زندگی کا لمبا ترین سفر

٩ نومبر ٢٠٠٦ کو میں نے اپنی زندگی کا لمبا ترین سفر کیا ،دبئی سے راوالپنڈی تک کا۔ رات کے تقریباَ تین مجھے پاکستان سے بھائی کی کال ملی ، کہ میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے ، اچانک جیسے وقت تھم گیا ، مجھے نہیں سمجھ آیا کیا ہوا ، میں فوراَ دبئی ائیرپورٹ پہنچا پہلی سیٹ پی آئی اے کی صبح ساڑھے دس بجے والی ملی ، میں نے گھر واپس آ کر اپنی وائف کے ساتھ مل کر ضروری پیکنگ کی ، اس دوران صبح کے چھ بج چکے تھے میں نے اپنے ارباب کو فون کیا وہ سورھا تھا مگر اللہ بھلا کرے اس نے فوراَ ہی آفس میں میرے پاسپورٹ اور سیلری کا کہ دیا ، اور میں نو بجے ائیر پورٹ پر پہنچ گیا ، اس دوران گھر (پاکستان) میں بتا دیا کہ میں دوپہر تک پہنچ جاؤں گا انہوں نے جنازہ عصر کے بعد کا رکھ دیا  ۔ ۔ ۔ مگر  ۔ ۔ ۔ ۔ ساڑھے دس بجے والی فلائیٹ بارہ بجے تک نہ اڑ سکی  ۔ ۔ ۔ اور میں  ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ بھی نہ کر سکا ۔ ۔ کیونکہ اسلام آباد کی اگلی فلائیٹ شام ساڑھے چھے بجے کی تھی ، پھر میں ساڑھے تین گھنٹے کی پرواز کے بعد جب اسلام آباد ائیر پورٹ پر اترا تو شام کے پانچ بج چکے تھے ، اور مجھے بھائی نے موبائیل پر بتایا کہ جنازہ ہو چکا ہے اب تدفین کے لئے تمہارا انتظار ہے  ۔ ۔ ۔ میرا چھوٹا بھائی علی کراچی میں تھا اسکی فلائٹ بھی ایک گھنٹہ لیٹ تھی اور وہ ساڑھے پانچ بجے پہنچی ۔۔ ۔۔ میں نے ائیرپورٹ کے عملے سے گزارش کی کہ میری امیگریشن جلدی کر دیں اور اللہ بھلا کرے انکا کہ فوراَ میں باہر آ گیا ، اب بھائی کی فلایٹ بھی لیٹ تھی  ۔ ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے آج ہی سب کچھ لیٹ ہونا ہے ، وقت گذرتا جا رہا تھا بھائی مجھ سے فون پر کہ رہا تھا کہ جلدی پہنچو میت کو جنازے کے بعد انتظار نہیں کرواتے  ۔ ۔۔  مگر میں کیا کرتا  ۔ ۔ ۔ مجھے اسلام آباد سے اپنے گاؤں جانا تھا جو پنڈی سے تیس میل کے فاصلے پر ہے ، پھر بھائی بھی آ گیا ، میرے کزن نے پہلے سے ہی گاؤں کے ایک لڑکے کو گاڑی کا کہا تھا ، اسے پتہ تھا کہ میں کون ہوں  ۔ ۔ ۔ اسنے واقعٰی ہی تیز گاڑی بھگائی ، مگر ہر سگنل بند  ۔  ۔ اور تو اور مندرہ کا ریلوے پھاٹک بند  ۔ ۔ ۔ ٹریفک بری طرح سے جام تھا ۔ ۔ ۔ اسنے کچے میں گاڑی اتاری اور پتھروں اور کیچڑ سے ہوتا ہوا پھاٹک تک پہنچا اور پھر بھی پھاٹک بند  ۔ ۔اور ریل بھی مال گاڑی ایسی سست کہ لگتا تھا کہ سلو موشن میں چل رہی ہو  ۔ ۔ ۔ میری بے بسی کی انتہا تھی وہ  ۔ ۔ ۔ بھائی سے مسلسل رابطہ تھا  ۔  ۔ گاؤں کے لوگ اور برادری کے جنہیں کافی دور جانا تھا اور آخری بس بھی نکل جانے والی تھی  ۔ ۔  سب میرا انتظار کر رہے تھے  ۔ ۔ ۔ مگر میرا فاصلہ تھا کہ تیس میل جیسے تین سو میل ہو چکے تھے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گاڑی کی سپیڈ سو سے اوپر تھی مگر لگتا تھا رینگ رہی ہے  ۔ ۔ ۔ وقت کا پہیہ  ۔ ۔ ۔ شاید گھومنا بھول گیا تھا  ۔ ۔۔  بھائی کہ رہا تھا کہ ابو کو قبر میں اتار رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ میں تھا کہ  ۔ ۔ کنگ ہو کر رہ گیا تھا  ۔۔۔  اور جب میں گاؤں میں داخل ہوا تو شام کے چھ بج رہے تھے  ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے ماموں تایا اور بھائی اور کزنز سب کھڑے تھے میں جیسے گاڑی سے بھاگا مگر گندم کی بوائی ہوئی ہوئی تھی  ۔ ۔ ۔ کھیت میں نرم مٹی تھی  ۔ ۔ میں جو شہر کے سخت فرش کا عادی تھا مجھے چلنا کہاں آتا تھا ایسے کھیتوں میں میرے ماموں بھائی اور کزنز نے مجھے پکڑا قبر تک لائے ۔۔۔ میرے ابو قبر میں تھے ، انکا چہرہ میرے سامنے تھا  ۔ ۔۔ میں چلایا رویا ابو مجھے سے بولیے مگر  ۔ ۔ ۔ اب شاید لفظ ختم ہو چکے تھے  ۔ ۔ ۔ میرا سفر ختم ہو چکا تھا  ۔ ۔ ۔  وقت کی گھڑیاں پھر چلنے لگی جیسے انہیں پر لگ گئے ہوں  ۔۔  تھوڑی دیر بعد وہاں مٹی کا ایک ڈھیر نظر آیا گلاب کی پتیوں سے ڈھکا ہوا چمچماتی  ہوئی پھولوں کی چادر سے ڈھکا ہوا  ۔ ۔ ۔ میرا سفر  ۔ ۔ بہت لمبا تھا  ۔ ۔ ۔میرے والد کا سفر بھی بہت مشکل تھا اور اب وہ ایک ابدی سفر پر روانہ ہو چکے تھے ہمیں اکیلا چھوڑ کر  ۔ ۔ ۔  میرے سامنے میرا بچپن تھا  ۔ ۔ ۔ جب میں ویسپا پر ابو کے ساتھ بازار جاتا تھا ، پھر مجھے یاد آیا کہ جب پہلی بار ابو سعودیہ گئے تو میں کتنا رویا تھا کہ میں ساتھ جاؤں گا  ۔ ۔ ۔ اور پھر کتنی بار انہیں سعودیہ کے لئے رخصت کیا مگر اب کہ بار یہ رخصتی  ۔ ۔  ہمیشہ کے لئے تھی ۔ ۔ ۔ میں جب بیمار ہوا تو میرا پورا جسم مفلوج ہو گیا تھا  ۔ ۔ ۔ میرے ابو مجھے اٹھا کر باتھ روم لے جاتے اپنے ہاتھ سے میری گندگی صاف کرتے  ۔ ۔  اور اسی طرح سے مجھے ایک دفعہ اٹھاتے ہوئے انہیں زور لگنے کی وجہ سے گردوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی  ۔ ۔ ۔ اور میرے والد کتنے ہی سال اس بیماری سے لڑتے رہے  ۔ ۔ ۔پھر جب آج سے پندرہ برس پہلے میں نے کہا ابو اب میں گھر کو سنبھال سکتا ہوں آپ سعودیہ سے آ جائیں اور مجھے خدمت کا موقع دیں  ۔ ۔ ۔ مگر انہوں نے آنے میں ہی بہت ٹائیم لگایا میں یو اے ای میں آ گیا  ۔ ۔ ۔ سال میں  دس پندرہ دن کی چھٹی جاتا  ۔ ۔ ۔اور آ جاتا  ۔ ۔ ۔ میں انکی خدمت کہاں کر سکا  ۔ ۔ ۔ ابو  ۔ ۔ میں شرمندہ ہوں کہ میں شاید آپ کا وہ ساتھ نہیں دے سکا  جو مجھے دینا چاہیے تھا  ۔ ۔ ۔ آج میں جس پوزیشن پر ہوں اپنے والدین کی وجہ سے ہوں  ۔ ۔ ۔ میرے ابو ہمیشہ مجھے آگے بڑھنے کے لئے مدد گار رہے ، ١٩٨٨ میں جب میں کمپیوٹر کو اپنا پروفیشن بنایا تو ابو نے ہی مجھے آگے کیا وہ خود سعودیہ میں کمپوٹر پڑھاتے بھی تھے  ۔ ۔ ۔ رائیل نیوی میں اچھی پوسٹ تھی انکی  اور ہمیشہ انہوں نے مجھے اس وقت جب پاکستان میں خال خال لوگ اس پروفیشن میں تھے اور اس کی اہمیت سمجھتے تھے  ۔ ۔  انہوں نے مجھے سپورٹ کیا  ۔ ۔ ۔ کیا کیا کہوں لفظ کم ہیں اور باتیں ہزار  ۔ ۔  ۔  عام طور پر کہا جاتا ہے کہ والد سخت ہوتے ہیں اور والدہ نرم  ۔ ۔ ۔ مگر میں سب سے زیادہ مار اپنی امی سے کھائی اور سب سے زیادہ شفقت اپنے ابو سے  ۔۔ ۔ ۔ مجھے یاد ہے شاید ١٩٧٤ ٧٥ کی بات ہے میرے محلے میں ایک ہی ٹی وی تھا  ۔ ۔  اور میں نے ابو سے ٹی وی کی فرمائیش کی  ۔ ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ٹی وی ایک عیاشی تھی  ۔ ۔ ۔ میرے والد اس وقت آئی سی پی میں اسٹینوگرافر تھے اور سئیر بھی تھے  ۔ ۔ ۔ انہوں نے میری یہ فرمائیش کیسے پوری کی یہ بات مجھے ایک دہائی گذرنے کے بعد پتہ چلی اور اب جب میں خود ایک باپ ہوں مجھے پتہ چلا کہ اولاد کے لئے والدین کیا کیا کچھ کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ میرے والد نے بھی وہ سب کچھ کیا اور مجھے رونے نہیں دیا مگر آج میں رو رہا ہوں اور کوئی چپ نہیں کروا رہا  ۔ ۔ ۔ میرے ابو سب کے ساتھ ایک سے تھے ابھی جب گلی کا ایک فقیر بھی ابو کی یاد میں رویا  ۔ ۔  تو پتہ چلا کہ انہوں نے اتنے بڑے شہر میں کتنا نام کیا تھا اور کیسے سب کے ساتھ متوازن رہے  ۔ ۔ ۔۔ میں سوچتا ہی رہا کہ میں شاید کبھی بھی اس طرح کا سلوک سب کے ساتھ نہ کر سکوں کہ فقیر تا بادشاہ سب کے لئے  ۔ ۔ ۔ایک خلوص رکھوں  ۔ ۔ ۔ اور اتنی بڑی برادری کو ساتھ لے کر چلوں  ۔ ۔ ۔  ایک لمبا سفر میرے سامنے ہے  ۔ ۔ ۔بہت لمبا سفر مگر اس سفر میں میرے رہبر میرے والد ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انکا ساتھ میرے ساتھ رہے گا انشااللہ ہمیشہ  ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے ، انکے درجات بلند کرے اور انکے لئے وہ جہاں بہتر کرے  ۔ ۔ ۔ (آمین) اور مجھے اور میرے اہل خانہ کو صبر دے اور طاقت دے کہ ہم ابو کے لئے مغفرت کی دعا کرتے رہے  ۔ ۔ ۔ (آمین)
—————————————————————————
ایک گذارش ؛ جو بھی اس تحریر کو پڑھے ، میرے والد کے لئے دعائے مغفرت کرے  ۔ ۔ ۔
Advertisements

13 responses to this post.

  1. انا للہ و انا الیہ راجعوناللہ آپ کے والد کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور آپ اور آپ کی فیملی کو صبرِ جمیل عطاٗ کرے۔

    جواب دیں

  2. Posted by Iftikhar Ajmal on نومبر 19, 2006 at 2:54 شام

    اِنّا للہِ و اِنّا اليہِ راجِعون
    آپ کے محترم والد صاحب کی اس دارِ فانی سے رحلت فرمانے کا پڑھ کر رنج ہوا ۔ اللہ تعالٰی مرحوم کو جنت الفدوس ميں جگہ دے اور پسماندگان کو صبرِ جميل عطا فرمائے ۔ آمين ۔

    جواب دیں

  3. Posted by Iftikhar Ajmal on نومبر 19, 2006 at 2:54 شام

    اِنّا للہِ و اِنّا اليہِ راجِعون
    آپ کے محترم والد صاحب کی اس دارِ فانی سے رحلت فرمانے کا پڑھ کر رنج ہوا ۔ اللہ تعالٰی مرحوم کو جنت الفدوس ميں جگہ دے اور پسماندگان کو صبرِ جميل عطا فرمائے ۔ آمين ۔

    جواب دیں

  4. Posted by Iftikhar Ajmal on نومبر 19, 2006 at 3:06 شام

    معذرت خواہ ہوں ۔ اُوپرميرے بيٹے زکريا کے بعد دو ميرے پيغام ہيں جو سسٹم ميں خرابی کی وجہ سے دو بار اور بے نام چھپ گئے ہيں

    جواب دیں

  5. Posted by Mera Pakistan on نومبر 19, 2006 at 4:23 شام

    خدا آپ کے والد صاحب کو جنت الفردوس ميں جگہ عطا فرماۓ اور آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو صبرِ جميل دے۔ميرا پاکستانwww.mypakistan.com

    جواب دیں

  6. سلام
    اللہ آپکو اور آپکے گھر والوں کو صبر عطا فرمائے۔ اور مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام دے۔ آمین

    جواب دیں

  7. Posted by خاور on نومبر 19, 2006 at 7:42 شام

    اِنّا للہِ و اِنّا اليہِ راجِعوناللّه تعالی مرحوم کو غریق رحمت فرمائیں ـ اور آپنے نزدیک ان کے درجات بلند کرے ـ آمین !ـ

    جواب دیں

  8. Posted by Azhar Ul Haq on نومبر 20, 2006 at 4:50 صبح

    آپ سب دوستوں کا بہت شکریہ ، آپ کے پیغامات سے مجھے ڈھارس ملی ، اللہ آپ سب کو خوش رکھے (آمین)

    جواب دیں

  9. Posted by Saeed Ahmed on نومبر 20, 2006 at 7:04 صبح

    Azhar humnay  pahlay bohat koshish ki laikin sighn in na ho paay,
    hum sab usi kay liay hain or hum sab ko wapis usi ki tarf lot kar jana hay bay shak,
    Aap kay walid kay liay hamari dili duwa hay kay Allah un ki magfirat or bakhshish farmaay or unhain janatul firdos main jagah ata farmaay ,Aameen,
    aap kay sath jo howa us nay hamain apna waqt yaad dila dia,laikin aap hum say ziada khosh qismat hain kay apnay walid ka munh dekh lia,
    Mehar Afshan Saeed,
     

    جواب دیں

  10. اِنّا للہِ و اِنّا اليہِ راجِعوناللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔

    جواب دیں

  11. انا للہ و انا علیہ راجعوناللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں اور آپ کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔

    جواب دیں

  12. انا للہ وانا الیہ راجعون
    اظہر، مجھے بہت افسوس ہوا یہ خبر سن کر۔ آپ کی پوسٹ پڑھنے کے بعد کئی مرتبہ میری آنکھیں نم ہو چکی ہیں۔
    اللہ تعالی آپ کے والد مرحوم کے درجات بلند کرے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ آمین
    نبیل

    جواب دیں

  13. اِنّا للہِ و اِنّا اليہِ راجِعوناللہ انہیں جنت میں جگہ دےشعیب صفدر

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: