کہتی ہے ، دل سے ڈر
واقعہ تو کل کا ہی ہے
دل و روح  ۔ ۔ ۔ پر ہے آج بھی اثر
مگر ہیں دونوں ہی سوچ سے قلاش
Advertisements

One response to this post.

  1. Posted by Sayyeda on دسمبر 16, 2006 at 1:27 شام

    اسلام و علیکمتبصرے اور دعا  کے لیے بہت بہت شکریہاور کاش کہ یہ شعر کچھ پہلے مل پاتا تو شاید میں اسے پوسٹ پر ہی بلوگ کر دیتی۔ خیر۔۔۔آپ کی اسپیس کافی اچھی ہے۔۔۔۔ کافی معیار چناؤ ہے شاعری کا۔دعاؤں میں یاد۔۔۔۔اللہ حافظ
    صبا سید

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: