جی ہاں “بات تو کرنی پڑے گی“

کہنے کو تو بہت کچھ ہے اس سیریز اور اس موضوع پر ، مگر ابھی سیریز پوری نہیں ہوئی سو ہو سکتا ہے کہ ابھی تک کا تبصرہ اتنا مفصل نہ ہو سکے ، میری نظر میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ، جی ہاں “بات تو کرنی پڑے گی“ کیونکہ اب جنس کا بازار بہت “گرم“ ہو چکا ہے ، مغرب جس “ٹرانزیشن“ کے دور سے تقریبا ستر اسی برس پہلے گذرا تھا ، ہم اس ٹرانزیشن کے دور میں اب داخل ہو چکے ہیں ۔ مذہب خاصکر اسلام جنس کے بارے میں بہت کچھ کہتا ہے ، مگر ہم سننا نہیں چاہتے یا ہمیں سنائی نہی دیتا یا کوئی بتاتا ہی نہیں ، مثال کے طور پر قرآن کی آیت ہے کہ “مرد و عورت ایک دوسرے کے لئے پہناوا ہیں “  اس میں کتنی خوبصورتی سے مرد و عورت کے رشتے کی بات کی گئی ہے ، اور پھر دوسری بات اسلام میں بہت وضاحت سے رشتوں کو بتایا گیا ہے اور انکا احترام سکھایا گیا ہے ، مگر  اسلام کی اصل روح نہ جاننے کی وجہ سے لوگ اس “دلدل“ میں پھنس رہے ہیں ، ہمارے یہاں جنس ایک “ڈھکی ہوئی حقیقت“ ہے ، سب اسکو جانتے ہیں مگر بات نہیں کرنا چاہتے ، حتہ کہ مذہبی لوگ ہی اس چیز کے زیادہ شکار ہوتے ہیں ، خاصکر ہم جنس پرستی کے ، میرے خیال میں اس جنسی بدحالی کی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں ،
ایک ۔ مرد کے لئے عورت اور عورت کے لئے مرد  ۔۔ ۔ ایک اینٹ کتے والی چیز سمجھی جاتی ہے ، عزت کو صرف جسمانی تصور کیا جاتا ہے ذہنی عزت کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہی ہے
دوسرا ۔ وقت گذاری ، غریب ہے تو بے روزگار ہے اور یہ ہی اسکا روزگار بنتا ہے ، اور اسی میں وقت گذارتا ہے اگر امیر ہے تو اسکے لئے وقت گذاری کا اس سے بہتر مصرف نہیں
تیسرا – مذہبی تھانیدار مذہب کی روح کو سامنے نہیں لاتے ، کیونکہ اس صورت میں انکی اجارہ داری ختم ہو جاتی ہے ، وہ “حلال اور حرام“ کو ایسے بیان کرتے ہیں جیسے ایک ڈاکٹر کسی مریض کو پرھیز بتاتا ہے ، اور مریض جسکی دوا صرف غذا ہوتی ہے وہ چاہے جسمانی ہو یا روحانی دونوں صورتوں میں صحتیاب نہیں ہو سکتا  ۔۔ ۔
ہمارے معاشرے میں جنس کا لفظ ہی ایک برائی کی علامت ہے چاہے وہ مادی جنس ہو یا جسمانی یا روحانی  ۔ ۔
جوں ایلیا نے معاشرے کی اسی بے بسی اور بے چارگی کو یوں بیان کیا ہے (میری یاداشت اچھی نہیں مگر پھر بھی نظم لکھ رہا ہوں اگر آپ تصیح کر سکیں تو مہربانی ہو گی )
اے ۔۔
اے جی  ۔ ۔
سنیں جی ۔ ۔
اے سنو تو  ۔ ۔
ارے ۔ ۔
تم میرا نام کیوں نہیں لیتیں؟

 

———————————————————————————————

بی بی سی کی سیریز “بات تو کرنی پڑے گی“  پر لکھا گیا مضمون

بات تو کرنی پڑے گی

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: