آؤ مجھے رلا دو

آؤ مجھے رلا دو
————————–
اتنا خون دیکھکر بھی
میری آنکھ نم نہیں  ۔ ۔ ۔
میرے دل میں ذرا سا ۔۔۔
اٹھا کوئی بھی غم نہیں  ۔ ۔
میں صدائے درد نکالوں ۔ ۔
اتنا بھی مجھ میں دم نہیں  ۔ ۔
میں اک بجھی ہوئی شمع ہوں
مجھے جلنا سکھا دو ۔ ۔ ۔
اس الم کے عالم میں  ۔ ۔
مجھے رلا دو  ۔ ۔ مجھے رلا دو ۔ ۔
یہ طوفاں جو اٹھا ہے وطن میں
یہ جو آگ لگی ہے چمن میں
یہ جو دھوپ جلی ہے عدن میں
یہ جو لوگ آئے ہیں گہن میں
مجھے ان نظاروں میں بسا دو
مجھے رلا دو مجھے رلا دو
رو رہی ہے دھرتی ، روتا ہے آسماں
رو رہا شہر مرا، روتا ہے جہاں
رو رہا ہے ہر پیر و جواں
رو رہا ہے مرا پاکستاں
میرے ہی ہونٹوں پر کی چپ مٹا دو
مجھے رلا دو مجھے رلا دو
Advertisements

One response to this post.

  1. اچھا لکھا ہے!!! نہایت اعلٰی

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: